ریاست کو قریب لانے کا سوال

مینار

 عبدالرحمن پٹیل

کبھی کبھی ریاست کا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ اس کے پاس اختیار کم ہے
مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اختیار شہری سے بہت دور ہے
ایک شخص بیمار ہو تو بڑے علاج کے لیے سینکڑوں میل سفر کرے اعلیٰ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا ہو تو صوبائی دارالحکومت جائے۔ تعلیم، کاروبار، روزگار یا کسی اہم سرکاری فیصلے کی ضرورت ہو تو راستہ پھر اسی بڑے شہر کی طرف نکلے
رفتہ رفتہ دارالحکومت صرف دارالحکومت نہیں رہتا۔ وہ ہسپتال بھی بن جاتا ہے، عدالت بھی، یونیورسٹی بھی، روزگار اور سرمایہ کاری کا مرکز بھی
اور باقی شہر اس کی طرف دیکھتے رہتے ہیں
شاید اسی لیے نئے صوبوں کی موجودہ بحث کو صرف سیاست، زبان یا زمین کی تقسیم کے زاویے سے دیکھنا کافی نہیں
اصل سوال یہ ہے
ایک ریاست اپنے شہری سے کتنی دور ہوسکتی ہے اور پھر بھی مؤثر ریاست رہ سکتی ہے؟
پاکستان کی پہلی مردم شماری 1951ء میں ہوئی۔ موجودہ پاکستان، یعنی اس وقت کے مغربی پاکستان، کی آبادی تقریباً 3 کروڑ 37 لاکھ تھی
2023ء میں یہی آبادی بڑھ کر تقریباً 24 کروڑ 15 لاکھ ہوگئی
آبادی سات گنا سے زیادہ ہوگئی شہر پھیل گئے، معیشت اور ضروریات بدل گئیں، مگر ہمارا بنیادی صوبائی نقشہ تقریباً وہیں کھڑا ہے
صرف پنجاب کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 77 لاکھ اور سندھ کی 5 کروڑ 57 لاکھ ہے
یہاں سوال کسی صوبے کو توڑنے کا نہیں
سوال یہ ہے کہ کیا ایک انتظامی اکائی بھی اتنی بڑی ہوسکتی ہے کہ اسے مؤثر طریقے سے چلانا مشکل ہوجائے؟
ہندوستان کا تجربہ قابلِ غور ہے
1951ء میں اس کی آبادی تقریباً 36 کروڑ تھی آج یہ ایک ارب 46 کروڑ کے قریب ہے مگر ہندوستان نے اپنے داخلی نقشے کو ناقابلِ تغیر نہیں سمجھا
1956ء میں بڑے پیمانے پر ریاستوں کی تنظیم نو ہوئی۔ بعد کے عشروں میں بھی نئی ریاستیں بنتی رہیں۔ آج وہاں 28 ریاستیں اور 8 Union Territories ہیں
1966ء میں پنجاب کی تنظیم نو ہوئی ہریانہ وجود میں آیا، چندی گڑھ Union Territory بنا اور دونوں ریاستوں کا دارالحکومت قرار پایا
پنجاب ختم نہیں ہوا
اس کی تاریخ، زبان اور ثقافت ختم نہیں ہوئی
صرف انتظامی نقشہ بدل گیا
مٹی سے محبت اور انتظامی اصلاح ایک دوسرے کی دشمن نہیں ہوتیں
بنگلہ دیش بھی ایک دلچسپ مثال ہے
1974ء میں اس کی آبادی تقریباً 7 کروڑ 15 لاکھ تھی، جو اب 16 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ وقت کے ساتھ اس نے اپنے اعلیٰ انتظامی divisions بڑھائے اور آج وہاں آٹھ divisions اور 64 districts ہیں
یعنی نسبتاً چھوٹے جغرافیائی ملک نے بھی بڑھتی آبادی کے ساتھ انتظامیہ کو مزید تقسیم کرنے کی ضرورت محسوس کی
پاکستان میں بھی یہی سوال اہم ہے
شمالی سندھ کے کسی دور دراز علاقے کے شہری کو بڑے ہسپتال، اعلیٰ عدالتی یا اہم سرکاری ضرورت کے لیے کراچی کا رخ کرنا پڑے، یا جنوبی پنجاب کے شہری کے لیے لاہور ایک بہت دور انتظامی دنیا بن جائے، تو یہ صرف سفر کا مسئلہ نہیں
یہ ریاست تک رسائی کا مسئلہ ہے
ایک صوبے میں اگر بارہ کروڑ سے زیادہ لوگ آباد ہوں تو ایک وزیراعلیٰ، ایک مرکزی سیکریٹریٹ اور صوبائی سطح کی ایک پولیس قیادت آخر کتنی دور تک یکساں مؤثر نگرانی کرسکتی ہے؟
نقشے پر اختیار اور زمین پر مؤثر موجودگی دو مختلف چیزیں ہیں
انتظامیہ قریب ہو تو نگرانی اور جواب دہی بہتر ہوسکتی ہے عدالت قریب ہو تو انصاف تک رسائی آسان ہوسکتی ہے حکومت قریب ہو تو شہری کے لیے ریاست کسی دور دارالحکومت کی عمارت کا نام نہیں رہتی
لیکن یہاں ایک احتیاط ضروری ہے
صرف نئے صوبے بنا دینا اصلاح نہیں
اگر ایک بڑے مرکز کی جگہ چار چھوٹے مرکز بن جائیں اور اختیار پھر بھی نئے دارالحکومتوں کی چند عمارتوں میں قید رہے تو ہم نے حکومت کو عوام تک نہیں پہنچایا
ہم نے صرف نئے دارالحکومت بنائے
اصل مقصد اختیار کی نچلی سطح تک منتقلی ہونا چاہیے
صوبہ بنے تو ضلع مضبوط ہو، شہر اور بلدیاتی حکومتیں مضبوط ہوں، پولیس اور انتظامیہ کی مقامی جواب دہی بڑھے اور تعلیم، صحت اور انصاف شہری کے قریب آئیں
تب نیا انتظامی مرکز اپنے ساتھ صرف اسمبلی اور سیکریٹریٹ نہیں لاتا
جہاں ادارے جاتے ہیں وہاں ملازمتیں جاتی ہیں۔ جہاں ملازمتیں جاتی ہیں وہاں سرمایہ، رہائش، کاروبار، یونیورسٹیاں، ہسپتال، ہوٹل اور سڑکیں بھی آتی ہیں
یوں ترقی ایک بڑے شہر میں جمع ہونے کے بجائے نئے مراکز میں پھیل سکتی ہے
اگر ہر نوجوان کو تعلیم، ملازمت، علاج اور بہتر زندگی کے لیے لاہور یا کراچی ہی جانا پڑے گا تو ہم بڑے شہروں کو مزید بڑا اور باقی شہروں کو مزید محتاج بناتے رہیں گے
اس بحث میں شناخت اور تاریخی وابستگی کے جذبات یقیناً قابلِ احترام ہیں
لیکن سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ اس مٹی پر رہنے والے انسان کی زندگی کتنی آسان ہے؟
نقشے انسانوں کی سہولت کے لیے بنائے جاتے ہیں
انسان نقشوں کی سہولت کے لیے پیدا نہیں ہوتے
انتظامی لکیر بدلنے سے صدیوں کی تاریخ، زبان، ثقافت اور آباؤ اجداد نہیں بدلتے
البتہ حکومت تک پہنچنے کا فاصلہ بدل سکتا ہے
ہمیں آج یہ طے کرنے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان میں آٹھ صوبے ہوں، بارہ یا سولہ
پہلے اصول طے ہونے چاہییں
آبادی کتنی ہو؟ رقبہ کتنا ہو؟ انتظامی فاصلہ کتنا ہو؟ معاشی استعداد کیا ہو؟ شہری کو عدالت، پولیس، صحت، تعلیم اور حکومت تک پہنچنے میں کتنی دشواری ہو؟
اور سب سے اہم سوال
نئی انتظامی اکائی واقعی اختیار عوام کے قریب لائے گی یا صرف ایک نئی سیاسی اشرافیہ پیدا کرے گی؟
تب بحث جذبات سے نکل کر دلیل میں داخل ہوجائے گی
ریاستیں صرف سرحدیں بدلنے سے کمزور نہیں ہوتیں
وہ اس وقت بھی کمزور ہونے لگتی ہیں جب شہری محسوس کرے کہ دارالحکومت بہت دور ہے
عدالت بہت دور ہے
ہسپتال بہت دور ہے
اختیار بہت دور ہے
اور رفتہ رفتہ ریاست بھی بہت دور محسوس ہونے لگے
اچھی ریاست وہ نہیں جس کا دارالحکومت بہت طاقتور ہو
اچھی ریاست وہ ہے جس کے شہری کو دارالحکومت کی کم سے کم ضرورت پڑے

اسی لیے نئے صوبوں کی اصل بحث زمین تقسیم کرنے کی نہیں
ریاست کو شہری کے قریب لانے کی بحث ہونی چاہیے