اسلام آباد: پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع سوراب اور مستونگ میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران انٹیلی جنس بنیادوں پر کی جانے والی کارروائیوں میں 10 دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ دو خواتین خودکش حملہ آوروں اور ان کے ایک سہولت کار کو گرفتار کر لیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سوراب میں ہونے والی کارروائی میں سات دہشت گرد مارے گئے، جبکہ مستونگ میں تین دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ اسی دوران مستونگ میں دو خواتین خودکش حملہ آوروں اور ان کے مبینہ سہولت کار کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائیاں بلوچستان میں بھارت کے حمایت یافتہ “فتنہ الہندوستان” اور “فتنہ الخوارج” کے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف جاری آپریشنز کا حصہ ہیں، جن کا مقصد دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ ہے۔
حکومت پاکستان کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو “فتنہ الخوارج” جبکہ بلوچستان میں سرگرم بھارت نواز دہشت گرد گروہوں کو “فتنہ الہندوستان” کے نام سے موسوم کرتی ہے تاکہ پاکستان میں دہشت گردی اور بدامنی میں بھارت کے مبینہ کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔
بیان کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران سوراب اور مستونگ میں متعدد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs)، علاقے کی کلیئرنس اور ٹارگٹڈ کارروائیاں کی گئیں، جن کے نتیجے میں مجموعی طور پر 10 دہشت گرد مارے گئے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گرفتار کی گئی دونوں خواتین خودکش حملہ آور اور ان کا سہولت کار فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں۔
کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد (IEDs) بھی برآمد کیا گیا۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے مزید کہا کہ علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی باقی ماندہ بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد یا ان کے سہولت کار کو گرفتار یا ہلاک کیا جا سکے۔
آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور بلوچستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔






