خاتون کی موت پر اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ، چیٹ جی پی ٹی پر الزام

Smartphone displaying an AI chatbot interface beside prescription medication, illustrating a lawsuit over alleged medical advice.

امریکی خاتون کی موت پر اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ، والدین کا طبی رہنمائی پر سنگین الزام

سیئٹل میں 31 سالہ سافٹ ویئر انجینئر مردہ پائی گئیں، والدین کا دعویٰ ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے مرگی کی دوا بتدریج بند کرنے اور ڈاکٹروں سے یہ بات چھپانے کی رہنمائی کی۔

امریکی ریاست واشنگٹن میں ایمیزون سے وابستہ 31 سالہ سافٹ ویئر انجینئر بووین وان کی موت کے بعد ان کے والدین نے اوپن اے آئی اور کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو سیم آلٹ مین کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔ والدین نے الزام عائد کیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے ان کی بیٹی کو مرگی کی دوا کی خوراک کم کرکے مکمل طور پر بند کرنے کی رہنمائی فراہم کی، جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق بووین وان کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی مرگی کے دوروں کو قابو میں رکھنے کے لیے روزانہ 400 ملی گرام لیموٹریجین (Lamotrigine) استعمال کرتی تھیں۔ تاہم، مبینہ طور پر چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں انہیں تقریباً 25 روز کے دوران دوا کی مقدار بتدریج کم کرکے صفر تک لانے کا منصوبہ دیا گیا۔

بووین وان کے والد چُن وان نے بتایا کہ بیٹی کی موت کے بعد جب انہوں نے اس کا چیٹ جی پی ٹی اکاؤنٹ کھولا تو انہیں ایسی گفتگو اور ہدایات ملیں جن میں دوا کی خوراک کم کرنے کا منصوبہ موجود تھا۔ والدین کے مطابق چیٹ جی پی ٹی نے مبینہ طور پر انہیں اس منصوبے کے بارے میں ڈاکٹروں کو آگاہ نہ کرنے کی ترغیب بھی دی۔

سیئٹل میں اپارٹمنٹ سے لاش ملی

مقدمے کے مطابق بووین وان رواں سال فروری میں امریکی شہر سیئٹل میں اپنے اپارٹمنٹ میں مردہ پائی گئی تھیں۔ وہ مرگی کے دوروں پر قابو پانے کے لیے باقاعدگی سے لیموٹریجین استعمال کرتی تھیں۔

والدین کا مؤقف ہے کہ دوا کی خوراک تقریباً 25 دن کے دوران انتہائی کم کردی گئی تھی۔ انہوں نے اس معاملے پر اوپن اے آئی اور سیم آلٹ مین کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے قانونی کارروائی شروع کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مقدمہ 27 اکتوبر کو سان فرانسسکو کی سپیریئر کورٹ میں دائر کیا گیا۔ اس میں چیٹ جی پی ٹی کی جانب سے فراہم کردہ مبینہ طبی رہنمائی اور اس کے ممکنہ نتائج کو قانونی جانچ کا موضوع بنایا گیا ہے۔

تاہم مقدمے میں عائد الزامات ابھی عدالتی طور پر ثابت نہیں ہوئے اور موت کی حتمی طبی وجہ کے تعین کے لیے دستیاب معلومات میں مزید تفصیلات شامل نہیں ہیں۔

Related posts

Leave a Comment