جب آپ تشریف لائے | نعتیہ کلام از محمد محسن اقبال

جب آپ تشریف لائے

وہ دن بھی کیا خوب ہوگا، جب آپ تشریف لائے
عرش و فرش پہ رب نے سلامِ عشق کے دیے جلائے
تھی ظلمتوں میں ڈوبی ہوئی دنیا کی ہر راہ
آپ آئے تو نور کے چشمے ہر سو پھوٹ آئے
عرب کی تپتی ریت نے جب آپ کو پکارا
صحرا کے ذرے ذرے نے گلشن کے رنگ پائے
دنیا جو تھی اندھیروں میں، بے سمت و بے سہارا
آپ آئے تو زندگی نے مقصد کے راز پائے
آپ آئے تو مدینے کی مٹی بھی خوش نصیب ہوئی
صحرا کے خار و خس نے بھی خوشبو کے رنگ پائے
بادل بھی آپ کے لیے سایہ فگن رہے تھے
خورشید نے بھی جھک کر اپنے شعاعیں چھپائے
آفاق پر کرم کی وہ بارش ہوئی کہ جیسے
سوکھے ہوئے دلوں نے پھر چشمے نئے پائے
ہر سمت رنگ و نور کی برسات ہونے لگی
ذروں نے آپ کے قدموں سے منزل کے راز پائے
ہر اک غریب و بے کس کو آسرا ملا ہے
ہر درد مند دل نے مرہم کے لمس پائے
معلوم نہیں وہ ہاتھ کہاں تک پہنچ رہے ہیں
جو آپ کے کرم سے خالی تھے، بھر کے آئے
چشمِ جہاں کی حیرت بڑھتی ہی جا رہی ہے
جب سے مدینے والے دنیا میں تشریف لائے
لب پر درود ہو اور دل میں ہو عشقِ احمد ﷺ
یہ زندگی بھی گزرے، یہ آخرت بھی سنور جائے
محسن بھی اُن کے در کا اک ذرّہ بن کے جیتا
جن کی نظر پڑی تو قسمت کے دن سنور آئے

محمد محسن اقبال

Latest Posts