بیلجیم میں خوفناک جنگلاتی آگ بے قابو، 16 مربع کلومیٹر علاقہ متاثر

برسلز: جرمنی کی سرحد کے قریب بیلجیم کے ہاؤٹس فگنیز نیچرل پارک میں تیزی سے پھیلنے والی جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹرز، واٹر بمبار طیارے اور ہیلی کاپٹرز مصروف ہیں، جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آگ نے کم از کم 16 مربع کلومیٹر (6 مربع میل) رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

بیلجیم کے مختلف علاقوں سے اضافی فائر فائٹنگ عملہ مشرقی والونیا میں واقع پارک پہنچا دیا گیا ہے۔ آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں یورپی ممالک بھی تعاون کر رہے ہیں اور یورپی یونین کے سول پروٹیکشن میکانزم کے تحت فضائی معاونت فراہم کی جارہی ہے۔

والونیا کی علاقائی انتظامیہ کے ترجمان نکولس یرنو نے بتایا کہ آگ تاحال قابو سے باہر ہے۔ ان کے مطابق یہ آگ جمعہ کو شروع ہوئی تھی اور رات کے دوران اس کے رقبے میں تیزی سے اضافہ ہوا، جس کے باعث قریبی آبادیوں کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

آگ کے قریب واقع سوربروڈٹ گاؤں میں تقریباً 500 افراد رہتے ہیں اور صورتحال مزید خراب ہونے کی صورت میں انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابھی انخلا کا حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم رہائشیوں کو ممکنہ طور پر علاقہ چھوڑنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

والونیا کے ترجمان نے کہا کہ آگ کے گھروں تک پہنچنے کا خطرہ موجود ہے تاہم فائر فائٹرز اور دیگر امدادی ادارے رہائشی علاقوں کو محفوظ رکھنے کے لیے دستیاب تمام وسائل استعمال کر رہے ہیں۔

مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ممکنہ انخلا کی صورت میں ضروری سامان پہلے سے تیار رکھیں۔ دھوئیں کے باعث لوگوں کو دروازے اور کھڑکیاں بند رکھنے اور حکام کی جانب سے جاری ہونے والی ہدایات پر نظر رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

آگ کے قریب واقع ایوپن میں بھی صورتحال واضح طور پر محسوس کی گئی، جہاں آسمان بتدریج زرد ہوتا دکھائی دیا اور دور تک دھوئیں کے بلند بادل نظر آئے۔ علاقے میں موجود صحافیوں کے مطابق دھوئیں نے فضا کو متاثر کردیا ہے۔

حکام کے مطابق آگ پر قابو پانے کی کارروائی موسمی اور جغرافیائی حالات سے بھی متاثر ہورہی ہے۔ ہاؤٹس فگنیز کا علاقہ جھاڑیوں، دلدلی زمین، پیٹ بوگز اور لکڑی کے پیدل راستوں پر مشتمل ہے، جس کے باعث فائر فائٹرز کے لیے بعض علاقوں تک پہنچنا انتہائی مشکل ہے۔

نکولس یرنو کے مطابق بعض مقامات پر فائر فائٹرز کو جنگل کے کنارے تک پیچھے ہٹنا پڑا اور کچھ خشک گھاس اور جھاڑیوں والے علاقوں کو جلنے کے لیے چھوڑ دیا گیا، کیونکہ وہاں امدادی ٹیموں کا پہنچنا انتہائی مشکل تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پانے کے لیے فضائی وسائل انتہائی اہم ہیں۔ واٹر بمبار طیارے اور ہیلی کاپٹرز آگ کے شعلوں پر پانی گرا رہے ہیں جبکہ زمین پر موجود فائر فائٹرز آگ کو مزید پھیلنے سے روکنے اور قریبی آبادیوں کے تحفظ کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہاؤٹس فگنیز میں جنگلاتی آگ کو بیلجیم کی تاریخ کی بڑی آگ میں شمار کیا جارہا ہے۔ حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور آگ کو قابو میں لانے کے لیے ملکی اور یورپی امدادی وسائل استعمال کیے جارہے ہیں۔

Latest Posts