نئی دہلی: بھارتی ارب پتی گوتم اڈانی کا اڈانی گروپ نئی کمرشل ایئرلائن شروع کرنے کے امکان پر غور کر رہا ہے، جو بھارت کی فضائی صنعت میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے اور مارکیٹ کی دو بڑی ایئرلائنز انڈیگو اور ایئر انڈیا کے لیے نیا چیلنج بن سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اڈانی گروپ نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم کمپنی اندرونی سطح پر اس منصوبے کے مالی اور عملی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ چونکہ فضائی کاروبار کو دنیا کے مشکل ترین شعبوں میں شمار کیا جاتا ہے، اس لیے تمام امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت اڈانی گروپ کی سابقہ پالیسی سے مختلف ہے، کیونکہ کمپنی اس سے پہلے واضح کر چکی تھی کہ اس کا ایئرلائن کاروبار میں داخل ہونے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ تاہم، گروپ پہلے ہی بھارت کے آٹھ ہوائی اڈوں کا انتظام چلا رہا ہے، جن میں ممبئی کے دو بڑے ایئرپورٹس بھی شامل ہیں، جبکہ اس شعبے میں اس کی سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 11 ارب ڈالر بتایا جاتا ہے۔
حکومت مزید مقابلے کی خواہاں
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے غیر رسمی طور پر اڈانی گروپ سمیت چند بڑے کاروباری اداروں کو نئی ایئرلائن شروع کرنے پر غور کرنے کی ترغیب دی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ سال احمد آباد میں ایئر انڈیا کے حادثے کے بعد کمپنی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ملک کی سب سے بڑی ایئرلائن انڈیگو کو بھی آپریشنل مسائل کے باعث بڑے پیمانے پر پروازوں میں تاخیر اور منسوخی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
ذرائع کے مطابق حکومت کا خیال ہے کہ بھارتی فضائی شعبے میں مزید مضبوط ایئرلائنز کی موجودگی مسافروں کے لیے بہتر خدمات اور صحت مند مسابقت کو فروغ دے سکتی ہے۔
ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں
اڈانی گروپ کی اندرونی مشاورت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور نئی ایئرلائن کے آغاز کے حوالے سے کسی حتمی فیصلے یا وقت کا اعلان نہیں کیا گیا۔
رپورٹس منظرعام پر آنے کے بعد اڈانی انٹرپرائزز کے حصص میں تین فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی محتاط سوچ قرار دیا جا رہا ہے۔
فضائی صنعت ایک مشکل کاروبار
ماہرین کے مطابق بھارت کی فضائی صنعت تیزی سے ترقی کرنے والی مارکیٹ ضرور ہے، لیکن یہ منافع کے اعتبار سے انتہائی پیچیدہ شعبہ بھی سمجھی جاتی ہے۔
گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران کنگ فشر ایئرلائنز، جیٹ ایئرویز اور گو فرسٹ جیسی کئی بڑی بھارتی ایئرلائنز مالی مشکلات، شدید مسابقت، بڑھتے اخراجات اور سپلائی چین کے مسائل کے باعث بند ہو چکی ہیں۔
اگر اڈانی گروپ اس منصوبے کو عملی شکل دیتا ہے تو یہ گوتم اڈانی کے کاروباری کیریئر کا سب سے بڑا اور جرات مندانہ قدم تصور کیا جائے گا۔
کاروباری توسیع کا سلسلہ جاری
گوتم اڈانی، جن کی مجموعی دولت کا تخمینہ تقریباً 89 ارب ڈالر لگایا جاتا ہے، گزشتہ چند برسوں میں بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، توانائی، سیمنٹ اور انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں میں تیزی سے سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔
اگرچہ 2024 میں انہیں امریکہ میں ایک شمسی توانائی منصوبے سے متعلق رشوت ستانی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم حالیہ رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے ان الزامات کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے اڈانی گروپ کو اہم قانونی ریلیف ملا ہے۔
اگر نئی ایئرلائن کا منصوبہ منظور ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف بھارت کی فضائی صنعت میں مسابقت بڑھائے گا بلکہ انڈیگو اور ایئر انڈیا کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔



