پاکستان کی بجلی منڈی میں مسابقتی نظام کی منتقلی، صارفین کو نئی چوائس

میاں افتخار احمد

پاکستان کی بجلی منڈی میں ایک تاریخی تبدیلی رونما ہو رہی ہے جس کا اعلان وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ایک ویڈیو پیغام میں کیا ہے اور اس کی تصدیق سرکاری دستاویزات سے بھی ہوتی ہے۔ اس نئے نظام کے تحت حکومت بجلی کی مرکزی خریداری کے روایتی کردار سے دستبردار ہو رہی ہے اور ایک مسابقتی تجارتی دو طرفہ معاہدہ مارکیٹ یعنی سی ٹی بی سی ایم متعارف کروائی جا رہی ہے جس کا بنیادی مقصد بجلی پیدا کرنے والوں اور صارفین کے درمیان شفاف اور مسابقتی بنیادوں پر براہ راست خرید و فروخت کو ممکن بنانا ہے۔ اس ضمن میں پاور ڈویژن نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بجلی کی ویلنگ نیلامی کے لیے درخواست برائے تجاویز جاری کیے ہیں جس کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں آٹھ سو میگا واٹ بجلی نیلام کرنے کا منصوبہ ہے اور پہلے مرحلے میں چار سو میگا واٹ بجلی مسابقتی بنیادوں پر فراہم کی جائے گی۔ اس نظام کا آغاز سب سے پہلے ان صنعتی یا بڑے صارفین سے ہو گا جو ایک میگا واٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں اور آئندہ برسوں میں اس کا دائرہ کار عام صارفین تک وسیع کیا جائے گا جن میں دو سو یا چار سو یونٹ استعمال کرنے والے گھریلو صارفین بھی شامل ہوں گے۔اس نئے نظام کے تحت بجلی کی ترسیل اور تقسیم کا بنیادی ڈھانچہ یعنی گرڈ سٹیشن اور گیارہ کے وی کی لائنیں مشترکہ رہیں گی اور یہ نظام ویلنگ کے اصول پر کام کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک صنعتی صارف کسی دور دراز کے سستے پاور پلانٹ سے بجلی خرید سکتا ہے اور وہ بجلی اسی قومی گرڈ اور کے الیکٹرک یا فیصل آباد الیکٹرک کی لائنوں کے ذریعے اس صارف تک پہنچے گی اور اس صارف کو اپنی تقسیم کار کمپنی کو صرف استعمال کی فیس ادا کرنی ہو گی تاکہ وہ بجلی کی ترسیل کے لیے ان کے نظام کو استعمال کر سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی علاقے میں ایک ہی کمپنی کی لائنیں ہوں گی لیکن صارف کے پاس یہ آپشن ہو گا کہ وہ کس سے بجلی خریدنا چاہتا ہے اور اس کے لیے فزیکل طور پر الگ الگ ڈسٹری بیوشن سسٹم بنانے کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ تجارتی اور معاہداتی سطح پر یہ علیحدگی قائم کی جائے گی۔اس نظام کے نفاذ کے لیے ایک جدید ایس سی اے ڈی اے سسٹم اور ریئل ٹائم آن لائن ڈیٹا کی ضرورت ہے تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ کس صارف نے کتنی بجلی کس کمپنی سے خریدی اور کتنی استعمال کی۔ سسٹینیبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ یعنی ایس ڈی پی آئی نے ایک توانائی ریگولیٹری سینڈ باکس کا انعقاد کیا جس میں ماہرین نے واضح کیا کہ سی ٹی بی سی ایم کے لیے درکار بنیادی آپریشنل انفراسٹرکچر بشمول فعال ایس سی اے ڈی اے سسٹم اور ریئل ٹائم ڈیٹا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی سطح پر برسوں بعد بھی دستیاب نہیں ہے اور اگرچہ ان اصلاحات پر تقریباً سات سے آٹھ سال کام ہو رہا ہے لیکن ابھی تک کوئی نمایاں کارکردگی کا فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ سابق منیجنگ ڈائریکٹر پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ شاہ جہان مرزا نے سی ٹی بی سی ایم کو شعبے کا ایک اہم موضوع قرار دیا اور کہا کہ فی الوقت یہ ایک محدود مسابقتی مارکیٹ کے طور پر کام کر رہا ہے اور نیلامی کی جانے والی مقدار حجم کے لحاظ سے بڑی نہیں ہے اس لیے اس کا مجموعی اثر محدود ہو سکتا ہے۔ انھوں نے عالمی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسابقت کے لیے کھولی گئی منڈیوں میں عام طور پر بجلی کی قیمتوں معیار اور مقدار میں بہتری دیکھی گئی ہے اور مجموعی نظام کے اخراجات کو کم کرنا بنیادی مقصد ہونا چاہیے جس کا انتظام ویلنگ چارجز سے حاصل ہونے والی آمدنی اور منتقل ہونے والے صارفین سے معیاری لاگت کی وصولی کے ذریعے کیا جا سکتا ہے تاکہ باقی نظام کو کوئی منفی اثر نہ پڑے۔

پن بجلی کے حوالے سے جو پاور ہاؤسز پانی پر چل رہے ہیں اور جن کی لاگت سب سے سستی ہے اس کا انتظام اس نئے نظام کا سب سے پیچیدہ اور اہم سوال ہے جس پر تھنک ٹینکس اور ماہرین تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ پاکستان میں پن بجلی سب سے سستی بجلی پیدا کرتی ہے جس کا ٹیرف تقریباً تین روپے تراسی پیسے فی یونٹ ہے جبکہ یہ پورے نظام کو سبسیڈی فراہم کرتی ہے۔ اس نئے نظام میں اگر سستے پن بجلی کے پاور ہاؤسز براہ راست صنعتوں کو بجلی بیچنا شروع کر دیں تو ایک بڑا مالیاتی بحران پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ باقی مہنگی بجلی کا بوجھ ان عام صارفین اور تقسیم کار کمپنیوں پر پڑے گا جو اس سستے متبادل کا استعمال نہیں کر پائیں گے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا کے سامنے یونیفارم یوز آف سسٹم چارجز کے حوالے سے ایک سماعت میں صنعتی حلقوں نے اس بات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ مجوزہ چارجز حد سے زیادہ ہیں اور ان میں کراس سبسیڈی کا عنصر شامل ہے جو کہ اصل ترسیل اور تقسیم کی لاگت سے غیر متعلق ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندے نے نشاندہی کی کہ موجودہ فریم ورک میں ویلنگ چارجز پر کوئی حد یا فارمولا موجود نہیں ہے جس سے مارکیٹ کے شرکاء کو لامحدود لاگت کے خطرے سے دوچار کیا جا سکتا ہے اور انھوں نے خبردار کیا کہ یہ چارجز اگر تین اعشاریہ پانچ سینٹ فی یونٹ کے قریب پہنچ جائیں تو یہ صنعت کے لیے ناقابل قبول ہوں گے اور سی ٹی بی سی ایم فریم ورک کو ناقابل عمل بنا سکتے ہیں۔

عام صارفین کے پاس چوائس کے حوالے سے صورتحال یہ ہے کہ فی الحال یہ نظام صرف بڑے صنعتی اور کاروباری صارفین کے لیے ہے جو ایک میگا واٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں اور عام گھریلو صارفین کو ابھی کوئی چوائس نہیں دی جا رہی تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ برسوں میں اس کا دائرہ کار عام صارفین تک بھی بڑھایا جائے گا تاکہ وہ بھی اپنی پسند کے مطابق بجلی خرید سکیں۔ اس نظام کے تحت ڈیموں یا واپڈا کے پاور ہاؤسز کو فروخت کرنے کا کوئی ذکر نہ تو سرکاری دستاویزات میں ہے اور نہ ہی دستیاب رپورٹس میں اس نئے نظام کا مقصد پاور سیکٹر کی تنظیم نو ہے نہ کہ قومی اثاثوں کی فروخت۔پاکستانی سیاسی جماعتوں کے ردعمل کے حوالے سے دستیاب معلومات محدود ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے انتخابی منشور میں بجلی کے مسئلے کو بنیادوں پر حل کرنے کی بات کی گئی ہے اور اس نے متبادل ذرائع کے طور پر آن گرڈ سولر فارمز، ونڈ فارمز اور دریاؤں پر چھوٹے ڈیموں کی ترقی پر زور دیا ہے۔ اس پارٹی کا موقف ہے کہ بجلی کی ڈسٹری بیوشن، تقسیم کار اور چلانے کے حقوق صوبائی ہونے چاہئیں اور یہ کہ پاکستان میں پن بجلی کی پیدا اور کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی کوشش کی جائے۔ تاہم بڑی قومی جماعتوں جیسے پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کا اس مخصوص پالیسی پر تفصیلی ردعمل دستیاب نہیں ہے۔

حکومت کا باضابطہ موقف یہ ہے کہ یہ نظام پاکستان کے بجلی کے شعبے کو سنگل بائر ماڈل سے مسابقتی منڈی میں تبدیل کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے اور اس سے صنعتوں کو مسابقتی شرح پر بجلی تک رسائی حاصل ہو گی جس سے پیداواری لاگت کم ہو گی، بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقت بہتر ہو گی اور برآمدات میں اضافہ ہو گا۔ وزیر توانائی نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں فی الوقت تقریباً سات ہزار میگا واٹ بجلی سرپلس ہے اور اس اضافی بجلی کو صنعتوں کو معمولی شرح پر فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس سے یہ خطے کی سب سے سستی صنعتی بجلی بن سکتی ہے۔ ورلڈ بینک نے اس نقطہ نظر کی توثیق کی ہے اور کہا ہے کہ سرپلس بجلی کو معمولی لاگت پر استعمال کرنا اسے ضائع ہونے دینے سے کہیں زیادہ فائدہ مند ہے۔ وزیر توانائی نے یہ بھی بتایا کہ موسم سرما میں بجلی پہلے ہی ان کم شرحوں پر بغیر کسی سبسیڈی کے فراہم کی جا رہی تھی اور اب اس ماڈل کو پورے سال تک بڑھانے کا ہدف ہے۔اس نظام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ حکومت فنی ڈھانچے کو کیسے مضبوط کرتی ہے اور مالی توازن کو کیسے برقرار رکھتی ہے تاکہ عام صارفین پر مزید بوجھ نہ پڑے۔ ایس ڈی پی آئی کی سینڈ باکس رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے لیے ایک ورچوئل پاور پلانٹ لیڈ ریونیو ماڈل قائم کیا جائے، نیلامی میں شرکت کو مرحلہ وار بنایا جائے اور ایک سی ٹی بی سی ایم سرپلس مارکیٹ میکانزم بنایا جائے جس سے تقریباً ترانوے ارب روپے کی متوقع آمدنی کا تخمینہ ہے۔ یونیورسٹی آف باتھ کے ایک توانائی اور موسمیاتی پریکٹیشنر محمد فیصل شریف نے کہا کہ سی ٹی بی سی ایم متعلقہ حکام اور اداروں کے ذریعے ایک سازگار ماحول فراہم کرتا ہے اور ملک بالآخر ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کے ذریعے مسابقتی موڈ میں داخل ہو رہا ہے لیکن انھوں نے زور دیا کہ اس بحث کو صرف ڈسکو کی آمدنی کے خدشات سے آگے بڑھ کر یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ پسماندہ کمیونٹیز اور دیہی آبادی کو اس منتقلی سے کس طرح فائدہ ہو گا۔ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈیولپمنٹ کی ریسرچ ایسوسی ایٹ امینہ شہاب نے صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کے لیے بجلی کی فراہمی کی قابل اعتماد ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ بلا تعطل بجلی بلا تعطل پیداوار کے لیے ضروری ہے اور بہت سے صنعتی صارفین پہلے ہی متعدد توانائی کے ذرائع بشمول کیپٹو سولر، ونڈ اور تھرمل جنریشن پر انحصار کر رہے ہیں اور سوال یہ ہے کہ سی ٹی بی سی ایم کے ابتدائی مراحل کامیاب ہوں گے یا نہیں جب تک صارفین کی تیاری اور قابل اعتماد فراہمی کی ضرورت کا مناسب جائزہ نہ لیا جائے۔

اس نظام کے تحت بجلی کی ایک منڈی بنے گی جہاں سے صارف اپنے لیے سستی ترین بجلی خرید سکے گا اور حکومت اس جھنجھٹ سے باہر نکل آئے گی کہ پہلے وہ بجلی خریدے اور پھر اپنے مقرر کردہ ریٹ پر آپ کو بجلی فراہم کرے تاہم یہ ابھی پہلا قدم ہے اور آئندہ برسوں میں عام صارف تک اس نظام کے فائدے پہنچیں گے۔ اس کے علاوہ حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ دوبارہ مذاکرات سے تین اعشاریہ پانچ ٹریلین روپے کی زندگی بھر کی بچت، سرکاری جنریشن کمپنیوں کی زائد مشینری کی فروخت سے سینتالیس ارب روپے، اور تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں کمی سے ایک سو ترانوے ارب روپے کی بچت کا دعویٰ کیا ہے۔ قومی اوسط بجلی کی قیمت مارچ دو ہزار چوبیس سے مئی دو ہزار چھبیس کے درمیان تریپن روپے چار پیسے فی یونٹ سے گر کر بیالیس روپے چھبیس پیسے فی یونٹ پر آ گئی ہے جو کہ بیس فیصد کمی ہے۔ صنعتی ٹیرف باسیٹھ روپے ننانوے پیسے سے گر کر بیالیس روپے چالیس پیسے فی یونٹ ہو گیا ہے۔اس نظام کے حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ یہ ایک آزمائشی اور مرحلہ وار عمل ہے جو فی الحال صرف بڑے صارفین تک محدود ہے اور اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ حکومت فنی ڈھانچے کو کیسے مضبوط کرتی ہے اور مالی توازن کو کیسے برقرار رکھتی ہے تاکہ عام صارفین پر مزید بوجھ نہ پڑے۔ آپ کے اٹھائے گئے نکات بالکل درست ہیں اور یہی وہ چیلنجز ہیں جن پر پاکستان کے توانائی کے شعبے کے ماہرین بھی غور کر رہے ہیں۔

Related posts

Leave a Comment