Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

غزہ سٹی: غزہ کی سول ڈیفنس اتھارٹی نے ہفتہ کے روز بتایا کہ غزہ شہر کے جنوبی علاقے صبرہ میں ملبے تلے دبے مزید 112 افراد کی باقیات برآمد کر لی گئی ہیں۔ یہ کارروائی کئی روز تک جاری رہنے والی کھدائی کے بعد مکمل ہوئی، جہاں امدادی کارکنوں نے زیادہ تر کام بھاری مشینری کی عدم دستیابی کے باعث اپنے ہاتھوں سے انجام دیا۔

سول ڈیفنس کے مطابق 136 گھنٹے جاری رہنے والی سرچ آپریشن کے دوران برآمد ہونے والی باقیات میں 40 بچوں، 38 خواتین اور 7 معذور افراد کی باقیات بھی شامل ہیں۔

ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی (ICRC) نے بتایا کہ اس نے تقریباً دو ہفتوں پر محیط اس امدادی کارروائی میں تعاون فراہم کیا۔

غزہ میں آئی سی آر سی کی ترجمان امانی النعوق نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برس سے ہزاروں خاندان اپنے پیاروں کی باقیات کی بازیابی کے منتظر ہیں تاکہ انہیں باعزت طریقے سے سپردِ خاک کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ لاپتا افراد کی تلاش اور انسانی باقیات کی بازیابی ایک نہایت اہم انسانی مسئلہ ہے، جس پر مسلسل توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

سول ڈیفنس کے افسر کرنل محمد ابو دان کے مطابق امدادی ٹیموں کا خیال ہے کہ صبرہ کے علاقے میں اب بھی 157 افراد کی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، جنہیں نکالنے کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تباہ شدہ عمارتوں کے کنکریٹ اور مڑے ہوئے لوہے کے ڈھانچوں کے درمیان ہاتھوں سے کھدائی کرنا انتہائی دشوار اور وقت طلب عمل ہے۔

امدادی اداروں کے مطابق غزہ بھر میں اب بھی ہزاروں افراد لاپتا ہیں اور خدشہ ہے کہ ان کی باقیات مختلف علاقوں میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے موجود ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق غزہ میں میڈیا کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں اور محدود رسائی کے باعث ہلاکتوں اور دیگر اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں۔

حماس کے زیرانتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 73 ہزار 300 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وزارتِ صحت کے فراہم کردہ مجموعی اعداد و شمار کو عمومی طور پر قابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے۔

یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو اس وقت شروع ہوئی تھی جب حماس کے مسلح ارکان نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اس حملے میں 1,221 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کیا گیا، جس کے بعد خطے میں وسیع پیمانے پر جنگ چھڑ گئی۔