لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: والدین کو اولاد کے قتل پر قصاص سے استثنا، مگر سزا سے نہیں
دو کمسن بیٹوں کے قتل کے مقدمے میں عدالت نے ملزمہ کی عمر قید کی سزائیں تبدیل کرکے ہر قتل پر 10، 10 سال قیدِ بامشقت کا حکم دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے دو کمسن بیٹوں کے قتل کے مقدمے میں اہم قانونی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ والدین کو اپنی اولاد کے قتل کے معاملے میں قصاص سے استثنا حاصل ہوسکتا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں قتل کے جرم پر سزا سے بھی چھوٹ مل جائے گی۔
جسٹس محمد امجد رفیق نے ملزمہ شگفتہ پروین کی اپیل پر 20 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے دونوں بچوں کے قتل کا جرم ثابت رہنے کے باوجود قصاص کے بجائے تعزیری سزا مقرر کرتے ہوئے ملزمہ کی عمر قید کی سزاؤں میں تبدیلی کردی۔
عدالت نے ملزمہ کو ہر قتل کے مقدمے میں 10، 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی۔ اس طرح دونوں مقدمات میں عمر قید کی سزاؤں کو تبدیل کرکے تعزیری سزائیں مقرر کی گئیں۔
قصاص سے استثنا کا مطلب بریت نہیں، عدالت
تحریری فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302(سی) کے تحت ایسے مقدمات میں 25 سال تک قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔
عدالت کے مطابق والدین کو اپنی اولاد کے قتل پر قصاص سے استثنا ملنے کی قانونی گنجائش موجود ہے، لیکن اس رعایت کو جرم سے مکمل بریت نہیں سمجھا جاسکتا۔ قصاص نافذ نہ ہونے کی صورت میں بھی عدالت قتل کے جرم پر تعزیری سزا دے سکتی ہے۔
فیصلے میں اس قانونی اصول کی وضاحت کی گئی ہے کہ قصاص اور تعزیری سزا الگ قانونی تصورات ہیں اور قصاص سے استثنا ملنے کے باوجود قتل کے مرتکب شخص کو قانون کے مطابق سزا دی جاسکتی ہے۔
