ذہنی اضطراب کا بڑھتا ہوا عفریت
تحریر: محمد محسن اقبال
انسان جب اس جہانِ رنگ و بو میں آنکھ کھولتا ہے تو اس کے معصوم ذہن میں نہ مستقبل کے اندیشے ہوتے ہیں، نہ زمانے کی تلخیوں کا شعور اور نہ ہی ذمہ داریوں کا کوئی بوجھ۔ اس کی مختصر سی کائنات والدین کی محبت، چند معصوم خواہشوں اور بے فکری کے حسین لمحوں سے عبارت ہوتی ہے۔ مگر وقت کے ساتھ جب شعور کی منزلیں طے ہوتی ہیں اور بچپن کی بے نیازی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے تو زندگی کے تقاضے بھی اپنا رنگ دکھانے لگتے ہیں۔ کبھی امتحان میں کامیابی کی فکر، کبھی اعلیٰ تعلیم کے حصول کی تگ و دو، کبھی روزگار کی تلاش اور کبھی معاشرتی مقام و مرتبے کی خواہش۔ پھر شادی، بچوں کی پرورش، اہلِ خانہ کی کفالت اور والدین کی خدمت جیسی ذمہ داریاں انسان کے گرد ایک ایسا حصار قائم کر دیتی ہیں جس سے نکلنے کی سبیل بسا اوقات دکھائی نہیں دیتی۔ یوں مستقبل کی ایک معمولی سی فکر رفتہ رفتہ ذہنی اضطراب کا روپ دھار لیتی ہے اور انسان اپنے ہی خیالات کے بوجھ تلے دبنے لگتا ہے۔
فکر و تشویش انسانی زندگی کا ناگزیر حصہ ہیں، لیکن جب پریشانیاں مسلسل بڑھتی رہیں، مسائل کا کوئی حل دکھائی نہ دے اور انسان کو کسی طرف سے سہارا میسر نہ ہو تو یہی فکریں ذہنی اذیت اور نفسیاتی عوارض میں تبدیل ہونے لگتی ہیں۔ طالب علم امتحانات کے نتائج اور والدین کی توقعات کے بوجھ تلے دبے ہیں، نوجوان اعلیٰ تعلیم کے باوجود روزگار کے لیے دربدر ہیں، جبکہ گھرانے مہنگائی، بچوں کی تعلیم، علاج معالجے اور دیگر معاشرتی ذمہ داریوں سے نبرد آزما ہیں۔ کسی عزیز کی اچانک بیماری بھی ایک خاندان کی برسوں کی جمع پونجی کو لمحوں میں ختم کر سکتی ہے۔ ایسے حالات میں ذہنی سکون برقرار رکھنا یقیناً ایک دشوار مرحلہ بن جاتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں جسمانی بیماری کو تو بیماری تسلیم کیا جاتا ہے، مگر ذہنی تکلیف کو اکثر وہم، کمزوری یا غیر ضروری سوچ قرار دے کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ذہنی اضطراب یا ڈپریشن کا شکار شخص ہمدردی اور علاج کا مستحق ہوتا ہے، لیکن معاشرتی رویے اکثر اس کی تکلیف میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنے اندر ایک طوفان لیے بظاہر معمول کی زندگی گزارتے رہتے ہیں۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹ ہوتی ہے، مگر دل و دماغ میں اندیشوں کا ایک ہجوم برپا ہوتا ہے۔ وہ اپنا دکھ بیان کرنے سے اس لیے گریز کرتے ہیں کہ کہیں انہیں کمزور یا ناکام نہ سمجھ لیا جائے۔
دستیاب اخباری معلومات کے مطابق پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار افراد کی تعداد 2019ء میں تین کروڑ تھی، جو 2023ء میں بڑھ کر تین کروڑ چوبیس لاکھ ہو گئی۔ اس کے مقابلے میں ملک بھر میں رجسٹرڈ ماہرینِ امراضِ نفسیات کی تعداد صرف 1,050 ہے۔ ان میں سے 406 پنجاب، 228 سندھ، 122 خیبر پختونخوا اور محض 44 بلوچستان میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی تعداد کروڑوں میں ہو تو ایک ہزار سے کچھ زیادہ ماہرین اس قومی ضرورت کو کیسے پورا کر سکتے ہیں؟ یہ صورتِ حال ہمارے نظامِ صحت کی استعداد اور ترجیحات کے حوالے سے ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ ہے۔
مسئلہ صرف ماہرین کی قلت تک محدود نہیں۔ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں ذہنی امراض کے علاج کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ بڑے شہروں میں بھی علاج کے اخراجات ہر شخص کی دسترس میں نہیں۔ جو خاندان دو وقت کی روٹی، بچوں کی فیس اور بجلی و گیس کے بل پورے کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہوں، ان کے لیے نفسیاتی علاج ایک اضافی بوجھ بن جاتا ہے۔ معاشرتی بدنامی کا خوف بھی لوگوں کو طبی مدد حاصل کرنے سے روکتا ہے۔ نتیجتاً بہت سے افراد خاموشی سے اپنی اذیت برداشت کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ مرض ان کی گھریلو اور پیشہ ورانہ زندگی کو متاثر کرنے لگتا ہے۔
پاکستان کی معاشی صورتِ حال نے اس بحران کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ عالمی بینک کے 2025ء سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق ملک میں غربت کی شرح 2019ء کے 22 فیصد سے بڑھ کر 29 فیصد ہو چکی ہے۔ رپورٹ میں مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور محنت کش طبقے کی آمدنی میں کمی کو اس اضافے کی اہم وجوہات قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، 2024ء میں سات کروڑ چھبیس لاکھ افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے تھے۔ ان اعداد و شمار کے پیچھے ایسے بے شمار خاندان ہیں جنہیں محدود آمدنی میں خوراک، تعلیم، علاج اور دیگر بنیادی ضروریات کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے۔
غربت محض خالی جیب یا محدود آمدنی کا نام نہیں، یہ ایک ایسی مسلسل بے یقینی ہے جو انسان کے اعتماد، خودداری اور ذہنی سکون کو بھی مجروح کرتی ہے۔ ایک باپ جب اپنے بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو، ایک تعلیم یافتہ نوجوان برسوں کی محنت کے باوجود بے روزگار رہے اور ایک مزدور کو اگلے دن کے روزگار کا بھی یقین نہ ہو تو ان کی ذہنی کیفیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ معاشی تنگ دستی گھروں کے ماحول کو متاثر کرتی ہے، ازدواجی تعلقات میں تلخی پیدا کرتی ہے اور بچوں کی شخصیت پر بھی اپنے اثرات مرتب کرتی ہے۔ جب گھر کا کفیل اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکے تو اس کی بے بسی پورے خاندان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ مسلسل محرومی بالآخر امید کے چراغ کو بھی مدھم کر دیتی ہے۔
معاشی بدحالی اور ذہنی صحت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ ذہنی اضطراب اور ڈپریشن میں مبتلا شخص کے لیے پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری کرنا، درست فیصلے کرنا اور صحت مند معاشرتی تعلقات برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف بے روزگاری، غربت اور مالی عدم تحفظ اس کی ذہنی پریشانیوں میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ یوں یہ دونوں مسائل ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہوئے ایک ایسا دائرہ تشکیل دیتے ہیں جس سے نکلنے کے لیے محض انفرادی کوشش کافی نہیں، بلکہ ریاستی سرپرستی، سماجی تعاون اور بروقت طبی مداخلت بھی ناگزیر ہے۔
اس قومی مسئلے کا حل محض صبر و تحمل اور مثبت سوچ کے مشوروں میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ بلاشبہ حوصلہ، برداشت اور امید انسان کا قیمتی سرمایہ ہیں، لیکن انفرادی قوتِ ارادی ریاست کی ذمہ داریوں کا متبادل نہیں بن سکتی۔ حکومت کو ذہنی صحت کو قومی صحتِ عامہ کا بنیادی جزو تسلیم کرنا ہوگا۔ سرکاری ہسپتالوں میں ماہرینِ نفسیات اور تربیت یافتہ مشیران کی تعداد بڑھائی جائے، بنیادی مراکزِ صحت میں بھی تشخیص اور علاج کی سہولت فراہم کی جائے اور تعلیمی اداروں میں مشاورتی مراکز قائم کیے جائیں تاکہ طلبہ اپنے تعلیمی دباؤ اور جذباتی مشکلات کے حوالے سے مناسب رہنمائی حاصل کر سکیں۔
اس کے ساتھ معاشرتی شعور کی بیداری بھی ناگزیر ہے۔ ذہنی بیماری کو شرمندگی یا کردار کی کمزوری سمجھنے کا رویہ ترک کرنا ہوگا۔ خاندانوں کو چاہیے کہ وہ ذہنی اذیت میں مبتلا افراد کے ساتھ تنقید اور ملامت کے بجائے محبت، توجہ اور ہمدردی کا معاملہ کریں۔ تعلیمی اداروں اور دفاتر میں ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں کوئی شخص اپنی مشکلات بیان کرتے ہوئے خوف یا احساسِ کمتری کا شکار نہ ہو۔ بروقت تشخیص، قابلِ برداشت علاج اور معاشرتی تعاون بہت سے نفسیاتی مسائل کو شدت اختیار کرنے سے روک سکتے ہیں۔
معاشی اصلاحات بھی اس مسئلے کے حل کا لازمی حصہ ہیں۔ مہنگائی پر قابو پانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، محنت کش طبقے کی قوتِ خرید کا تحفظ اور قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم محض اقتصادی اہداف نہیں بلکہ عوام کے ذہنی تحفظ کی ضمانت بھی ہیں۔ جب شہری کو اپنے روزگار، بچوں کی تعلیم، رہائش اور علاج کے حوالے سے مسلسل بے یقینی کا سامنا ہو تو ترقی کے بڑے بڑے دعوے اس کے لیے بے معنی ہو جاتے ہیں۔
بلاشبہ ایمان، صبر، شکر گزاری، خاندانی محبت اور زندگی کا بامقصد احساس انسان کو اندرونی قوت عطا کرتے ہیں۔ مناسب نیند، جسمانی سرگرمی، متوازن معمولات اور عزیز و اقارب سے مثبت تعلق بھی ذہنی آسودگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم روحانی تسلی اور ذاتی حوصلے کو مستند طبی علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ جہاں طبی مداخلت ضروری ہو وہاں علاج حاصل کرنا ہی دانش مندی ہے۔
قوموں کی ترقی کا پیمانہ صرف بلند عمارتیں، کشادہ شاہراہیں، معاشی اعداد و شمار یا بڑے ترقیاتی منصوبے نہیں ہوتے۔ اصل کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب معاشرے کا عام شہری عزت، تحفظ اور ذہنی سکون کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ پاکستان میں ذہنی اضطراب اور نفسیاتی مسائل کا بڑھتا ہوا رجحان محض طبی شعبے کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی، معاشی اور قومی چیلنج ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ ریاست، معاشرہ، تعلیمی ادارے اور خاندان سب اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔
زندگی کا حسن صرف سانسوں کی آمد و رفت میں نہیں، بلکہ اطمینانِ قلب اور سکونِ ذہن کے ساتھ جینے میں ہے۔ جس معاشرے میں انسان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر روز ایک نئی آزمائش سے گزرے، وہاں ترقی کے دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ قوم کی حقیقی خوشحالی اس وقت جنم لیتی ہے جب اس کے شہریوں کے چہروں پر اطمینان، دلوں میں امید اور ذہنوں میں سکون ہو۔ ریاست کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس کے شہری صرف زندہ رہنے کے قابل ہوں، بلکہ یہ ہے کہ انہیں باوقار، پُرامید اور پُرسکون زندگی گزارنے کا موقع بھی میسر ہو۔
