موسیٰ خیل کو کوہ سلیمان ڈویژن میں شامل کرنے کی مخالفت

موسیٰ خیل کو کوہ سلیمان ڈویژن میں شامل کرنے کا فیصلہ مسترد، عوام کو اعتماد میں لیا جائے ۔ موسی خیل قومی اتحاد

کوئٹہ( سید سردار محمد خوندئی )
ضلع موسیٰ خیل قومی اتحاد کے رہنماؤں سردار عیسیٰ خان موسیٰ خیل اور سردار بہادر خان موسیٰ خیل ملک سید محمد حنیف خوندئی۔ سردار عبداللہ جان جعفر ملا سید نعمت اللہ خوندئی ۔ سردار عالمگیر جعفر ۔ سردار اور دیگر سینکڑوں قبائلی عمائدین نے کہا کہ ضلع موسیٰ خیل کو لورالائی ڈویژن سے الگ کر کے کوہ سلیمان ڈویژن میں شامل کرنے کے مبینہ فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔
ان رہنماؤں نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس فیصلے کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ کسی بھی انتظامی تبدیلی سے قبل عوام، سیاسی و سماجی نمائندوں اور قبائلی عمائدین کو اعتماد میں لیا جائے۔ انتظامی فیصلے سیاسی یا انتخابی مفادات کی بجائے جغرافیائی حقائق کی بنیاد پر کیے جائیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ موسیٰ خیل کی صوبائی اسمبلی کی نشست انتخابات سے قبل بحال کی جائے اور راڑہ شم اور اندر پڑ کو فوری طور پر ضلع موسیٰ خیل کی انتظامی عملداری میں واپس لایا جائے۔ بصورت دیگر اپنے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ اس موقع پر دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
رہنماؤں نے کہا کہ موسیٰ خیل ایک تاریخی، قبائلی اور جغرافیائی شناخت رکھنے والا ضلع ہے۔ حالیہ ممکنہ انتظامی تبدیلیوں اور خصوصاً اسے لورالائی ڈویژن سے الگ کر کے کوہ سلیمان ڈویژن میں شامل کرنے کے مبینہ فیصلے کو ہم مسترد کرتے ہیں۔
تاریخی حقائق بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسیٰ خیل کو 1892ء میں تحصیل کا درجہ دیا گیا جب یہ ژوب ایجنسی کا انتظامی حصہ تھا۔ 1903ء میں اسے ژوب کے انتظامی نظام سے نکال کر لورالائی کے ساتھ منسلک کیا گیا اور اس کے بعد موسیٰ خیل لورالائی کے انتظامی نظام میں ایک تحصیل کی حیثیت سے شامل رہا۔ 1992ء میں موسیٰ خیل کو الگ ضلع کا درجہ دے کر ژوب ڈویژن کا حصہ بنا دیا گیا۔ بعد ازاں جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں سنہ 2000ء میں موسیٰ خیل کی ضلعی حیثیت ختم کر کے اسے دوبارہ ضلع لورالائی کی تحصیل بنا دیا گیا۔ اس فیصلے کے خلاف عوام نے طویل جدوجہد کی اور 2003ء میں موسیٰ خیل سمیت دیگر اضلاع کی ضلعی حیثیت بحال کر دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پی بی-15 موسیٰ خیل کی سیاسی نمائندگی کی تاریخ بھی اس کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ 2002ء کی حلقہ بندی میں اسے اپنی الگ صوبائی نشست دی گئی جو 2008ء اور 2013ء کے انتخابات میں بھی برقرار رہی۔ 2018ء کی حلقہ بندی میں موسیٰ خیل کی الگ صوبائی نشست ختم کر کے اسے شیرانی کے ساتھ شامل کیا گیا۔
2017ء کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق موسیٰ خیل کی آبادی 1 لاکھ 67 ہزار 17 تھی، جبکہ اس وقت بلوچستان کے کئی اضلاع جن کی آبادی موسیٰ خیل سے کم ہے، جن میں دکی، جھل مگسی، سبی، آواران اور دیگر اضلاع شامل ہیں، اپنی الگ نشستیں رکھتے ہیں۔ 2023ء کی مردم شماری میں موسیٰ خیل کی آبادی 1 لاکھ 82 ہزار 275 ریکارڈ ہوئی اور نئی حلقہ بندی میں اسے شیرانی سے الگ کر کے بارکھان کے ساتھ شامل کیا گیا۔
حال ہی میں ضلع موسیٰ خیل کی دو یونین کونسلز راڑہ شم اور اندر پڑ کو انتظامی طور پر موسیٰ خیل سے الگ کر کے بارکھان میں شامل کیا گیا ہے۔ موسیٰ خیل کی انتظامی اور سیاسی شناخت مسلسل تبدیلیوں سے گزر رہی ہے اور ان فیصلوں میں مقامی عوام کی رائے اور خواہشات کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔

Related posts

Leave a Comment