Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

غزہ سٹی: اسرائیلی فوج نے جمعرات کو غزہ کے مختلف علاقوں کے لیے انخلا کے احکامات جاری کرنے کے بعد فضائی حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم دو فلسطینی شہید اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ مقامی طبی ذرائع کے مطابق تازہ حملوں نے جنگ زدہ علاقے میں پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

یہ حملے گزشتہ سال امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود کیے گئے، جس سے خطے میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

انخلا کے احکامات کے فوراً بعد بمباری

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے چار مختلف علاقوں کے مکینوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کی، جس کے کچھ ہی دیر بعد انہی مقامات پر شدید فضائی حملے کیے گئے۔

غزہ سٹی میں ہونے والے ایک حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس پر قابو پانے کے لیے سول ڈیفنس کی ٹیمیں کئی گھنٹوں تک امدادی کارروائیوں میں مصروف رہیں۔

پناہ گزین کیمپ اور رہائشی علاقے نشانہ بنے

اسرائیلی فضائی حملوں میں البریج اور جبالیہ پناہ گزین کیمپوں کے علاوہ غزہ سٹی کے زیتون اور تل الہویٰ علاقوں میں متعدد رہائشی مکانات تباہ ہو گئے۔

زیتون کے علاقے میں ایک رہائشی عمارت پر ہونے والے علیحدہ حملے میں کئی افراد زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔

بے گھر ہونے والے خاندانوں کی مشکلات میں اضافہ

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ مسلسل انخلا کے احکامات نے ہزاروں خاندانوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ کئی افراد رات کی تاریکی میں اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوئے، جبکہ بڑی تعداد میں متاثرہ خاندانوں کے پاس محفوظ پناہ گاہ موجود نہیں۔

انسانی امدادی ادارے بھی خبردار کر چکے ہیں کہ بار بار نقل مکانی کے باعث خوراک، صاف پانی، طبی سہولیات اور رہائش تک رسائی مزید محدود ہو گئی ہے۔

ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 73,311 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ اکتوبر 2025 میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی 1,185 سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

تازہ حملوں کے بعد بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی فراہمی اور جنگ بندی پر مؤثر عمل درآمد کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔