تین چھٹیوں کا خودکش فیصلہ: پاکستان کی معیشت کو سالانہ 15 کھرب روپے کا نقصان
میاں افتخار احمد
پاکستان کے پالیسی میکرز نے ہفتے میں تین چھٹیاں کرنے کے فیصلے پر غور شروع کیا ہے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ لوگ ماضی کے تجربات سے سبق سیکھنے کے قابل نہیں رہے یا پھر یہ کسی ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں جو ملک کی معیشت اور عوام کی زندگیوں کو تباہ کرنے کا باعث بنے گا۔ سٹی 41 پر نشر ہونے والی ایک نیوز کے مطابق ہفتے میں تیل بچانے کے لیے تین چھٹیوں پر غور کیا جا رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو مکمل تعطیل ہو گی اور سرکاری و نجی دفاتر ہفتے میں صرف چار دن کام کریں گے۔ اس فیصلے کے پیچھے دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ اس سے سڑکوں پر گاڑیوں کی نقل و حمل میں نمایاں کمی آئے گی اور ایندھن کی کھپت میں بچت ہوگی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اس سے تیل کی بچت ہوگی یا یہ صرف ایک ایسا فیصلہ ہے جو معیشت کو مزید تباہی کی طرف دھکیل دے گا۔تیل کی بچت کے نام پر عوام کی قربانی پالیسی میکرز کی سوچ کا زوال ہے ۔ یہ پالیسی تعلیم کا قتل عام اور نسلِ نو کا مستقبل برباد کرنے کے مترادف ہے۔ 800 ملین ڈالر ماہانہ تیل کا بل اور ایسی پالیسیاں پالیسی میکرز کی بے بسی کا بہترین نمونہ ہیں ۔ 45ایک محتاط اندازے کے مطابق اس سے 75 ارب روپے ہفتہ وار نقصان ہو گا۔ ہفتے میں تین چھٹیاںسے عدلیہ مفلوج، صنعت مفلوج، معیشت مفلوج ہو جائے گی۔ کورونا کے دور کا سبق کیوں بھلا دیا گیا ہے۔ مارکیٹوں کے اوقات کار میں کمی کیوں نہیں کی جاتی ہے ۔حکومت پاکستان نے مارچ 2026 میں بھی ایسے ہی حالات میں تین چھٹیاں کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت سرکاری دفاتر میں 50 فیصد عملے کو ورک فرام ہوم کی سہولت دی گئی تھی اور حکومتی گاڑیوں کے ایندھن کوٹے میں 50 فیصد کمی کی گئی تھی جبکہ 60 فیصد گاڑیاں عارضی طور پر بند کر دی گئی تھیں۔ اس وقت یہ اقدامات دو ماہ کے لیے کیے گئے تھے لیکن بعد میں ان میں توسیع بھی کی گئی۔ اب ستمبر 2026 میں دوبارہ یہی تجویز زیر غور ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پالیسی میکرز کے پاس کوئی نیا حل موجود نہیں ہے اور وہ صرف پرانے نسخے دہرا رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کا تیل درآمدی بل پہلے ہی بے قابو ہو چکا ہے۔ مارچ سے جولائی 2026 کے پانچ مہینوں میں پاکستان کا پٹرولیم درآمدی بل تقریباً 7.7 سے 7.9 بلین ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 6.6 بلین ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زیادہ ہے۔ ایران کی جنگ اور آبنائے ہرمز میں شپنگ کی رکاوٹوں کی وجہ سے جون 2026 میں پٹرولیم درآمدی بل تقریباً 1.91 بلین ڈالر تک پہنچ گیا تھا جو ایک مہینے میں 46 فیصد کا اضافہ تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے خود اعتراف کیا تھا کہ پاکستان کا ہفتہ وار تیل درآمدی بل 300 ملین ڈالر سے بڑھ کر 800 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو 167 فیصد کا خوفناک اضافہ ہے۔
اگر ہم اس فیصلے کے معاشی اثرات کا جائزہ لیں تو پاکستان میں پہلے ہی سالانہ تقریباً 120 چھٹیاں ہوتی ہیں اور ایک دن کی چھٹی کی وجہ سے ملکی جی ڈی پی کو 1 سے 2 فیصد کا نقصان ہوتا ہے جو 100 ارب روپے سے زائد رقم بنتا ہے۔ ایک عام تعطیل سے قومی خزانے پر 1.1 سے 1.3 بلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے اور اگر یہ نقصان تین چھٹیوں پر محیط ہو تو سالانہ بنیادوں پر یہ رقم 15 کھرب روپے سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ چین اسٹور ایسوسی ایشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق مارکیٹوں کے اوقات کار میں موجودہ پابندیوں سے ہر ہفتے تقریباً 45 سے 75 ارب روپے کی دستاویزی ریٹیل سرگرمی متاثر ہو رہی ہے جبکہ ایف بی آر کو ہر ہفتے 10 ارب روپے تک کے ٹیکس ریونیو کا نقصان ہو رہا ہے۔ اگر تین چھٹیاں نافذ کی جائیں تو صرف ریٹیل سیکٹر میں ایک دن کا نقصان تقریباً 56 ارب روپے، دو دن کا 115 ارب روپے اور جمعہ کے اضافے کے ساتھ یہ تقریباً 150 ارب روپے فی ہفتہ تک پہنچ سکتا ہے۔ مارکیٹوں کے رات 8 بجے بند ہونے کی وجہ سے صرف دو ہفتوں کے اندر ریٹیل سیکٹر کو 200 بلین روپے کا نقصان ہوا تھا اور یہ پالیسی پہلے ہی تاجروں
کی شدید مخالفت کا سامنا کر رہی ہے۔

تاجروں کی تنظیموں نے واضح طور پر اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔ سنٹرل انجمن تاجران کے صدر شرجیل میر، کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے صدر سلیم پرویز بٹ اور دیگر تاجر رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ مارکیٹوں کو رات 10 یا 11 بجے تک کھولنے کی اجازت دی جائے اور اگر حکومت نے دوبارہ پابندیاں لگانے کی کوشش کی تو اسے سخت مزاحمت اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان علاقائی کشیدگی کم ہو گئی ہے اور کاروباری سرگرمیاں بڑھنے اور ایندھن کے دباؤ میں کمی کے باعث یہ پالیسی غیر ضروری ہو گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مارکیٹوں کی جلد بندی سے تاجروں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اگر دوبارہ یہ اقدام اٹھایا گیا تو اسے شدید مخالفت کا سامنا ہوگا۔تعلیمی شعبے پر اس فیصلے کے اثرات مزید تباہ کن ہوں گے۔ آل پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر ابرار حسین ملک نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہفتے میں تین چھٹیوں سے بچوں کی تعلیم کو شدید نقصان ہوگا اور طویل ویک اینڈ سے طلبہ کا تعلیمی نقصان بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ 3 چھٹیاں تعلیمی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچائیں گی اور نجی تعلیمی اداروں کا نوٹیفکیشن فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ سوات اور شنگلہ جیسے دور دراز علاقوں میں بھی نجی اسکولوں کی انتظامیہ نے تین چھٹیوں کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی دنوں کی تعداد پہلے ہی کم ہے اور جمعہ اور ہفتہ کی اضافی چھٹیوں سے طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو مزید خطرات لاحق ہوں گے۔ شنگلہ میں تعلیمی اسٹیک ہولڈرز نے تشویش کا اظہار کیا کہ جمعہ سے اتوار تک اسکول بند رکھنے سے پہلے سے کمزور تعلیمی نظام کو خاص طور پر دور دراز اور پہاڑی اضلاع میں شدید خطرہ لاحق ہوگا۔ پنجاب میں تو تعلیمی نقصان کو پورا کرنے کے لیے گرمیوں کے کیمپ لگانے کی اجازت دینی پڑی تاکہ طلبہ کے ضائع شدہ تعلیمی دنوں کی تلافی ہو سکے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں صرف 15 سے 20 فیصد طلبہ کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہے، اس لیے آن لائن کلاسز کا آپشن بھی زیادہ تر طلبہ کے لیے دستیاب نہیں ہے اور اگر تعلیمی ادارے بند رہے تو ان کے پاس سیکھنے کا کوئی متبادل ذریعہ نہیں ہوگا۔
عدلیہ پر بھی اس فیصلے کے منفی اثرات مرتب ہو چکے ہیں۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سعید یوسف خان، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر طارق محمود اور دیگر سینئر وکلاء نے جمعہ اور ہفتہ کی عدالتی چھٹیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ تین مسلسل ہفتہ وار چھٹیوں نے عدالتی نظام کو مفلوج کر دیا ہے، اہم مقدمات کی سماعت میں تاخیر ہو رہی ہے اور بروقت انصاف کی فراہمی مشکل ہو گئی ہے۔ وکلاء نے مطالبہ کیا کہ تمام عدالتوں کو جمعہ اور ہفتہ کو معمول کے مطابق کام کرنے کی ہدایت جاری کی جائے۔کورونا کے دور میں جب مارکیٹوں کو شام 6 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تو اس سے تیل کی کھپت اور بجلی کی طلب میں واضح کمی واقع ہوئی تھی۔ اس وقت کاروباری مراکز شام 6 بجے بند ہونے سے بزنس سینٹر میں بجلی کی کھپت ختم ہو گئی تھی اور وہ مارکیٹیں جو دن 12 بجے کھلتی تھیں وہ صبح 8 بجے کھلنا شروع ہو گئی تھیں۔ کورونا لاک ڈاؤن کے دوران پاکستان میں توانائی کی طلب میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی اور بجلی کی پیداوار میں تقریباً 1786 گیگاواٹ آور کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ مارچ 2020 میں ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے بعد بجلی کی کھپت میں سال بہ سال 9 فیصد کمی واقع ہوئی تھی۔ یہی تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر مارکیٹوں کے اوقات کار کو منظم کیا جائے تو ایندھن کی بچت کی جا سکتی ہے لیکن مکمل تین چھٹیاں کرنا اس کا حل نہیں ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا تھا کہ کورونا کے عروج کے دوران مارکیٹوں کی جلد بندی کا تجربہ کامیابی سے کیا گیا تھا اور تاجروں اور دکانداروں کے ناراض ہونے کے باوجود عوام نے بڑی حد تک اسے اپنا لیا تھا۔ انہوں نے تجویز دی کہ مارکیٹوں کو رات 8 بجے اور ریسٹورنٹس اور شادی ہالوں کو رات 10 بجے بند کیا جائے جبکہ حکومتی اور نجی دفاتر کو پانچ دن کام کرنے کی اجازت دی جائے اور ورک فرام ہوم کی ثقافت کو فروغ دیا جائے۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان نے مارچ 2026 میں عالمی تنازعے کے پیش نظر ایندھن کی بچت کے اقدامات کیے تھے جن کے تحت سرکاری اور نجی دفاتر میں 50 فیصد تک عملے کو ورک فرام ہوم کی پالیسی اپنانے کی ضرورت تھی۔ عالمی ادب میں ورک فرام ہوم کو توانائی کی بچت کا مؤثر ذریعہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس سے دفتری سامان، روشنی، ایئر کنڈیشننگ اور جنریٹرز کے ایندھن کی کھپت میں کمی آتی ہے۔ تاہم پاکستان میں اس پالیسی کے مؤثر نفاذ کے حوالے سے سوالات موجود ہیں کیونکہ سرکاری دفاتر میں عدم اعتماد، پیشہ ورانہ بے ایمانی، چند ملازمین پر غیر متناسب بوجھ اور ڈیٹا سیکیورٹی کے خدشات جیسے مسائل سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کے سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم کو کامیاب بنانے کے لیے مؤثر مواصلاتی نظام، کام کی اخلاقیات اور واضح تنظیمی قواعد کی ضرورت ہے جو فی الوقت موجود نہیں ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہفتے میں تین چھٹیاں کرنا ایک قلیل مدتی اور غیر مؤثر حل ہے جو معیشت، تعلیم اور عوام کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔ پاکستان کو توانائی کی پالیسی میں اصلاحات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، نہ کہ عارضی اور غیر منطقی فیصلوں پر جو ملکی معیشت کو مزید کمزور کریں۔ شمسی توانائی کی طرف منتقلی، عوامی نقل و حمل کو بہتر بنانا، توانائی کی بچت کے جدید طریقے اپنانا اور صنعتوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا وہ اقدامات ہیں جو طویل مدتی بنیادوں پر توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ الطاف شکور نے کہا تھا کہ پاکستان کو شمسی توانائی کی طرف جانا چاہیے اور ہر رہائشی یونٹ، دکان، فیکٹری، دفتر، اسکول اور ہسپتال کو شمسی توانائی پر منتقل ہونا چاہیے کیونکہ اگر حکومت مناسب مراعات دے تو لاکھوں یونٹس مکمل یا جزوی طور پر شمسی توانائی سے چل سکتے ہیں اور بجلی کی بچت ناقابل تصور حد تک بڑھ سکتی ہے۔
پالیسی میکرز کی سب سے بڑی حماقت یہ ہے کہ وہ ماضی کے تجربات سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ مارچ 2026 میں جب یہی تجویز نافذ کی گئی تھی تو پرائیویٹ اسکولوں، تاجروں اور صنعتکاروں نے اسے مسترد کر دیا تھا اور بعد میں حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا تھا۔ کورونا کے دوران مارکیٹوں کے اوقات کار میں کمی سے جو بچت ہوئی تھی، وہ ایک مربوط اور عارضی حکمت عملی کا نتیجہ تھی، نہ کہ مکمل چھٹیوں کا۔ اگر حکومت واقعی توانائی کی بچت کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ مارکیٹوں کے اوقات کار کو منظم کرے، ورک فرام ہوم کو فروغ دے، عوامی نقل و حمل کو بہتر بنائے اور توانائی کے متبادل ذرائع پر سرمایہ کاری کرے۔ ہفتے میں تین چھٹیاں کرنا ایک ایسا فیصلہ ہے جو نہ صرف کاروبار اور تعلیم کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ توانائی کی بچت کا بھی مؤثر حل نہیں ہے۔
حکومتی رپورٹس، تھنک ٹینکس کی رپورٹس اور سوشل میڈیا پر بھی اس تجویز کے خلاف شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ حکومت توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے حقیقی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے عوام کو مزید مشکلات میں دھکیل رہی ہے۔ تاجروں کی تنظیموں نے واضح طور پر کہا ہے کہ تین چھٹیاں کاروبار کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنیں گی اور حکومت کو چاہیے کہ وہ صنعتکاروں اور تاجروں کی تجاویز کو خاطر میں لائے۔ سوشل میڈیا پر بھی صارفین نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عوام کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے اور یہ کہ توانائی کی بچت کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔پاکستان کے پالیسی میکرز کو یہ سمجھنا چاہیے کہ تین چھٹیاں کرنا کوئی حل نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو ملک کو مزید معاشی بدحالی اور سماجی مسائل کی طرف دھکیل دے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ماضی کے تجربات سے سبق سیکھے، ماہرین کی رائے کو اہمیت دے اور ایک جامع اور پائیدار توانائی کی پالیسی تیار کرے جو ملک کی معیشت، تعلیم اور عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو۔ ورنہ تین چھٹیوں کا یہ فیصلہ تاریخ میں ایک اور بڑی حماقت کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے ایک غریب اور پسماندہ قوم کو مزید پسماندگی کی طرف دھکیل دیا۔