Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

میڈرڈ: اسپین کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا (Ceuta) میں گزشتہ ہفتے مہاجرین کے غیر معمولی اور بڑے پیمانے پر داخلے کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 72 ہو گئی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق ہزاروں افراد مراکش سے سمندر کے راستے یا سرحد عبور کرکے سیوٹا پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے، جس کے دوران متعدد جانیں ضائع ہوئیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 60 ہزار افراد نے مراکش سے اسپین کے زیر انتظام سیوٹا انکلیو میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم ان میں سے اکثریت 48 گھنٹوں کے اندر رضاکارانہ طور پر واپس مراکش لوٹ گئی۔

سیوٹا میں اسپین کی حکومت کے نمائندے میگوئل اینجل پیریز ٹریانو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 72 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اس سے قبل یہ تعداد 67 بتائی گئی تھی۔

سیوٹا میں سیکیورٹی سخت، معمولات زندگی بحال

اتوار کے روز اسپین کی پولیس اور فوجی اہلکار سیوٹا کی سڑکوں پر گشت کرتے رہے جبکہ صورتحال بتدریج معمول پر آ گئی۔ صرف چند چھوٹے گروپ ہی ایسے تھے جو اب بھی علاقے میں موجود تھے، جبکہ بیشتر مہاجرین واپس مراکش جا چکے تھے۔

سیوٹا کی بندرگاہ کے قریب ایک رہائشی منصوبے کے باہر اسپین کے فوجیوں نے نو تھکے ہوئے مہاجرین کو حراست میں لیا۔ موقع پر بکتر بند گاڑیاں بھی تعینات تھیں، جبکہ امدادی ٹیموں کی کشتیوں نے سرحدی سمندر میں گشت جاری رکھا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

سرحدی باڑ کے ساتھ تقریباً 500 میٹر طویل ایک نیا تیرتا ہوا حفاظتی رکاوٹ (Floating Boom) بھی نصب کر دیا گیا ہے تاکہ مزید غیر قانونی داخلے کو روکا جا سکے۔

سرحد پر صفائی اور واپسی کا عمل جاری

ہسپانوی سول گارڈ کے اہلکار متعدد مہاجرین کو بسوں سے اتار کر دوبارہ سرحدی چوکی کی جانب لے گئے، جہاں سے انہیں مراکش واپس بھیجا گیا۔

دوسری جانب صفائی کا عمل بھی جاری رہا، جہاں کارکنان سرحدی علاقے میں پڑے کپڑے، سامان اور دیگر کچرا اکٹھا کرتے نظر آئے، جو مہاجرین کے بڑے ہجوم کے دوران پیچھے رہ گیا تھا۔

افواہوں نے بحران کو ہوا دی

اسپین نے اس بحران کا ذمہ دار انسانی اسمگلروں اور مجرمانہ گروہوں کو قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان گروہوں نے یہ افواہ پھیلائی کہ اسپین کی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد مہاجرین کے لیے ملک میں داخل ہونا آسان ہو گیا ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مراکش نے بھی سفارتی دباؤ بڑھانے کے لیے سرحدی نگرانی میں نرمی اختیار کی۔ ان کے مطابق اسپین کے الجزائر کے ساتھ بہتر ہوتے تعلقات پر مراکش ناخوش ہے، جس کے باعث اس نے بالواسطہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔

یاد رہے کہ 2021 میں بھی تقریباً 10 ہزار مہاجرین سیوٹا میں داخل ہوئے تھے، جب مراکش نے عارضی طور پر سرحدی نگرانی کم کر دی تھی۔

یورپی یونین کا ہنگامی اجلاس

یورپی یونین نے بڑھتے ہوئے مہاجرین کے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے منگل کے روز ایک ہنگامی ویڈیو اجلاس طلب کیا ہے۔ یورپی بلاک کے 22 رکن ممالک نے مشترکہ خط کے ذریعے فوری اور مربوط حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے غیر معمولی سرحدی بحرانوں سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

دریں اثنا، اٹلی نے اسپین کے ساتھ شینگن معاہدے کے تحت ویزا فری نقل و حرکت کو ایک ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے۔

ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے یورپی رہنماؤں کو لکھے گئے خط میں بعض یورپی ممالک کے ردعمل کو “خود غرضانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے اجتماعی یورپی تعاون ناگزیر ہے۔