جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے
تحریر: محمد محسن اقبال
جمہوریت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والے حکمران عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ ووٹ بظاہر کاغذ کا ایک معمولی ٹکڑا ہے، لیکن اس میں ایسی قوت پوشیدہ ہے جو بڑے بڑے اقتدار کے ایوانوں کو ہلا سکتی ہے۔ عوام جس شخص کو اپنے اعتماد سے ایوانِ صدر تک پہنچاتے ہیں، اگر وہی ان کی توقعات اور قومی مفادات سے دور ہو جائے تو یہی عوام اپنے ووٹ کے ذریعے اسے اپنی ناراضی کا احساس بھی دلا سکتے ہیں۔ امریکا کے وسط مدتی انتخابات نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ صدارتی اختیارات خواہ کتنے ہی وسیع کیوں نہ ہوں، عوامی احتساب سے بالاتر نہیں ہو سکتے۔
تین نومبر کے انتخابی نتائج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ری پبلکن پارٹی کے لیے ایک مشکل سیاسی صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔ ڈیموکریٹس کی جانب سے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرنا محض انتخابی کامیابی نہیں بلکہ صدر کی پالیسیوں کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کسی رہنما کو اقتدار سونپ دینے کا مطلب یہ نہیں کہ عوام اس کے ہر فیصلے کی غیر مشروط حمایت کرتے رہیں۔ جمہوریت میں اقتدار ایک ذمہ داری ہے، مطلق العنانیت کا پروانہ نہیں۔
امریکی خارجہ پالیسی، بالخصوص ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا سخت رویہ اور مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ فوجی کشیدگی بھی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔ دنیا پہلے ہی معاشی بے یقینی اور توانائی کے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں کسی نئی جنگ کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں رکاوٹیں اور معاشی عدم استحکام پوری دنیا کو متاثر کر سکتے ہیں۔ بالخصوص ترقی پذیر ممالک کے لیے اس کے نتائج زیادہ سنگین ہوں گے۔
امریکی عوام کو یہ سوچنے کا حق حاصل ہے کہ مسلسل محاذ آرائی ان کے قومی مفادات کا تحفظ کر رہی ہے یا انہیں مزید مشکلات کی طرف دھکیل رہی ہے۔ جنگوں پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے بجائے ان وسائل کو تعلیم، صحت اور عوامی فلاح پر صرف کرنے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ امن کی خواہش کمزوری نہیں بلکہ سیاسی بصیرت کی علامت ہے۔ کسی طاقت ور ملک کی اصل عظمت صرف جنگ لڑنے کی صلاحیت میں نہیں بلکہ جنگ کو روکنے اور تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی استعداد میں بھی ہوتی ہے۔
فلسطین کا المیہ بھی امریکی خارجہ پالیسی کے ایک بڑے اخلاقی تضاد کو نمایاں کرتا ہے۔ غزہ کی تباہی، بے گھر خاندانوں اور معصوم بچوں کی شہادتوں نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس انسانی بحران کے باوجود اسرائیل کے لیے واشنگٹن کی تقریباً غیر مشروط حمایت نے جمہوریت، انسانی حقوق اور عالمی انصاف کے حوالے سے امریکی دعووں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انسانی حقوق کے اصول اگر سیاسی مفادات کے مطابق بدلنے لگیں تو انصاف کی عالمگیر حیثیت متاثر ہوتی ہے۔ انسانی جان کی حرمت کسی مذہب، نسل یا جغرافیے کی محتاج نہیں ہونی چاہیے۔
ان انتخابات کا ایک اہم پہلو امریکی معاشرے میں بڑھتی ہوئی سیاسی شمولیت بھی ہے۔ مشی گن میں عبدالسید کی امریکی سینیٹ کے لیے کامیابی، جنہیں پہلے مسلمان منتخب سینیٹر کے طور پر پیش کیا گیا ہے، تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ کامیابی اس حقیقت کی علامت ہے کہ امریکی سیاست میں مختلف مذہبی، نسلی اور ثقافتی طبقات کی نمائندگی بڑھ رہی ہے۔ ان کی حجاب پہننے والی اہلیہ کے حوالے سے ہونے والی گفتگو بھی مذہبی آزادی اور معاشرتی قبولیت کے ایک اہم پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔ کسی خاتون کا اپنے عقیدے کے مطابق لباس اختیار کرنا تعصب یا امتیازی سلوک کا جواز نہیں بن سکتا۔ جمہوریت کی اصل روح یہی ہے کہ اختلافات کے باوجود ہر شہری کو مساوی عزت اور مواقع حاصل ہوں۔
انتخابی نتائج نے یہ حقیقت بھی واضح کی ہے کہ دولت اور سیاسی اثر و رسوخ ہمیشہ عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتے۔ انتخابی مہم پر بے پناہ سرمایہ خرچ کیا جا سکتا ہے، لیکن عوام کا اعتماد خریدا نہیں جا سکتا۔ ووٹر سیاسی میدان میں محض تماشائی نہیں بلکہ آخری فیصلہ ساز ہوتا ہے۔ اس کا ایک فیصلہ سیاسی جماعتوں کی حکمتِ عملی اور حکمرانوں کے اختیارات دونوں کا رخ بدل سکتا ہے۔
کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی کامیابی سے صدر ٹرمپ کی قانون سازی اور انتظامی پالیسیوں کو زیادہ سخت نگرانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صدارتی اقدامات، فوجی سرگرمیوں اور سرکاری اخراجات پر کانگریس کی جانچ پڑتال میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہی امریکی آئینی نظام کی بنیادی خوبی ہے کہ اختیارات کسی ایک ادارے میں مرتکز نہیں ہوتے بلکہ ایک ادارہ دوسرے کے اقدامات کا جائزہ لینے اور اسے جواب دہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تاہم ان نتائج کو صدر ٹرمپ کی تمام پالیسیوں کے خلاف مکمل عوامی ردعمل قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ انتخابات میں مہنگائی، روزگار، صحت کی سہولتوں، ٹیکسوں اور حکومتی کارکردگی جیسے کئی عوامل اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ہر امریکی ووٹر ایران، اسرائیل یا معاشی پالیسی کے بارے میں یکساں رائے نہیں رکھتا۔ اس کے باوجود انتخابی نتائج کا بنیادی پیغام واضح ہے کہ صدارتی اختیار بھی جمہوری احتساب کے تابع ہے۔

عالمی برادری کے لیے امریکی انتخابات میں ایک اہم سبق پوشیدہ ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی معاشی اور عسکری طاقت رکھنے والے ملک میں بھی عوام اپنے حکمرانوں کے فیصلوں کو چیلنج کرنے اور اقتدار کا توازن تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کسی حکومت کی پائیداری محض فوجی قوت یا معاشی برتری سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد، ادارہ جاتی توازن اور قانون کی بالادستی سے قائم رہتی ہے۔
بالآخر جمہوریت کی اصل طاقت نہ وائٹ ہاؤس کی شان و شوکت میں ہے، نہ فوجی برتری میں اور نہ ہی معاشی اثر و رسوخ میں، بلکہ اس اختیار میں ہے جو عوام کو اپنے حکمرانوں کا احتساب کرنے کے لیے حاصل ہوتا ہے۔ انتخابات جیت کر اقتدار تو حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن عوام کا اعتماد صرف ذمہ دارانہ حکمرانی، دانش مندانہ فیصلوں اور ان کی امنگوں کے احترام سے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ تخت و تاج کسی کی دائمی میراث نہیں ہوتے۔ ووٹ کی پرچی خاموش ضرور ہوتی ہے، مگر جب فیصلہ سناتی ہے تو اس کی آواز اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتی ہے۔
