نیپال میں گلیشیئر ٹوٹنے کے بعد تباہ کن سیلاب اور ریسکیو آپریشن

کھٹمنڈو: نیپال میں گلیشیئر کے ٹوٹنے کے بعد آنے والے اچانک اور تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں 800 سے زائد افراد لاپتہ ہیں، جبکہ حکام نے بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق گلیشیئر کا ایک حصہ اچانک ٹوٹ کر دریا میں جا گرا، جس کے باعث پانی، کیچڑ، چٹانوں اور ملبے کا ایک بڑا ریلا نیچے کی جانب بہہ نکلا۔ سیلاب نے کئی علاقوں میں گھروں، سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔

نیپال میں گلیشیئر ٹوٹنے سے شدید سیلاب

نیپال میں گلیشیئر ٹوٹنے کا واقعہ ہمالیائی علاقے میں پیش آیا، جہاں اچانک آنے والے پانی اور ملبے نے دریائی نظام کو متاثر کیا۔ شدید سیلاب کے باعث کئی علاقوں میں آمدورفت اور مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا۔

ابتدائی اطلاعات میں مختلف ممکنہ وجوہات کا ذکر کیا گیا تھا، تاہم بعد کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ گلیشیئر کے گرنے سے پیدا ہونے والی توانائی نے خود زلزلے جیسی صورتحال پیدا کی، نہ کہ کسی روایتی زلزلے نے گلیشیئر کو توڑا۔

متاثرہ علاقوں میں دشوار گزار پہاڑی راستے، تباہ شدہ سڑکیں اور بڑی مقدار میں جمع ہونے والا ملبہ امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

نیپال فلیش فلڈ میں 800 سے زائد افراد لاپتہ

نیپال فلیش فلڈ کے بعد حکام نے سیکڑوں افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی ہے۔ لاپتہ افراد میں مقامی شہریوں کے ساتھ سکیورٹی اہلکار اور غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں۔

ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں لاپتہ افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ہیلی کاپٹرز اور دیگر ہنگامی وسائل بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں تک پہنچنے، زخمیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو ضروری سامان فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی

شدید سیلابی ریلے نے دریاؤں کے کنارے واقع آبادیوں کو متاثر کیا اور کئی مقامات پر سڑکیں اور پل بہہ گئے۔ بجلی اور مواصلاتی نظام کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

حکام نے خطرناک علاقوں میں موجود لوگوں کو محتاط رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے، جبکہ مزید سیلاب کے خدشے کے پیش نظر بعض علاقوں میں حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

بین الاقوامی امدادی کوششیں جاری

تباہی کی شدت کے پیش نظر امدادی ادارے اور متعلقہ حکام متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کر رہے ہیں۔ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں خاص طور پر ان علاقوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جہاں بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہی جانی و مالی نقصان کی حتمی تفصیلات سامنے آسکیں گی۔ لاپتہ افراد کی تلاش کے دوران ہلاکتوں اور متاثرین کی تعداد میں تبدیلی بھی متوقع ہے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر ہمالیائی خطے میں گلیشیئر پگھلنے، گلیشیئر کے ٹوٹنے اور اچانک سیلاب کے بڑھتے ہوئے خطرات کو اجاگر کرتا ہے، جہاں پہاڑی آبادیوں کو قدرتی آفات کا مسلسل سامنا رہتا ہے۔