میاں افتخار احمد ازل کی خاموشی سے ابد کے شور تک کائنات کی پوری داستان دراصل انسان اور اختیار کی کہانی ہے، ایک ایسی کہانی جو اس لمحے سے شروع ہوتی ہے جب وقت کی سوئیاں ابھی پیدا نہیں ہوئی تھیں، جب مکان کی وسعتیں سمٹی ہوئی تھیں، جب مادہ توانائی کے سمندر میں تحلیل تھا اور جب انسانی عقل جسے عدم کہتی ہے وہ دراصل رازِ کن فیکون کی دہلیز تھی، اس لمحے صرف ایک ذات موجود تھی، الحی القیوم، وہ واجب الوجود ہستی جو کسی تعریف، کسی گواہی…
Read MoreMianIftikharAhmad
سائنس کا انسان اور قرآن کا خلیفہ: انسان کی تخلیق ایک ہی حقیقت کے دو زاویے
میاں افتخار احمد انسان کی ابتدا کا سوال محض ایک سائنسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک فکری، اخلاقی اور الہیاتی معمہ ہے جو صدیوں سے انسانی ذہن کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے، ایک طرف جدید سائنس ہے جو تجربہ، مشاہدہ، رکازی شواہد اور جینیاتی تجزیوں کی بنیاد پر انسان کو ایک طویل حیاتیاتی عمل کی پیداوار قرار دیتی ہے، اور دوسری طرف الہامی کتابیں ہیں جو انسان کو محض حیاتیاتی وجود نہیں بلکہ ایک منتخب، باشعور اور اخلاقی ذمہ داری کا حامل وجود بتاتی ہیں، عام طور پر ان…
Read Moreسورۃ الجن غیر مرئی مخلوقات انسانی ادراک اور سائنسی زاویہ
میاں افتخار احمد سورۃ الجن میں بیان کیا گیا ہے کہ کچھ مخلوقات جن انسانی perception سے پوشیدہ ہیں مگر وہ آواز توانائی یا دیگر غیر مرئی ذرائع کے ذریعے معلومات حاصل کر سکتی ہیں۔ یہ انسانی perception کی محدودیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ modern physics میں invisible spectrum اور electromagnetic waves کی طرح جو انسانی حواس سے باہر ہیں۔ قرآن نے 1400 سال پہلے اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ universe میں صرف وہ موجودات نہیں جو براہ راست نظر آئیں بلکہ invisible reality بھی موجود ہے۔ جن…
Read Moreسورہ الفیل: غرورِ طاقت کا زوال، ابابیلوں کا فضائی حملہ، بائیولوجیکل وارفیئر اور کعبہ کی کائناتی مرکزیت
میاں افتخار احمد چھٹی صدی عیسوی میں جزیرہ نما عرب ایک نہایت نازک اور پیچیدہ عالمی سیاست کے دھارے میں موجود تھا دنیا میں دو بڑی طاقتیں برسرپیکار تھیں رومن ایمپائر اور فارس کی سلطنتیں جو نہ صرف اپنے مذہبی نظریات بلکہ تجارتی اور عسکری غلبے کے لیے ایک دوسرے کی گردن پر ہاتھ رکھے ہوئی تھیں بحیرہ احمر کی تجارتی گزرگاہیں اور یمن کے ساحلی علاقے ان دونوں کے لیے سب سے زیادہ اہم تھے کیونکہ اس پر کنٹرول حاصل کرنے والا پورے جزیرہ نما عرب کی معیشت اور…
Read Moreبرزخ :شعور کی آزادی، وقت کی موت، اور ابدیت کی پہلی جھلک ہے
میاں افتخار احمد دنیا، برزخ، قیامت، جنت اور دوزخ دراصل صرف مقامات نہیں بلکہ شعور کے مختلف مدارج ہیں اور ان سب کو سمجھنے کی کنجی وقت یعنی ٹائم کے تصور میں پوشیدہ ہے، انسان دنیا میں پیدا ہوتے ہی ایک ایسے نظام میں داخل ہوتا ہے جہاں وقت خطی ہے، گھڑی کی سوئیاں چلتی ہیں، دن رات بدلتے ہیں، عمر بڑھتی ہے، جسم کمزور ہوتا ہے، یادداشت ماضی میں جاتی ہے اور خواہش مستقبل میں، یہی وہ قید ہے جسے قرآن دنیا کہتا ہے اور اسی لیے دنیا کو…
Read Moreقسَمِ کائنات اور ضمیرِ انسانی: سورۃ الشمس کی نیورو کاسمک تفسیر
میاں افتخار احمد ایک الہامی و سائنسی دیباچہ:قرآن مجید کی سورۃ الشمس، جو کہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور ترتیب کے اعتبار سے 91ویں سورہ ہے، محض چند مختصر آیات پر مشتمل ہے مگر اس کے معانی اور اشارے اتنی گہرائی میں جا پہنچتے ہیں کہ جدید سائنس کی دو عظیم شاخیں یعنی فلکیات اور نیورولوجی اپنے جدید ترین آلات کے ساتھ بھی ان کی رموز سے پردہ نہیں اٹھا سکتیں۔ یہ سورہ اللہ تعالیٰ کی متعدد قسموں سے شروع ہوتی ہے، جہاں سورج، چاند، دن، رات، آسمان…
Read Moreسورۃ القارعہ، کائناتی تصادم، طبیعی قوانین کی تحلیل، اور اخلاقی میزان کا حتمی ظہور، اختتام کائنات کا قرآنی تصور۔
میاں افتخار احمد انسان ہمیشہ سے کائنات کے انجام کے بارے میں سوال اٹھاتا رہا ہے۔ قدیم تہذیبوں نے اپنے اپنے انداز میں فنا اور بقا کے تصورات پیش کیے۔ یونانی فلسفہ کائنات کو ازلی سمجھتا تھا۔ ہندومت میں کائنات کی تخلیق اور فنا کا چکر بیان کیا گیا۔ جدید سائنس نے بگ بینگ کا نظریہ پیش کیا اور بتایا کہ کائنات کا ایک آغاز ہے۔ جب آغاز ہے تو انجام بھی ہوگا۔ یہ منطقی نتیجہ ہے۔ لیکن انجام کی نوعیت کیا ہوگی۔ یہی وہ سوال ہے جس پر فلسفہ۔…
Read Moreسورۃ الرعد: بادلوں کی تشکیل، چارج کی تقسیم، بجلی، گرج چمک، بارش اور سائنسی حقائق
سورۃ الرعد: الیکٹرسٹی اور موسمیات، بجلی، گرج چمک، بادل، بارش سورۃ الرعد: بادلوں کی تشکیل، بارش چارج کی تقسیم، بجلی، گرج چمک، موسمی توانائی اور سائنسی زاویے میاں افتخار احمد سورۃ الرعد میں اللہ تعالیٰ نے بجلی، گرج چمک، بادل اور بارش کے مظاہر پر روشنی ڈالی ہے اور یہ واضح کیا کہ یہ مظاہر اللہ کی قدرت اور نظامِ کائنات کی نشانی ہیں۔ قرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے بجلی پیدا کی اور اس سے خوف اور امید پیدا کی۔ یہ آیت انسانی…
Read More