اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت کو ہدایت دی ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان، جس میں انہوں نے ملکی نظام کو “کولیبسڈ سسٹم” قرار دیا تھا، پر کسی بھی قسم کا عوامی ردعمل دینے سے گریز کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ قومی حالات میں ریاستی اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور منتخب حکومت و عسکری قیادت کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔
ذرائع کے مطابق نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں سے کہا کہ پاکستان کو اس وقت معاشی، سیاسی اور سیکیورٹی سمیت متعدد سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، لہٰذا کسی بھی ایسے بیان یا عمل سے اجتناب کیا جائے جس سے وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان اختلافات کا تاثر پیدا ہو۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان اعتماد، رابطے اور باہمی تعاون کی فضا کو ہر صورت برقرار رکھنا قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ ان کے مطابق ریاستی اداروں کی مشترکہ حکمت عملی ہی ملک کو درپیش مسائل سے نکالنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
محسن نقوی کے بیان پر پارٹی کے اندر تحفظات
ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے متعدد سینئر رہنماؤں نے نواز شریف کے سامنے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر داخلہ محسن نقوی کو انتظامی نظام یا گورننس کے حوالے سے تحفظات تھے تو انہیں عوامی تقریب میں بیان کرنے کے بجائے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں زیر بحث لانا چاہیے تھا۔
پارٹی رہنماؤں کے مطابق “نظام کے مکمل طور پر ناکام ہونے” کا تاثر عوام میں یہ سوال پیدا کر سکتا ہے کہ حکومت کی اصلاحاتی کوششیں مطلوبہ نتائج کیوں حاصل نہیں کر پا رہیں۔ ان کا خیال تھا کہ ایسے بیانات غیر ضروری سیاسی بحث کو جنم دیتے ہیں اور حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھانے کا سبب بن سکتے ہیں۔
اختلافات کی خبروں کی تردید
ذرائع نے واضح کیا کہ ان اندرونی تحفظات کے باوجود اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان کسی بھی قسم کے تصادم یا اختلاف کی بات درست نہیں۔ ان کے مطابق سول اور عسکری قیادت ملک کے اہم قومی معاملات پر مکمل طور پر ایک ہی صفحے پر ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں قیادتیں معاشی بحالی، قومی سلامتی، سرمایہ کاری کے فروغ، گورننس میں بہتری اور انتظامی اصلاحات سمیت اہم قومی ترجیحات پر مسلسل رابطے اور تعاون کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔
قومی مفاد کو اولین ترجیح
نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں قومی مفاد کو ہر سیاسی مصلحت پر ترجیح دی جائے اور ایسے بیانات سے گریز کیا جائے جو ریاستی اداروں کے درمیان اختلافات کا تاثر پیدا کریں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ہدایات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت موجودہ حالات میں سیاسی استحکام، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو برقرار رکھنے کی خواہاں ہے تاکہ ملک کو درپیش معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان مضبوط رابطہ اور مشترکہ حکمت عملی آئندہ بھی ملکی استحکام، اقتصادی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل رہے گی۔



