Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

وزیر ماحولیات نے پانی کی قلت، فصلوں کو خطرات اور اکتوبر میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے عوام کو احتیاط کی ہدایت کر دی۔

کولمبو: سری لنکا کی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو (El Niño) موسمیاتی رجحان کے باعث ملک کو پہلے شدید خشک سالی اور بعد ازاں تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے زراعت، آبی ذخائر اور معیشت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

سری لنکا کے وزیر ماحولیات دھمیکا پٹابندی نے جمعرات کو بتایا کہ حکومت نے ممکنہ موسمی بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں، جبکہ آبپاشی اور پینے کے پانی کے ذخائر کو احتیاط سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ستمبر کے اختتام تک شدید خشک موسم برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث آئندہ دو ماہ کے دوران پینے کے پانی کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔

وزیر ماحولیات نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پانی کا استعمال انتہائی احتیاط سے کریں تاکہ ممکنہ بحران سے نمٹا جا سکے۔

اکتوبر میں شدید بارشوں اور سیلاب کی پیش گوئی

دھمیکا پٹابندی کے مطابق اکتوبر میں شروع ہونے والی شمال مشرقی مون سون بارشیں ملک کے مختلف علاقوں میں شدید سیلاب کا سبب بن سکتی ہیں۔

انہوں نے کسانوں کو مشورہ دیا کہ وہ معمول سے تقریباً دو ہفتے پہلے، یعنی اکتوبر کے آغاز میں دھان کی کاشت شروع کریں تاکہ ممکنہ سیلاب سے فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کو کم کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت فصلوں، خصوصاً چاول کی پیداوار کو محفوظ رکھنے کے لیے بہتر سیلابی انتظامات پر بھی کام کر رہی ہے۔

ایل نینو کے اثرات سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات

حکومت نے اگرچہ ابھی تک ایل نینو سے معیشت کو ہونے والے ممکنہ نقصان کا تخمینہ جاری نہیں کیا، تاہم اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ایک وزارتی ٹاسک فورس قائم کر دی گئی ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق ملک کے آبی ذخائر اس وقت تقریباً 57 فیصد بھرے ہوئے ہیں، جبکہ دن کے وقت بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ پانی کے ذخائر کو محفوظ رکھا جا سکے۔

لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خطرہ

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اکتوبر میں متوقع شدید بارشوں کے باعث سری لنکا کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

یہ وہی علاقے ہیں جو گزشتہ نومبر سائیکلون ڈٹواہ (Ditwah) کے دوران شدید متاثر ہوئے تھے۔

اس قدرتی آفت نے تقریباً پورے 2 کروڑ 20 لاکھ آبادی والے ملک کو متاثر کیا تھا، جس میں قریب 650 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ورلڈ بینک کے مطابق صرف بنیادی ڈھانچے کو ہونے والا نقصان تقریباً 4.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔

ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی دنیا بھر میں شدید موسمی واقعات کی شدت اور تعداد میں اضافہ کر رہی ہے، جبکہ ایل نینو کے باعث بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت بڑھنے سے بارشوں اور ہواؤں کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں، جن کے اثرات جنوبی ایشیا سمیت دنیا کے مختلف خطوں پر مرتب ہوتے ہیں۔