سوات: ضلع سوات کے علاقے کبل میں واقع کبل پولیس اسٹیشن کے باہر اتوار کے روز ہونے والے ہولناک خودکش حملے میں کم از کم 15 افراد شہید ہوگئے، جن میں 6 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ دھماکے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق خودکش حملہ آور نے کبل پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم گیٹ پر تعینات پولیس اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے روک لیا۔ اس پر حملہ آور نے پولیس اسٹیشن کے مرکزی دروازے کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا اور متعدد افراد موقع پر ہی شہید اور زخمی ہوگئے۔
مالاکنڈ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سید فدا حسین نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کی مستعدی اور بہادری کے باعث حملہ آور پولیس اسٹیشن کے اندر داخل نہ ہو سکا، ورنہ جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) محمد عمر کے مطابق دھماکہ کبل چوک کے قریب پیش آیا، جہاں اس وقت شہریوں کی آمد و رفت جاری تھی۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے ایک انسانی سر بھی برآمد ہوا ہے، جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ خودکش حملہ آور کا ہے۔ فرانزک ٹیموں نے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جبکہ حملہ آور کی شناخت اور اس کے سہولت کاروں کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق دھماکے کے وقت کبل چوک کے قریب مقامی نوجوانوں کا ایک احتجاج بھی جاری تھا، جس کے باعث وہاں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اسی وجہ سے جانی نقصان میں اضافہ ہوا اور کئی عام شہری بھی دھماکے کی زد میں آ گئے۔
اسپتال انتظامیہ نے زخمیوں کی آمد کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کر دی، جبکہ ڈاکٹرز اور طبی عملے کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے مزید کسی ممکنہ خطرے کے پیش نظر سرچ آپریشن کیا۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا عمل جاری ہے۔
حکومتی اور سیاسی شخصیات نے اس دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوت سے جاری رہے گی۔
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور ملک میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی۔ واقعے کے بعد سوات اور گردونواح میں حساس مقامات کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ تحقیقات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔



