میاں افتخار احمد چھٹی صدی عیسوی میں جزیرہ نما عرب ایک نہایت نازک اور پیچیدہ عالمی سیاست کے دھارے میں موجود تھا دنیا میں دو بڑی طاقتیں برسرپیکار تھیں رومن ایمپائر اور فارس کی سلطنتیں جو نہ صرف اپنے مذہبی نظریات بلکہ تجارتی اور عسکری غلبے کے لیے ایک دوسرے کی گردن پر ہاتھ رکھے ہوئی تھیں بحیرہ احمر کی تجارتی گزرگاہیں اور یمن کے ساحلی علاقے ان دونوں کے لیے سب سے زیادہ اہم تھے کیونکہ اس پر کنٹرول حاصل کرنے والا پورے جزیرہ نما عرب کی معیشت اور…
Read More