تھانہ کلچر کا خاتمہ یا نظام کی موت، کیا پاکستان کا پولیس سسٹم اندر سے مکمل طور پرکھوکھلا ہو چکا ہے؟
میاں افتخاراحمد
پاکستان کا پولیسنگ اور کرمنل جسٹس نظام اس وقت ایک ایسے عمیق، ہمہ گیر اور ساخت جاتی زوال کا شکار ہے جس کی جڑیں تاریخی، قانونی، انتظامی، سیاسی اور سماجی ساختوں میں نہایت گہرائی تک پیوست ہیں۔ جب یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا پاکستان کا پولیس سسٹم مکمل طور پر تباہ یا ناکارہ ہو چکا ہے، تو حقیقت پسندانہ تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ یہ نظام باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت چلنے والے اداروں کی طرح اپنے اصل سیکیورٹی و خدمات کے وظائف کی فراہمی میں مفلوج ہو چکا ہے، تاہم یہ ایک مخصوص قسم کا نوآبادیاتی کنٹرول قائم رکھنے کا مقصد اب بھی پورا کر رہا ہے۔ برطانوی سامراج نے 1857ء کی جنگِ آزادی کے فوری بعد پولیس ایکٹ 1861ء نافذ کیا تھا، جس کا واحد مقصود برطانوی راج کی حاکمیت کو برقرار رکھنا، ہندوستانی عوام کو دبانا اور عوامی بغاوتوں کا کچلنا تھا۔ اس قانون کی بناوٹ کا فلسفہ ہی عوامی خدمت کے بجائے شاہی حکمرانی اور تسلط پر مبنی تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد ستر سال سے زائد عرصے میں بھی اس نوآبادیاتی فریم ورک کی بنیادی ساخت کو تبدیل نہیں کیا گیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ریاست کے بدلنے کے باوجود پولیس کا رویہ، سوچ، اور بنیادی ڈھانچہ عوامی خدمت گزار ادارے میں ڈھلنے کے بجائے اقتدار میں موجود سیاسی و اداریہ اشرافیہ کے کارآمد ہتھیار کے طور پر ہی استعمال ہوتا رہا۔
عوامی اور سیاسی سطح پر پولیسنگ کے بگاڑ کو دور کرنے کے نام پر ماضی میں جتنی بھی کوششیں کی گئیں، وہ ادارے کی بنیادی ساخت کو تبدیل کرنے کے بجائے محض ظاہری اور سطحی اقدامات تک محدود رہیں۔ مثال کے طور پر پنجاب پولیس کی روایتی خاکی پینٹ اور کالی شرٹ کو زیتونی سبز رنگ کے یونیفارم میں تبدیل کرنا، اور پھر چند سال بعد دوبارہ اسے تبدیل کر کے نیوی بلیو اور کالی وردی کی طرف واپس لے جانا، ایک ایسا نمائشی قدم تھا جس کا پولیس کے پیشہ ورانہ رویے، تفتیشی معیار، شفافیت اور اخلاقیات سے کوئی تعلق نہ تھا۔ ملکی و بین الاقوامی تحقیق اور تھنک ٹینکس کی رپورٹس اس بات پر مکمل متفق ہیں کہ محض لباس کے رنگ یا ڈیزائن کی تبدیلی سے پولیس کی تفتیشی صلاحیت، تھانہ کلچر کی تلخی، یا شہریوں کی عزتِ نفس کی پامالی کا تدارک ممکن نہیں۔ جب تک ادارے کے اندرونی کلچر، ٹریننگ کے روایتی طریقوں، تفتیشی بجٹ، اور احتساب کے طریقہ کار میں بنیادی تبدیلیاں نہیں لائی جاتیں، تب تک لباس میں تبدیلی حکومتوں کے محض مالی ضیاع اور نمائشی اقدام کے علاوہ کچھ ثابت نہیں ہو سکتی۔

پولیس کے اندرونی کلچر اور نوآبادیاتی مزاج کے تسلسل کا ایک بڑا سبب وہ تعلیمی اور اداریہ ماحول ہے جسے معاشرتی اور کرمنولوجیکل علوم میں اداریہ جذب یا ثقافتی یکسانیت کہا جاتا ہے۔ جب ایک نیا، پرعزم، تعلیم یافتہ اور اخلاقی قدروں کا حامل نوجوان بطور کانسٹیبل، سب انسپکٹر یا اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ فورس میں شامل ہوتا ہے، تو اس کا واسطہ ایک ایسے سخت اور بوسیدہ نظام سے پڑتا ہے جہاں وسائل کی انتہائی کمی ہے، چوبیس چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی کے نامناسب اوقات ہیں، رہائش اور صحت کے ناقص حالات ہیں، اور اعلیٰ حکام یا سیاسی رہنماؤں کا شدید دباؤ موجود ہے۔ اس ماحول میں تفتیش کے لیے سرکاری فنڈز کی عدم فراہمی تفتیشی افسر کو سائلین یا ملزمان سے غیر قانونی رقوم وصول کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اگر کوئی نیا افسر اس کرپٹ اور ظالمانہ نظام کا حصہ بننے سے انکار کرے اور ایمانداری پر قائم رہنے کی کوشش کرے، تو اسے انتظامی سزا کے طور پر دور دراز کے علاقوں میں ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے، کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے، یا اس کی پروموشن کی راہ میں قانونی اور انتظامی روڑے اٹکا دیے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نظام میں بقا اور نوکری بچانے کے لیے ہر نیا آنے والا ملازم بھی رفتہ رفتہ پرانے ملازمین کی طرز پر ڈھل جاتا ہے اور اسی ظالمانہ تھانہ کلچر کی کڑی بن جاتا ہے۔
نظام کی اس خوفناک صورتحال کے باوجود، اس پورے ادارے کو ایک ہی دن میں ختم کر کے یکدم بالکل نئی فورس کھڑی کرنا عملی، قانونی اور سیکیورٹی نقطہ نظر سے ممکن نہیں ہے، کیونکہ کسی بھی ملک میں پولیس کو راتوں رات غائب کر دینے سے امن و امان کا ایک ایسا ہولناک خلا پیدا ہو جائے گا جس کا فائدہ جُرم پیش حرفہ عناصر، دہشت گرد اور انتہا پسند گروہ اٹھائیں گے اور پورا معاشرہ انارکی کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ اس لیے حل یکدم تباہی میں نہیں بلکہ ایک طے شدہ، مرحلہ وار اور سخت قسم کی ساختی اور قانونی اصلاحات میں مضمر ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے جامع اور پیشرفتہ مسودہ پولیس آرڈر 2002ء تھا جسے قانونی اور انتظامی ماہرین کی ایک لمبی تحقیق کے بعد تیار کیا گیا تھا۔ اس قانون کی بنیادی روح یہ تھی کہ پولیس کی آپریشنل کمانڈ کو سیاسی انتظامیہ کے ناجائز اثر سے مکمل آزاد کیا جائے، آئی جی، ایس ایس پی اور ایس ایچ او کی مقررہ مدتِ ملازمت کو قانونی تحفظ دیا جائے تاکہ انہیں کسی بھی ناجائز حکم کو ماننے سے انکار کی پاداش میں فوری ٹرانسفر نہ کیا جا سکے، اور تفتیش کے شعبے کو امن و امان قائم کرنے والے شعبے سے مکمل طور پر الگ کر دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ڈسٹرکٹ، پروونشل اور نیشنل لیول پر خودمختار پبلک سیفٹی کمیشنز اور آزاد پولیس کمپلینٹ اتھارٹیز کے قیام کی تجویز دی گئی تھی تاکہ سویلین اور سوسائٹی کے اراکین پولیس پر نظر رکھ سکیں۔
تاہم پولیس آرڈر 2002ء کبھی بھی اپنی اصل روح کے ساتھ ملک میں نافذ نہ ہو سکا۔ اس ناکامی کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ اور بیوروکریسی کا وہ شدید مقاومت تھا جس کے تحت وہ پولیس پر سے اپنا دہائیوں پرانا ناجائز سیاسی اثر و رسوخ ختم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر اراکینِ اسمبلی، مقامی سیاستدان اور حکمران طبقہ تھانے کے ایس ایچ او کی تعیناتی کو اپنے علاقے میں طاقت کی علامات، مخالفین پر پرچے درج کروانے، اور الیکشن کے دوران دھاندلی یا کنٹرول قائم کرنے کے بنیادی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اگر پولیس آرڈر 2002ء مکمل طور پر نافذ ہو جاتا تو سیاستدانوں کا یہ سیاسی ہتھکنڈہ اور تھانے کی سطح کا ڈراو ختم ہو جاتا۔ چنانچہ 2004ء میں سیاسی حکومتوں نے قانون میں ترامیم کے ذریعے پبلک سیفٹی کمیشنز کی ساخت کو بدل کر ان میں دوبارہ سیاسی نمائندوں اور وزراء کا کنٹرول قائم کر دیا، اور بعد میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد تمام صوبوں نے امن و امان کو صوبائی موضوع قرار دے کر اپنے اپنے مرضی کے قوانین بنا لیے، جس سے پولیس آرڈر 2002ء کا ملکی سطح کا مربوط فریم ورک یکسر تباہ ہو گیا۔
سیاسی مداخلت کا خاتمہ پولیس کی آزادی اور غیر جانبدارانہ کارکردگی کے لیے بنیادی شرط ہے۔ اس مقصد کے لیے آئی جی پی اور تمام فیلڈ کمانڈرز کی کم از کم تین سال کی مدتِ ملازمت کو آئینی تحفظ دینا ہوگا تاکہ انہیں کسی سیاسی دباؤ کے سامنے جھکنا نہ پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام تر پروموشنز، ٹرانسفرز اور پوسٹنگز کا اختیار صوبائی حکومتوں، وزراء اعلیٰ اور ایم این ایز یا ایم پی ایز سے واپس لے کر ایک مکمل خودمختار پولیس سروسز بورڈ کے سپرد کرنا ہوگا جس کے فیصلوں میں سیاسی مداخلت کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔ اسی طرح شہریوں کی جانب سے پولیس مظالم، ناجائز حراست، رشوت اور بدسلوکی کی شکایات کی تحریری اور آزادانہ تحقیقات کے لیے پولیس کے دائرہ اختیار سے باہر ایک خودمختار سویلین پولیس کمپلینٹس اتھارٹی کا فعال قیام ناگزیر ہے جس کے اراکین میں ریٹائرڈ قضاۃ، سول سوسائٹی کے اراکین اور انسانی حقوق کے ماہرین شامل ہوں۔
تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے اور سائلین کو خوف و ہراس کے ماحول سے آزاد کرانے کے لیے جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، یعنی ای پولیسنگ کا استعمال ایک کلاسی کی انقلاب ثابت ہو سکتا ہے۔ موجودہ نوآبادیاتی ڈھانچے میں ایک عام شہری کو ایف آئی آر کے اندراج کے لیے تھانے کے محرر یا ایس ایچ او کی مرضی، رشوت اور سیاسی سفارش کا محتاج ہونا پڑتا ہے۔ جب اس تمام عمل کو آن لائن سی ایم ایس اور مرکزی کلاؤڈ پورٹلز پر منتقل کر دیا جائے گا، تو شہری گھر بیٹھے یا مرکزی سویلین خدمات مراکز کے ذریعے بلا جھجک اور بغیر کسی بدسلوکی کے اپنی شکایات اور ایف آئی آر کا اندراج کرا سکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ تھانوں میں تعینات روایتی بدتمیز عملے کی جگہ جدید آئی ٹی سے آراستہ سویلین فرنٹ ڈیسک عملے کا قیام ایک مثبت تبدیلی کا باعث بن رہا ہے، جس کو پورے ملک کے ہر تھانے تک وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، گرفتاریوں، چھاپوں اور حراست کے دوران پولیس اہلکاروں کے لیے باڈی کیمروں کا استعمال لازمی قرار دیا جائے اور تھانوں میں ویڈیو مانیٹرنگ کے ذریعے ہر حراست میں لیے گئے شخص کا ڈیٹا جیو ٹیگنگ کے ساتھ سینٹرل ڈیش بورڈ پر اپ لوڈ کیا جائے تاکہ تحویل میں تشدد، جعلی پولیس مقابلوں، اور خفیہ حراست کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو سکے۔
پولیس تفتیش کے نظام کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ دہائیوں سے اس کا پورا انحصار سائنسی اور فورنزک شواہد کے بجائے ملزم پر بدترین جسمانی تشدد کر کے اس سے اقبالِ جرم کروانے پر رہا ہے۔ تشدد کا یہ روایتی طریقہ کار نہ صرف انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے بلکہ اس کی وجہ سے اکثر بے گناہ افراد سزائے موت یا عمر قید کی سزا پا جاتے ہیں جبکہ حقیقی اور چالاک مجرم سائنسی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے عدالتوں سے برأت حاصل کر لیتے ہیں۔ اس اندوہناک صورتحال کو بدلنے کے لیے پنجاب فورنزک سائنس ایجنسی کی طرز پر پورے ملک اور تمام صوبوں میں جدید ترین فورنزک لیبارٹریز کا نیٹ ورک قائم کرنا ہوگا اور تفتیشی افسران کے لیے سائنسی بنیادوں پر ثبوت جمع کرنے کی تربیت لازمی بنانی ہوگی۔ جب کسی بھی جرم کی تفتیش کا محور ڈی این اے، فنگر پرنٹس، کیمیکل انالائزس، ڈیوائس فورنزکس، اور فائر آرمز بالسٹکس جیسے سائنسی شواہد بن جائیں گے تو تشدد کی ضرورت خود بخود ختم ہو جائے گی اور عدالتوں میں مجرموں کو سزا ملنے کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
تاہم فورنزک اور ڈیجیٹل شواہد کا فائدہ اس وقت تک حاصل نہیں کیا جا سکتا جب تک ملک کے قانونی فریم ورک بالخصوص قانونِ شہادت 1984ء میں بنیادی ترامیم نہ کی جائیں۔ پاکستان کا قانونِ شہادت بنیادی طور پر برطانوی دور کے 1872ء کے قانون کا چربہ ہے جو بنیادی طور پر زبانی گواہیوں اور کاغذی دستاویزات کو اہمیت دیتا ہے۔ اگرچہ قانونِ شہادت کے آرٹیکل 164 کے تحت جدید آلات کے ذریعے حاصل شدہ شواہد کو قبول کرنے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن اب بھی ٹرائل کورٹس میں ڈیجیٹل ثبوت، ویڈیو فوٹیج اور فورنزک رپورٹس کی قانونی حیثیت کو ججوں کی ذاتی مرضی اور زبانی گواہیوں کے تابع رکھا جاتا ہے۔ اگر گواہ اپنے بیان سے مکر جائے تو پورا کیس ناکام ہو جاتا ہے۔ اس لیے قانون میں واضح اور حتمی ترمیمی شقیں شامل کر کے فورنزک سائنس اور ڈیجیٹل شواہد کو خودمختار اور بنیادی قانونی ثبوت کی کامل حیثیت دینا ہوگی تاکہ کسی چشم دید گواہ کے نہ ہونے یا مکر جانے پر بھی ملزم کو سائنسی شواہد کی بنیاد پر سزا دی جا سکے۔
پاکستان کا پولیسنگ نظام الگ تھلگ رہ کر درست نہیں ہو سکتا کیونکہ پولیس ملک کے تین رکنی کرمنل جسٹس سسٹم کی صرف ایک کڑی ہے۔ باقی دو کڑیاں پراسیکیوشن اور عدالتی نظام ہیں۔ اس وقت ان تینوں اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن کی شدید ترین کمی ہے جس کا پورا فائدہ مجرم طبقہ اٹھاتا ہے۔ پولیس تفتیش کر کے ناقص چالان عدالت بھیجتی ہے، پراسیکیوشن کا ادارہ مقدمے کی پیروی میں کاہلی دکھاتا ہے، اور عدالتیں سالہا سال تک مقدمات کو التوا میں رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان میں مجرموں کو سزا ملنے کا تناسب انتہائی شرمناک یعنی پانچ سے دس فیصد کے درمیان ہے۔ اس نظام کو کارآمد بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سنگین مقدمات کی ایف آئی آر درج ہوتے ہی پراسیکیوشن کے ادارے کو تفتیشی افسر کے ساتھ جوڑا جائے تاکہ چالان کو قانونی طور پر اتنا مضبوط بنایا جا سکے کہ وہ عدالت میں مسترد نہ ہو۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک مربوط کرمنل جسٹس انفارمیشن سسٹم کا قیام ناگزیر ہے جس کے ذریعے پولیس، فورنزک لیب، پراسیکیوشن، جیل خانہ جات اور عدالتوں کا تمام ڈیجیٹل ڈیٹا ایک ہی مرکزی پورٹل پر مربوط اور سنکرونائز ہو۔ اس سے نہ صرف قیدیوں کی پیشی کے مسائل ختم ہوں گے بلکہ فائلوں کا غائب ہونا، گواہوں کے نوٹس میں تاخیر اور التوا کے حربے ختم ہوں گے۔ ٹرائل کورٹس کے لیے مقدمات کے فیصلوں کی سخت قانونی میعاد مقرر کی جائے، جیسے معمولی جرائم کے لیے تین ماہ اور سنگین جرائم کے لیے چھ ماہ کی حد، اور بلاجواز التوا مانگنے والے وکلاء اور کاہل تفتیشی افسران پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں۔ مزید برآں، گواہوں کے تحفظ کے لیے خودمختار اور مؤثر وٹنس پروٹیکشن پروگرام کا قیام اور تفتیشی فنڈز کی براہِ راست شفاف فراہمی ہی ایک ایسا راستہ ہے جس پر عمل کر کے پاکستان کے پولیسنگ اور کرمنل جسٹس سسٹم کو ایک جدید، شفاف، سائنسی اور عادلانہ عوامی سروس میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
