نیتن یاہو کا آخری سیاسی معرکہ: اقتدار، جنگ، کرپشن اور عالمی قانون کی گرفت میں اسرائیل کا مستقبل
میاں افتخار احمد
بنیامین نیتن یاہو کی سیاست اب محض ایک وزیراعظم کی کرسی بچانے کی جدوجہد نہیں رہی بلکہ یہ اسرائیل کے جمہوری نظام، عدلیہ کی آزادی، جنگی حکمت عملی، عالمی قانون کی بالادستی، امریکی خارجہ پالیسی اور مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کا ایک ایسا امتحان بن چکی ہے جس کے اثرات اسرائیل کی سرحدوں سے کہنیتن یاہو کا سیاسی مستقبل اور اسرائیل کا بحرانیں آگے تک محسوس کیے جائیں گے۔ 27 اکتوبر 2026 کو ہونے والے اسرائیلی پارلیمانی انتخابات اس بحران میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان انتخابات میں عوام صرف سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کا انتخاب نہیں کریں گے بلکہ وہ بالواسطہ طور پر اس سوال کا جواب بھی دیں گے کہ آیا موجودہ طرزِ حکمرانی، مسلسل سکیورٹی بحران، فلسطینی مسئلے کے بارے میں سخت گیر پالیسی اور وزیراعظم کے خلاف جاری قانونی کارروائیوں کے باوجود نیتن یاہو کو اقتدار میں رہنا چاہیے یا ملک کو ایک نئی سیاسی سمت اختیار کرنی چاہیے۔ یورپی پارلیمنٹ کی تحقیقی سروس، اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ اور دیگر پالیسی اداروں کے انتخابی تجزیوں میں حکومت کی تشکیل، دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد، فوجی خدمات سے متعلق تنازعات، عدالتی اصلاحات اور 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد حکومتی جواب دہی کو اہم انتخابی موضوعات کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ تاہم انتخابات کا نتیجہ اور اس کے بعد حکومت سازی کی صورت حال پہلے سے طے شدہ نہیں سمجھی جا سکتی، کیونکہ اسرائیل کا پارلیمانی نظام مخلوط حکومتوں اور مختلف جماعتوں کے درمیان مذاکرات پر انحصار کرتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ انتخابات میں نیتن یاہو کی شکست لازماً ان کی گرفتاری یا قید پر منتج ہوگی، یا ان کی کامیابی انہیں عدالتی کارروائیوں سے خودکار طور پر نجات دلا دے گی۔ اصل معاملہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ نیتن یاہو کے خلاف اسرائیلی عدالتوں میں زیرِ سماعت بدعنوانی کے مقدمات اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کی کارروائی دو الگ قانونی محاذ ہیں، جنہیں سمجھنا اس پورے سیاسی بحران کی حقیقت جاننے کے لیے ضروری ہے۔ اسرائیل کی یروشلم ڈسٹرکٹ کورٹ میں نیتن یاہو کے خلاف تین معروف مقدمات، جنہیں کیس 1000، کیس 2000 اور کیس 4000 کہا جاتا ہے، برسوں سے ملکی سیاست پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ کیس 1000 میں الزام ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے خاندان نے کاروباری شخصیات آرنون ملچن اور جیمز پیکر سے مہنگے تحائف حاصل کیے اور اس کے بدلے سرکاری اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے بعض معاملات میں ان کے مفادات کو فائدہ پہنچایا۔ ان تحائف میں سگار، شیمپین اور دیگر قیمتی اشیا شامل ہونے کے الزامات زیرِ بحث رہے ہیں۔ کیس 2000 میں اخبار یدیعوت احرونوت کے ناشر آرنون موزس کے ساتھ مبینہ گفتگو کا معاملہ ہے، جس میں الزام ہے کہ میڈیا کوریج میں نرمی کے بدلے ایک حریف اخبار کی گردش محدود کرنے کے امکانات پر بات ہوئی۔ کیس 4000 کو ان مقدمات میں سب سے سنگین سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس میں الزام ہے کہ نیتن یاہو نے مواصلاتی وزیر کی حیثیت سے بزک ٹیلی کام کمپنی کے لیے ضابطہ جاتی فوائد کی منظوری میں کردار ادا کیا اور اس کے بدلے کمپنی سے منسلک والا نیوز ادارے کی کوریج میں ان کے حق میں نرمی یا مثبت رویہ حاصل کیا۔ ان مقدمات میں رشوت ستانی، دھوکا دہی اور خیانتِ امانت سے متعلق الزامات شامل ہیں، تاہم کسی الزام کو حتمی عدالتی فیصلے سے پہلے ثابت شدہ جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نیتن یاہو ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں اور ان کے دفاع کا مؤقف رہا ہے کہ مقدمات سیاسی محرکات سے متاثر ہیں۔ ان کا قانونی دفاع، استغاثہ کے شواہد، گواہوں کے بیانات اور ججوں کی تشخیص ہی بالآخر طے کرے گی کہ ان مقدمات کا انجام کیا ہوگا۔ 2026 میں بھی مقدمات کی کارروائی اور گواہوں سے متعلق سوالات اسرائیلی سیاسی بحث کا حصہ ہیں، لیکن انتخابات کے دن کو عدالتی فیصلے کی تاریخ سمجھنا درست نہیں۔ انتخابی نتیجہ حکومت سازی اور سیاسی طاقت کا توازن بدل سکتا ہے، جبکہ مقدمات اپنی الگ قانونی رفتار کے مطابق آگے بڑھیں گے۔ اگر کسی مقدمے میں جرم ثابت ہوتا ہے تو سزا کا تعین متعلقہ قانون، جرم کی نوعیت اور عدالت کے فیصلے کے مطابق ہوگا۔ اسی طرح کسی شخص کو عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دینے کے قانونی تقاضے بھی الگ ہیں؛ یہ نتیجہ ہر مقدمے میں خودکار طور پر لاگو نہیں ہوتا۔ اس قانونی صورت حال کا ایک اہم پہلو اسرائیل میں عدلیہ اور حکومت کے اختیارات کا تنازع ہے۔ 2023 میں حکومت کی جانب سے پیش کی گئی عدالتی اصلاحات نے اسرائیل کے اندر بڑے پیمانے پر احتجاج، سیاسی تقسیم اور جمہوری اداروں کی آزادی سے متعلق شدید بحث کو جنم دیا تھا۔ اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ نے اپنی آئینی اور جمہوری نگرانی کی تحقیق میں عدالتی آزادی، ریاستی اداروں کے درمیان توازن، شہری حقوق اور حکومتی اختیارات کی حدود کو اسرائیل کے مستقبل کے بنیادی سوالات میں شمار کیا ہے۔ ان مباحث کا تعلق صرف نیتن یاہو کی ذات سے نہیں بلکہ اس اصول سے ہے کہ آیا منتخب حکومت عدلیہ پر ایسے اثرات مرتب کر سکتی ہے جو اس کی آزادانہ نگرانی کو کمزور کر دیں۔ حکومت کے حامی بعض اصلاحات کو منتخب نمائندوں کے اختیارات بحال کرنے کا اقدام قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کے نزدیک ایسی تبدیلیاں عدالتی نگرانی اور آئینی توازن کو کمزور کر سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہو کے مقدمات کو صرف ایک سیاسی رہنما کے خلاف کارروائی کے طور پر نہیں بلکہ اسرائیل کے ادارہ جاتی نظام کی آزمائش کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوشن، سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز، کونسل

آن فارن ریلیشنز اور دیگر بین الاقوامی پالیسی اداروں کی اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ سے متعلق تحقیق اس وسیع تر تناظر کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے، اگرچہ ان اداروں کے ہر تجزیے کو نیتن یاہو کے خلاف کسی مخصوص الزام کی تصدیق سمجھنا درست نہیں۔ تھنک ٹینکس عمومی طور پر سیاسی محرکات، ادارہ جاتی کمزوریوں، علاقائی سلامتی اور پالیسی کے ممکنہ نتائج کا تجزیہ کرتے ہیں؛ وہ فوجداری عدالت کا متبادل نہیں ہوتے۔ نیتن یاہو کے لیے دوسرا اور کہیں زیادہ پیچیدہ محاذ بین الاقوامی فوجداری عدالت ہے، جس نے 21 نومبر 2024 کو ان کے اور اسرائیل کے سابق وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ عدالت کے مطابق ان افراد پر غزہ کی صورت حال کے سلسلے میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری سے متعلق الزامات ہیں۔ ان میں جنگ کے طریقۂ کار کے طور پر بھوک کو استعمال کرنے اور شہری آبادی کے خلاف حملوں سے متعلق الزامات بھی شامل ہیں۔ یہاں قانونی فرق واضح رہنا چاہیے: گرفتاری کا وارنٹ اس بات کی علامت ہے کہ عدالت نے قانونی معیار کے مطابق کارروائی کے لیے بنیاد پائی، لیکن یہ بذاتِ خود کسی ملزم کی حتمی مجرمانہ سزا یا جرم کے قطعی ثبوت کے مترادف نہیں۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت فرد کی مبینہ فوجداری ذمہ داری کا جائزہ لیتی ہے، جبکہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف ریاستوں کے درمیان تنازعات اور بین الاقوامی قانون کے سوالات پر فیصلہ کرتی ہے۔ دونوں عدالتوں کو ایک سمجھ لینا قانونی اور صحافتی غلطی ہوگی۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی کارروائی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس کے وارنٹس کا عملی اثر ان ریاستوں کے تعاون پر منحصر ہے جو روم اسٹیچوٹ کے تحت عدالت کی رکن ہیں، نیز متعلقہ قانونی استثناؤں، عدالتی تشریحات اور ریاستی ذمہ داریوں پر بھی۔ اس لیے یہ کہنا کہ نیتن یاہو دنیا کے ہر ملک میں سفر نہیں کر سکتے، یا ہر رکن ملک میں گرفتاری کا نتیجہ ہر صورت خودکار ہوگا، حد سے زیادہ قطعی دعویٰ ہے۔ اس کے باوجود وارنٹس ان کے لیے حقیقی سفارتی اور سفری مشکلات پیدا کرتے ہیں، کیونکہ متعدد ممالک کو اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں اور سیاسی تعلقات کے درمیان فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے سرکاری ریکارڈ میں نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ اور ان سے متعلق الزامات درج ہیں، جبکہ اسرائیل نے عدالت کے دائرۂ اختیار اور کارروائی پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ یہ قانونی کشمکش اس وسیع تر سوال کو سامنے لاتی ہے کہ بین الاقوامی قانون کی عمل داری کس حد تک طاقتور ریاستوں اور ان کے رہنماؤں پر بھی مؤثر ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں جنوبی افریقہ بمقابلہ اسرائیل کا مقدمہ اس بحران کا ایک الگ اور اہم باب ہے۔ جنوبی افریقہ نے نسل کشی کے کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف کارروائی کی درخواست دی۔ عدالت نے 2024 میں متعدد عبوری احکامات جاری کیے جن میں متعلقہ حقوق کے تحفظ، نسل کشی کے کنونشن کے تحت ممنوعہ اعمال کی روک تھام اور انسانی امداد کی فراہمی سے متعلق اقدامات شامل تھے۔ بعد میں عدالت نے بعض دیگر درخواستوں اور حالات پر بھی غور کیا۔ ان عبوری احکامات کو حتمی فیصلے کے برابر قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ نسل کشی کے الزام پر حتمی قانونی نتیجہ اور ریاستی ذمہ داری کا تعین الگ عدالتی مراحل کا تقاضا کرتا ہے۔ عدالت نے جولائی 2024 میں اپنی مشاورتی رائے میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی موجودگی اور قبضے کے قانونی پہلوؤں پر بھی اہم مؤقف اختیار کیا۔ اس پیش رفت نے فلسطینی مسئلے کو محض علاقائی تنازع کے بجائے بین الاقوامی قانون، حقِ خودارادیت، انسانی حقوق اور ریاستی ذمہ داری کے بنیادی سوالات کے ساتھ جوڑ دیا۔ یہاں ایک بنیادی حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کا مقدمہ افراد کی ممکنہ مجرمانہ ذمہ داری سے متعلق ہے، جبکہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کا مقدمہ ریاستی ذمہ داری اور بین الاقوامی قانون کی تشریح سے تعلق رکھتا ہے۔ دونوں کارروائیوں کے سیاسی اثرات ایک دوسرے سے جڑے ہو سکتے ہیں، مگر ان کے قانونی دائرے الگ ہیں۔ چیتھم ہاؤس، کونسل آن فارن ریلیشنز، انٹرنیشنل کرائسس گروپ اور دیگر تحقیقی ادارے مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں بین الاقوامی قانون، سفارت کاری، علاقائی طاقتوں کے مفادات اور انسانی بحران کے تعلق پر تحقیق کرتے رہے ہیں۔ ان کے تجزیوں سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ جب کسی ریاست کے خلاف بین الاقوامی قانونی کارروائی ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف عدالت کے کمرۂ سماعت تک محدود نہیں رہتے بلکہ اسلحے کی فراہمی، سفارتی دوروں، تجارتی تعلقات، دفاعی تعاون اور عالمی رائے عامہ تک پھیل سکتے ہیں۔ تاہم کسی تھنک ٹینک کے عمومی تجزیے کو عدالت کے کسی مخصوص مقدمے میں حتمی فیصلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ اس پورے بحران میں کیا کردار ادا کرے گا۔ اسرائیل کے لیے امریکی حمایت طویل عرصے سے اس کی دفاعی اور سفارتی حکمت عملی کا مرکزی ستون رہی ہے۔ امریکی عسکری امداد، دفاعی ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس تعاون اور اقوام متحدہ میں سفارتی اثرورسوخ اسرائیل کی علاقائی پوزیشن کو مضبوط بناتے ہیں۔ لیکن امریکی پالیسی کے اندر بھی مختلف اداروں، سیاسی جماعتوں، کانگریس، انتظامیہ اور عوامی رائے کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی، کونسل آن فارن ریلیشنز اور سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز جیسے ادارے اس امر کا تجزیہ کرتے ہیں کہ اسرائیل کی داخلی سیاست امریکی مفادات، علاقائی استحکام، ایران سے متعلق حکمت عملی اور فلسطینی تنازع کے سفارتی حل کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔ امریکی حکومت کے لیے ایک بنیادی مشکل یہ ہے کہ اسرائیل کی سلامتی کی حمایت کرتے ہوئے انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور خطے میں امریکی اعتبار کے تقاضوں کو کس طرح متوازن رکھا جائے۔ اگر واشنگٹن اسرائیل کی حکومت کو غیر مشروط سیاسی تحفظ فراہم کرتا دکھائی دے تو اس سے عرب دنیا اور دیگر خطوں میں امریکہ کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر امریکی حکومت اسرائیل پر دباؤ بڑھاتی ہے تو اسے اپنے اتحادیوں کے ساتھ دفاعی تعلقات، داخلی سیاسی ردِعمل اور علاقائی سلامتی کے خدشات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے امریکی پالیسی کو صرف نیتن یاہو کی شخصیت سے منسوب کرنا بھی درست نہیں؛ اس میں امریکی مفادات، داخلی سیاست، کانگریس، علاقائی خطرات اور اتحادی تعلقات سب اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے رویے کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ نیتن یاہو اور امریکی قیادت کے درمیان سیاسی قربت کے باوجود ہر معاملے میں مکمل اتفاق فرض نہیں کیا جا سکتا۔ غزہ میں جنگ کے خاتمے، قیدیوں اور یرغمالیوں کے معاملات، ایران، لبنان، شام، علاقائی سفارت کاری اور اسرائیل کے مستقبل کے بارے میں دونوں حکومتوں کی ترجیحات میں فرق پیدا ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے حکام کے خلاف امریکی پابندیوں اور عدالت کی کارروائی پر امریکی اعتراضات نے بھی یہ سوال اٹھایا ہے کہ بین الاقوامی عدالتی اداروں کے ساتھ تعاون کی حدود کیا ہونی چاہییں۔ اس تنازع کا بنیادی مسئلہ صرف امریکہ اور اسرائیل کا تعلق نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ عالمی نظام میں قانون اور طاقت کے درمیان توازن کیسے قائم ہو۔ اگر بین الاقوامی قانون کی حمایت صرف ان حالات میں کی جائے جب وہ کسی حریف ریاست کے خلاف استعمال ہو، اور اتحادیوں کے معاملے میں اس کے نفاذ کی مخالفت کی جائے، تو عالمی انصاف کے اصولوں پر سوالات اٹھتے ہیں۔ لیکن اسی طرح کسی عدالتی کارروائی کے سیاسی اثرات کو بنیاد بنا کر اس کے تمام قانونی پہلوؤں کو رد کر دینا بھی درست نہیں۔ اصل معیار شواہد، قانونی دائرۂ اختیار، منصفانہ کارروائی اور یکساں اصول ہونا چاہیے۔ یورپی ممالک کے لیے یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہے، کیونکہ متعدد یورپی ریاستیں روم اسٹیچوٹ کی رکن ہیں اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ساتھ تعاون کی ذمہ داریاں رکھتی ہیں۔ ایسے ممالک کو اگر نیتن یاہو کے ممکنہ دورے کا سامنا کرنا پڑے تو انہیں اپنے قانونی فرائض، سفارتی تعلقات اور سکیورٹی مفادات کا جائزہ لینا ہوگا۔ ہر ملک کی صورت حال ایک جیسی نہیں، اور گرفتاری کے عملی فیصلے میں قانونی تشریح اور متعلقہ حالات اہم ہوتے ہیں۔ دوسری طرف عرب ممالک کے لیے یہ صورت حال ایک سفارتی موقع بھی پیدا کرتی ہے اور ایک خطرہ بھی۔ بعض عرب حکومتیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات، تجارت اور علاقائی سکیورٹی کے معاملات کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں، جبکہ فلسطینی ریاست کے قیام اور غزہ کی تباہی کے بعد انسانی و سیاسی دباؤ کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتیں۔ ابراہیمی معاہدوں کے تحت قائم ہونے والے تعلقات اور اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی روابط کا مستقبل فلسطینی مسئلے، علاقائی سلامتی اور عوامی رائے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اسرائیل کی قیادت عالمی سطح پر زیادہ قانونی اور سفارتی دباؤ کا شکار ہوتی ہے تو عرب ممالک فلسطینی ریاست کے قیام، غزہ کی تعمیرِ نو اور فلسطینی عوام کے سیاسی حقوق سے متعلق مطالبات کو زیادہ قوت کے ساتھ اٹھا سکتے ہیں۔ تاہم یہ نتیجہ خودکار نہیں، کیونکہ ہر عرب ملک کی خارجہ پالیسی اپنے قومی مفادات، ایران کے ساتھ تعلقات، امریکہ سے وابستگی اور داخلی حالات کے مطابق تشکیل پاتی ہے۔ اب اس بحران کا سب سے حساس پہلو غزہ کی جنگ اور نیتن یاہو کی سیاسی بقا کے درمیان ممکنہ تعلق ہے۔ اسرائیل کے اندر اور باہر بعض ناقدین یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ طویل جنگ، مسلسل سکیورٹی بحران اور ہنگامی سیاسی ماحول حکومت پر ہونے والی داخلی تنقید کو پس منظر میں دھکیل سکتا ہے۔ ان کے نزدیک جنگ کے دوران اقتدار برقرار رکھنا نیتن یاہو کے سیاسی مفادات سے مطابقت رکھ سکتا ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب ان کے خلاف مقدمات بھی زیرِ سماعت ہوں۔ لیکن یہ کہنا کہ جنگ صرف مقدمات سے بچنے کے لیے جاری رکھی گئی، ایک سنگین دعویٰ ہے جسے ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے اسرائیل کی سکیورٹی پالیسی، حماس کے ساتھ تنازع، یرغمالیوں کی رہائی، فوجی اہداف، اتحادی جماعتوں کے دباؤ، عوامی رائے اور حکومت کے سیاسی مفادات سب کا الگ الگ جائزہ ضروری ہے۔ انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی تحقیق اور تجزیے تنازعات کے سیاسی اسباب، جنگ بندی کے امکانات، مذاکراتی رکاوٹوں اور شہری آبادی پر اثرات کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں۔ اسی طرح چیتھم ہاؤس، سی ایس آئی ایس اور کونسل آن فارن ریلیشنز کی مشرقِ وسطیٰ سے متعلق تحقیق یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ عسکری کامیابی اور سیاسی حل ایک ہی چیز نہیں۔ کسی جنگ میں فوجی اہداف حاصل کرنے کے باوجود دیرپا امن، قابلِ قبول سیاسی انتظام اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی نہیں ہو جاتا۔ غزہ میں تباہی، بے گھر ہونے والے خاندانوں، انسانی امداد کی ضروریات، بنیادی ڈھانچے کی بربادی اور مستقبل کی حکمرانی کے سوالات کسی بھی اسرائیلی حکومت کے سامنے رہیں گے۔ اگر سیاسی قیادت ان مسائل کا قابلِ عمل حل پیش کرنے میں ناکام رہتی ہے تو جنگ کے فوری نتائج سے قطع نظر طویل مدتی سلامتی کے مسائل مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں، لبنان کی صورت حال، شام میں طاقت کے توازن اور خلیجی ممالک کے سفارتی کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ نیتن یاہو کی سیاسی کمزوری سے اسرائیل کی پالیسی میں نرمی پیدا ہو سکتی ہے، لیکن اس کے برعکس دائیں بازو کی جماعتیں حکومت کو مزید سخت اقدامات کی طرف بھی دھکیل سکتی ہیں۔ اگر کوئی نئی حکومت بنتی ہے تو اس کی پالیسی کا انحصار صرف وزیراعظم کے نام پر نہیں بلکہ اتحادی جماعتوں، فوجی قیادت، سکیورٹی اداروں، پارلیمانی اکثریت اور عوامی دباؤ پر بھی ہوگا۔ اس لیے اسرائیل میں قیادت کی تبدیلی کو مشرقِ وسطیٰ کے تمام تنازعات کے حل کی ضمانت سمجھنا غیر حقیقت پسندانہ ہوگا۔ البتہ نئی حکومت کے پاس جنگ بندی، انسانی امداد، یرغمالیوں کے معاملے، فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ تعلقات اور علاقائی سفارت کاری کے لیے مختلف راستے اختیار کرنے کا موقع ہو سکتا ہے۔ اسی طرح موجودہ حکومت کی واپسی بھی لازماً یہ معنی نہیں رکھے گی کہ اسرائیل کی تمام پالیسیاں بلا تبدیلی جاری رہیں گی؛ داخلی دباؤ، اتحادیوں کی ترجیحات اور بین الاقوامی تعلقات اسے فیصلوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ اسرائیل کی معیشت اس پورے بحران کا ایک اور اہم میدان ہے۔ طویل جنگ کے باعث دفاعی اخراجات میں اضافہ، فوجی اہلکاروں اور ریزرو فورس کی بار بار طلبی، کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ، سیاحت پر دباؤ، سرمایہ کاری کے خدشات اور ریاستی بجٹ پر بوجھ جیسے عوامل معاشی پالیسی کو متاثر کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کا شعبہ، جو اسرائیلی معیشت کا اہم حصہ ہے، سیاسی عدم استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی سے متاثر ہو سکتا ہے۔ تاہم کسی مخصوص معاشی نقصان کو صرف نیتن یاہو کے مقدمات یا انتخابات سے منسوب کرنا مناسب نہیں ہوگا؛ جنگ کی مدت، عالمی معاشی حالات، مالیاتی پالیسی، دفاعی اخراجات اور علاقائی خطرات بھی اس میں حصہ ڈالتے ہیں۔ موڈیز، ایس اینڈ پی گلوبل اور دیگر کریڈٹ ریٹنگ اداروں کے جائزے کسی ملک کے قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت، مالیاتی خطرات اور معاشی امکانات کا اندازہ لگانے میں اہم ہوتے ہیں۔ ان کے تجزیوں میں سیاسی استحکام اور سکیورٹی حالات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اسرائیل کے لیے طویل مدتی چیلنج یہ ہے کہ وہ دفاعی ضروریات، سماجی اخراجات، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے درمیان توازن کیسے قائم کرتا ہے۔ اگر سیاسی بحران کے نتیجے میں حکومت سازی طویل ہو جائے، بجٹ کے فیصلے تاخیر کا شکار ہوں یا احتجاج اور عدم استحکام بڑھیں تو معاشی اعتماد مزید متاثر ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف اگر انتخابات کے بعد مستحکم حکومت بن جاتی ہے اور سکیورٹی و معاشی پالیسی میں وضاحت پیدا ہوتی ہے تو سرمایہ کاری کے اعتماد میں بہتری کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کا دارومدار صرف انتخابی نتیجے پر نہیں بلکہ نئی حکومت کے عملی اقدامات پر ہوگا۔ معاشرتی سطح پر اسرائیل میں مذہبی اور سیکولر طبقات، دائیں اور بائیں بازو، عدلیہ کے حامیوں اور حکومتی اصلاحات کے حامیوں، نیز فوجی خدمات اور مذہبی جماعتوں کو دی جانے والی رعایتوں کے معاملے پر اختلافات موجود ہیں۔ اگر سیاسی قیادت ان اختلافات کو مذاکرات اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے حل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو سماجی اعتماد کمزور ہو سکتا ہے۔ تاہم اسرائیل کو لازماً خانہ جنگی کی طرف بڑھتا ہوا ملک قرار دینا شواہد سے آگے بڑھنے کے مترادف ہوگا۔ زیادہ درست تجزیہ یہ ہے کہ گہری سیاسی تقسیم، مسلسل جنگ اور اداروں پر عدم اعتماد کسی بھی جمہوری معاشرے میں حکمرانی کو مشکل بنا سکتے ہیں، اور ان خطرات کو کم کرنے کے لیے شفافیت، جواب دہی اور سیاسی مکالمہ ضروری ہوتے ہیں۔ نیتن یاہو کے لیے سیاسی طور پر نکلنے کے ممکنہ راستوں میں مقدمات کا معمول کے مطابق عدالتی انجام، کسی قانونی سمجھوتے کی کوشش، حکومت سازی میں ناکامی یا کامیابی، اور مستقبل میں سیاسی قیادت کی تبدیلی شامل ہو سکتے ہیں۔ اسرائیل میں ماضی کے بعض اعلیٰ عہدے داروں کے مقدمات نے یہ دکھایا ہے کہ سیاسی طاقت قانونی احتساب سے مستقل تحفظ کی ضمانت نہیں ہوتی۔ تاہم نیتن یاہو کے لیے کسی مخصوص پلی بارگین، صدارتی معافی یا سیاسی ریٹائرمنٹ کے معاہدے کو یقینی امکان کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا، جب تک اس کی تصدیق نہ ہو۔ اسی طرح انتخابات میں کامیابی بذاتِ خود انہیں تمام فوجداری کارروائیوں سے استثنا نہیں دیتی۔ کسی معافی، استثنا یا قانونی سمجھوتے کی حیثیت اسرائیلی قانون، متعلقہ قانونی شرائط اور مجاز حکام کے فیصلوں کے مطابق طے ہوگی۔ اگر ان کے خلاف کوئی حتمی سزا سنائی جاتی ہے تو اس کے سیاسی نتائج جرم کی نوعیت، فیصلے کی تفصیلات اور متعلقہ قانونی قواعد پر منحصر ہوں گے۔ دوسری طرف اگر وہ انتخابات میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو بھی ان کے لیے داخلی مقدمات، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹس، غزہ کی صورت حال، امریکی پالیسی اور اسرائیلی معاشرے کی تقسیم ختم نہیں ہو جائے گی۔ ان کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ قانونی کارروائیوں کا سامنا کرتے ہوئے اداروں پر اعتماد بحال کرنے، معاشی دباؤ کم کرنے اور ملک کی سلامتی کے لیے دیرپا سیاسی حکمت عملی پیش کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی تھنک ٹینکس کی تحقیق کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ کسی ملک کی سلامتی صرف فوجی طاقت، اتحادیوں کی حمایت یا سیاسی قیادت کے استحکام سے نہیں بنتی۔ اس کے لیے قابلِ اعتماد ادارے، واضح قانون، جواب دہ حکومت، معاشی پائیداری اور تنازعات کے سیاسی حل کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔ اسرائیل کے لیے اس وقت ایک ساتھ کئی سوالات کھڑے ہیں: کیا عدلیہ اور حکومت کے درمیان اختیارات کا توازن برقرار رہ سکے گا؟ کیا غزہ کے شہریوں کے لیے انسانی امداد اور بنیادی حقوق کی حفاظت ممکن ہو سکے گی؟ کیا فلسطینی مسئلے کے لیے کوئی قابلِ عمل سیاسی راستہ نکلے گا؟ کیا اسرائیل کے بین الاقوامی اتحادی اس کی سلامتی کی حمایت کرتے ہوئے عالمی قانون سے متعلق اپنے مؤقف میں مستقل مزاجی دکھا سکیں گے؟ اور کیا اسرائیلی قیادت داخلی سیاسی مفادات سے بلند ہو کر طویل مدتی قومی مفاد کو ترجیح دے سکے گی؟ ان سوالات کے جوابات کسی ایک انتخابی رات میں مکمل طور پر سامنے نہیں آئیں گے۔ 27 اکتوبر 2026 کے انتخابات پارلیمانی طاقت کا نیا نقشہ ضرور واضح کریں گے، مگر نئی حکومت کی تشکیل، عدالتی مقدمات، بین الاقوامی کارروائیوں اور جنگ کے سیاسی نتائج کا عمل اس کے بعد بھی جاری رہ سکتا ہے۔ اس پورے معاملے کا عالمی پیغام بھی واضح ہے: طاقتور رہنما سیاسی حمایت کے ذریعے کچھ وقت کے لیے دباؤ کا مقابلہ کر سکتے ہیں، لیکن قانونی اور سیاسی بحرانوں کا پائیدار حل صرف الزام تراشی، اداروں پر حملوں یا بیرونی اتحادیوں کی مدد سے حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے شفاف احتساب، منصفانہ عدالتی کارروائی، انسانی حقوق کا احترام، شہریوں کے تحفظ اور سیاسی تصفیے کی سنجیدہ کوششیں درکار ہوتی ہیں۔ نیتن یاہو کا مستقبل ابھی کسی ایک انجام میں مقید نہیں، مگر ان کے گرد جمع ہونے والے قانونی، سیاسی، معاشی اور سفارتی سوالات اسرائیل کی آئندہ سمت پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ اگر اسرائیلی قیادت ان بحرانوں سے نکلنے کے لیے اداروں کی آزادی، قانون کی بالادستی اور فلسطینی مسئلے کے قابلِ عمل حل کو ترجیح دیتی ہے تو مستقبل میں استحکام کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر اس کے برعکس سیاسی بقا کو قومی مفاد، انسانی تحفظ اور قانونی جواب دہی پر فوقیت دی جاتی ہے تو اسرائیل کو داخلی تقسیم، عالمی سفارتی دباؤ اور علاقائی عدم استحکام کے طویل دور کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہی اس پوری داستان کا بنیادی نکتہ ہے: نیتن یاہو کا امتحان صرف یہ نہیں کہ وہ وزیراعظم رہتے ہیں یا اقتدار سے باہر ہو جاتے ہیں؛ اصل امتحان یہ ہے کہ اسرائیل کی ریاست اپنے طاقتور ترین سیاسی رہنماؤں سمیت ہر شخص کو قانون کے سامنے جواب دہ بنانے، جنگ کے انسانی نتائج کا سامنا کرنے اور خطے میں ایک قابلِ عمل امن کی بنیاد رکھنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔
