برطانوی لگژری کار ساز کمپنی جیگوار لینڈ روور نے چینی کمپنیوں سے بڑھتے ہوئے مقابلے، امریکی ٹیرف اور الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی کے باعث آئندہ دو برس کے دوران تقریباً 4,000 ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ملازمتوں میں کمی کا زیادہ تر اثر کمپنی کے برطانیہ میں قائم ہیڈ آفس پر پڑے گا۔ JLR دنیا بھر میں تقریباً 43,000 افراد کو ملازمت فراہم کرتی ہے۔
کمپنی کے طویل مدتی مسائل گزشتہ سال ہونے والے ایک بڑے سائبر حملے کے بعد مزید سنگین ہوگئے تھے۔ حملے کے نتیجے میں JLR کو ایک ماہ سے زائد عرصے تک اپنی پیداوار بند کرنا پڑی، جس سے کمپنی کی سپلائی چین اور مالی کارکردگی بھی متاثر ہوئی۔
JLR کے چیف ایگزیکٹو پی بی بالاجی نے کہا کہ کمپنی ملازمتوں میں کمی کے عمل کے دوران متاثرہ ملازمین کی مدد کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹو موٹو صنعت کو ٹیکنالوجی میں تیز رفتار تبدیلی، شدید مسابقت اور مسلسل جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔
JLR نے کہا ہے کہ ملازمتوں میں کمی کے لیے ابتدائی طور پر رضاکارانہ ریڈنڈنسی کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ ملازمین کے لیے رضاکارانہ اسکیم میں درخواست دینے کی آخری تاریخ 4 اکتوبر مقرر کی گئی ہے۔
تاہم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ اگر مطلوبہ تعداد پوری نہ ہوئی تو لازمی برطرفیاں بھی کی جا سکتی ہیں، جن میں ملازمین کے لیے نسبتاً کم مراعات ہوں گی۔
متاثرہ ملازمین کو آنے والے دنوں میں کمپنی کی جانب سے ای میل کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا۔
ملازمتوں میں کمی کا بنیادی مقصد کمپنی کے اخراجات کم کرنا ہے۔ JLR کو توقع ہے کہ اس اقدام کے ذریعے آئندہ دو برس میں تقریباً 1.7 ارب پاؤنڈ کی بچت کی جا سکے گی۔
برمنگھم یونیورسٹی کے بزنس اور اکنامکس کے پروفیسر ڈیوڈ بیلی نے JLR کو برطانوی معیشت کے لیے انتہائی اہم کمپنی قرار دیا۔
ان کے مطابق کمپنی سے وابستہ سپلائی چین میں ہزاروں دیگر ملازمتیں بھی ہیں، اس لیے JLR میں پیدا ہونے والے مسائل کا اثر وسیع تر برطانوی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔
JLR کو خاص طور پر چینی کار ساز کمپنیوں سے بڑھتے ہوئے مقابلے کا سامنا ہے۔ کمپنی نے ابتدا میں چین کو اپنی مصنوعات کے لیے ایک اہم ترقی پذیر مارکیٹ کے طور پر دیکھا تھا، تاہم اب چینی برانڈز خود عالمی مارکیٹ میں مضبوط حریف بن چکے ہیں۔
چینی کمپنیوں کی الیکٹرک گاڑیوں میں تیز رفتار پیش رفت نے روایتی عالمی کار ساز اداروں پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف بھی JLR کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گئے ہیں۔
JLR کے کئی حریفوں کے برعکس کمپنی کی امریکہ میں اپنی مینوفیکچرنگ فیکٹری نہیں ہے، جس کے باعث امریکی مارکیٹ میں ٹیرف کے اثرات سے نمٹنا اس کے لیے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔
کمپنی نے مارچ میں ختم ہونے والے مالی سال کے نتائج میں بتایا تھا کہ امریکی ٹیرف اور سائبر حملہ اس کی فروخت میں نمایاں کمی کی بڑی وجوہات تھے۔ کمپنی کی آمدنی گزشتہ دو برسوں میں 29 ارب پاؤنڈ سے کم ہو کر 22.9 ارب پاؤنڈ رہ گئی۔
ماہرین نے امریکی پلانٹ نہ لگانے پر سوال اٹھا دیے
BMW کے سابق ڈائریکٹر ایان رابرٹسن نے بی بی سی کے پروگرام Today سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ JLR کو اپنے حریفوں کی طرح پہلے ہی امریکہ میں گاڑیوں کی پیداوار شروع کر دینی چاہیے تھی۔
انہوں نے BMW کی جنوبی کیرولائنا میں موجود اسپارٹن برگ فیکٹری اور مرسڈیز بینز کے ٹسکالوسا پلانٹ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ JLR نے امریکہ میں مینوفیکچرنگ کا فیصلہ بروقت نہیں کیا۔
JLR اب اخراجات کم کرنے، کاروباری ڈھانچے کو بہتر بنانے اور عالمی آٹو موٹو مارکیٹ میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔


