پاکستان نامی بوڑھا تحریر: محمد محسن اقبال میں پاکستان ہوں۔ اگست 1947ء کی ایک حبس زدہ رات میں میری پیدائش ہوئی تھی۔ یہ ایک طویل اور کٹھن جدوجہد کا حاصل تھی، جس میں لاکھوں انسانوں نے اپنے گھر، مال و متاع، عزت اور سب سے بڑھ کر اپنی جانوں کی قربانیاں دیں۔ میں دنیا میں ایک عام ریاست کی حیثیت سے نہیں آیا تھا۔ مجھے ایک خواب سے تراشا گیا تھا، آنسوؤں اور لہو سے سینچا گیا تھا اور ایک ایسی قوم کے سپرد کیا گیا تھا جس نے عہد…
Read Moreمضمون
ہندوستانی فلمی موسیقی کی تاریخ اور سنیما کا سفر ایک طویل اور دلچسپ داستان
میاں افتخاراحمد سال 1902 سے لے کر اب تک کی ہندوستانی فلمی موسیقی اور سنیما کی تاریخ ایک طویل اور دلچسپ داستان ہے جس کا آغاز انیسویں صدی کے آخر میں ہوا جب ہندوستان میں آواز کی ریکارڈنگ کا تصور بھی نایاب تھا۔ بھارت میں گانوں کی ریکارڈنگ کا باقاعدہ آغاز 1902 میں ہوا جب گراموفون کمپنی کے ریکارڈنگ انجینئر فریڈرک ولیم گیسلبرگ ریکارڈنگ مشین لے کر کلکتہ آئے اور نومبر 1902 میں بھارت کی پہلی ریکارڈنگ مکمل کی۔ پہلی ریکارڈنگ 8 نومبر 1902 کو عمل میں آئی اور یہ…
Read Moreسعودی عرب پر دباؤ، ابراہیمی معاہدے اور خطے کی بدلتی بساط
پردے کے پیچھے بچھتی بساط تحریر: محمد محسن اقبال خلیج کی صورتِ حال گزشتہ کچھ عرصے میں بتدریج زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے، اور اس کے ساتھ یہ احساس بھی گہرا ہو رہا ہے کہ اسرائیل اور اس کا سب سے بڑا سرپرست امریکہ، اپنے وسیع تر مقاصد اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتے جب تک سعودی عرب کو بالآخر اپنے ساتھ کھڑا نہ کر لیں۔ ریاض کو براہِ راست آمادہ کرنے کی کوششیں، خصوصاً ابراہیمی معاہدوں کو تسلیم کرنے کے معاملے میں، جب کامیاب نہ ہو سکیں…
Read Moreاسماء ملک: صحافتی قیادت، عزم اور ادارتی ذمہ داری کی روشن مثال
صحافت میں عزم، قیادت اور ذمہ دار تحریر: ….. اعجازالحسن صحافت معاشرے کا آئینہ ہوتی ہے اور ایک ذمہ دار صحافی اپنے قلم کے ذریعے نہ صرف حالات و واقعات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور معاشرے میں مثبت سوچ پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسماء ملک صحافتی میدان میں اپنی قیادت، محنت اور پیشہ ورانہ وابستگی کے حوالے سے ایک نمایاں نام ہیں۔ بطور چیف ایڈیٹر روزنامہ دی نیشن نیوز، اسماء ملک کی ذمہ داری محض خبروں کی نگرانی تک…
Read Moreکوڈ 100 سے قیامت تک؟ ایران، امریکہ اور اسرائیل آمنے سامنے
میاں افتخار احمد کوڈ 100 سے قیامت تک،ایران، امریکہ اور اسرائیل آمنے سامنے، آبنائے ہرمز پر خطرے کے سائے، خلیج میں نئی صف بندی اور پاکستان کے لیے کڑا امتحان۔مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے نازک موڑ پر کھڑا دکھائی دے رہا ہے جہاں ایک معمولی سا عسکری قدم پورے خطے کو ایک وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ ایران کی مسلح افواج کے بارے میں ’’کوڈ 100‘‘ کے نام سے ایک انتہائی حساس درجۂ تیاری اختیار کیے جانے کی اطلاعات، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کیمپ ڈیوڈ سے…
Read Moreپاکستان کی بجلی منڈی میں مسابقتی نظام کی منتقلی، صارفین کو نئی چوائس
میاں افتخار احمد پاکستان کی بجلی منڈی میں ایک تاریخی تبدیلی رونما ہو رہی ہے جس کا اعلان وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ایک ویڈیو پیغام میں کیا ہے اور اس کی تصدیق سرکاری دستاویزات سے بھی ہوتی ہے۔ اس نئے نظام کے تحت حکومت بجلی کی مرکزی خریداری کے روایتی کردار سے دستبردار ہو رہی ہے اور ایک مسابقتی تجارتی دو طرفہ معاہدہ مارکیٹ یعنی سی ٹی بی سی ایم متعارف کروائی جا رہی ہے جس کا بنیادی مقصد بجلی پیدا کرنے والوں اور صارفین کے درمیان شفاف…
Read Moreکن فیکون کے راز سے دجال کے دھوکے تک, اختیار، حسد اور فریب کی داستان
میاں افتخار احمد ازل کی خاموشی سے ابد کے شور تک کائنات کی پوری داستان دراصل انسان اور اختیار کی کہانی ہے، ایک ایسی کہانی جو اس لمحے سے شروع ہوتی ہے جب وقت کی سوئیاں ابھی پیدا نہیں ہوئی تھیں، جب مکان کی وسعتیں سمٹی ہوئی تھیں، جب مادہ توانائی کے سمندر میں تحلیل تھا اور جب انسانی عقل جسے عدم کہتی ہے وہ دراصل رازِ کن فیکون کی دہلیز تھی، اس لمحے صرف ایک ذات موجود تھی، الحی القیوم، وہ واجب الوجود ہستی جو کسی تعریف، کسی گواہی…
Read Moreسائنس کا انسان اور قرآن کا خلیفہ: انسان کی تخلیق ایک ہی حقیقت کے دو زاویے
میاں افتخار احمد انسان کی ابتدا کا سوال محض ایک سائنسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک فکری، اخلاقی اور الہیاتی معمہ ہے جو صدیوں سے انسانی ذہن کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے، ایک طرف جدید سائنس ہے جو تجربہ، مشاہدہ، رکازی شواہد اور جینیاتی تجزیوں کی بنیاد پر انسان کو ایک طویل حیاتیاتی عمل کی پیداوار قرار دیتی ہے، اور دوسری طرف الہامی کتابیں ہیں جو انسان کو محض حیاتیاتی وجود نہیں بلکہ ایک منتخب، باشعور اور اخلاقی ذمہ داری کا حامل وجود بتاتی ہیں، عام طور پر ان…
Read Moreسورۃ الجن غیر مرئی مخلوقات انسانی ادراک اور سائنسی زاویہ
میاں افتخار احمد سورۃ الجن میں بیان کیا گیا ہے کہ کچھ مخلوقات جن انسانی perception سے پوشیدہ ہیں مگر وہ آواز توانائی یا دیگر غیر مرئی ذرائع کے ذریعے معلومات حاصل کر سکتی ہیں۔ یہ انسانی perception کی محدودیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ modern physics میں invisible spectrum اور electromagnetic waves کی طرح جو انسانی حواس سے باہر ہیں۔ قرآن نے 1400 سال پہلے اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ universe میں صرف وہ موجودات نہیں جو براہ راست نظر آئیں بلکہ invisible reality بھی موجود ہے۔ جن…
Read Moreسورہ الفیل: غرورِ طاقت کا زوال، ابابیلوں کا فضائی حملہ، بائیولوجیکل وارفیئر اور کعبہ کی کائناتی مرکزیت
میاں افتخار احمد چھٹی صدی عیسوی میں جزیرہ نما عرب ایک نہایت نازک اور پیچیدہ عالمی سیاست کے دھارے میں موجود تھا دنیا میں دو بڑی طاقتیں برسرپیکار تھیں رومن ایمپائر اور فارس کی سلطنتیں جو نہ صرف اپنے مذہبی نظریات بلکہ تجارتی اور عسکری غلبے کے لیے ایک دوسرے کی گردن پر ہاتھ رکھے ہوئی تھیں بحیرہ احمر کی تجارتی گزرگاہیں اور یمن کے ساحلی علاقے ان دونوں کے لیے سب سے زیادہ اہم تھے کیونکہ اس پر کنٹرول حاصل کرنے والا پورے جزیرہ نما عرب کی معیشت اور…
Read More