تہران/دوحہ: ایران نے قطر سے تین ایرانی پائلٹس کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جن کے بارے میں تہران کا دعویٰ ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران طیارے گرنے کے بعد قطری فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے۔ تاہم قطر نے ایرانی پائلٹس کو حراست میں رکھنے کے دعوے کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے جنرل محمد باقرزاده نے کہا کہ جنگ کے دوران تین ایرانی پائلٹس اس وقت زندہ گرفتار کیے گئے جب ان کے ایس یو 24 جنگی طیارے قطر میں گر کر تباہ ہوئے۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق باقرزاده نے پائلٹس کے نام جواد صالحی، عبدالمجید دشتیان اور عمران بیروشویان بتائے۔
جنرل محمد باقرزاده نے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے نام ایک خط میں تینوں پائلٹس کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ پائلٹس گزشتہ چھ ماہ سے قطری فورسز کی تحویل میں ہیں اور انہیں اپنے اہل خانہ سے ملاقات یا رابطے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔
قطر نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ ایرانی پائلٹس کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات کی دوحہ سختی سے تردید کرتا ہے۔ انہوں نے ان دعوؤں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ قطر کو ایسے بیانات پر حیرت ہے۔
ماجد الانصاری کے مطابق قطری امدادی ٹیموں نے طیاروں کے حادثے کے بعد پائلٹس کی تلاش اور ریسکیو کارروائی میں اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا کیں۔ انہوں نے کہا کہ قطر نے ایرانی حکام سے رابطہ کرکے ایک پائلٹ کی لاش حوالے کرنے کے معاملے میں بھی تعاون کیا، جس کی لاش تلاش کے دوران ملی تھی۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید بتایا کہ قطر نے اپریل میں ایرانی حکام کو ایک ٹیم قطر بھیجنے کی دعوت دی تھی تاکہ انہیں پائلٹس کی تلاش اور ریسکیو کارروائیوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا جاسکے، تاہم ایرانی فریق نے تاحال اس دعوت کا جواب نہیں دیا۔
ایران نے پائلٹ کی لاش برآمد کرلی
گزشتہ ماہ ایرانی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے پائلٹ مجید کاظمی کی لاش برآمد کرلی ہے، جو مارچ کے اوائل میں قطر میں واقع العدید ایئر بیس پر حملے کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔
العدید ایئر بیس خطے میں ایک اہم امریکی فوجی مرکز ہے، جہاں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مختلف عناصر کے علاوہ فضائی اور خصوصی آپریشنز فورسز کے یونٹس بھی موجود ہیں۔ اسے خطے میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ قرار دیا جاتا ہے۔
قطر کی وزارت دفاع نے مارچ کے اوائل میں کہا تھا کہ اس کی فورسز نے دو ایرانی سخوئی ایس یو 24 بمبار طیارے مار گرائے تھے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا وہی طیارے تھے جن سے متعلق ایران اب تین پائلٹس کی گرفتاری کا دعویٰ کر رہا ہے۔
یہ واقعہ اس لیے بھی اہم تھا کیونکہ جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ کسی خلیجی ملک نے ایرانی طیارہ مار گرانے کا اعلان کیا تھا۔
جنگ بندی اور امن مذاکرات
یہ واقعات خطے میں جاری وسیع تر جنگ کے دوران پیش آئے، جو 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہوئی۔ اس کے بعد ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں خطے کے متعدد ممالک بھی کشیدگی کی لپیٹ میں آگئے۔
سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اپریل میں جنگ بندی ہوئی، جس سے تقریباً 40 روز تک جاری رہنے والی لڑائی کا خاتمہ ہوا۔ بعد ازاں جون میں امن مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک بھی طے کیا گیا، تاہم یہ عمل بعد میں ناکام ہوگیا۔
اس کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری رہیں، جبکہ زیادہ تر لڑائی جنوبی ایران اور آبنائے ہرمز کے اطراف مرکوز رہی۔
جنگ بندی ختم ہونے کے بعد قطر بھی حملوں کی زد میں آیا۔ دوحہ نے اپنی سرزمین پر حملوں اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کم از کم ایک قطری ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات بھی دی تھیں۔
اس کے باوجود قطر نے تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھیں اور ابتدائی مرحلے میں پاکستان کے ساتھ مل کر مذاکراتی عمل میں کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار
ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی جولائی کے اواخر سے نسبتاً کم رہی ہے، تاہم آبنائے ہرمز میں اور اس کے اطراف بحری جہازوں سے متعلق وقفے وقفے سے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔
ایرانی پائلٹس سے متعلق تازہ تنازع نے تہران اور دوحہ کے درمیان پہلے سے موجود حساس صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ ایران تین پائلٹس کی رہائی اور ان کے بارے میں وضاحت کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ قطر کا مؤقف ہے کہ اس کی تحویل میں کوئی ایرانی پائلٹ نہیں ہے۔
دونوں ممالک کے متضاد دعووں کے باعث طیاروں کے حادثات اور لاپتا ہونے والے پائلٹس کی اصل صورتحال اب بھی واضح نہیں ہوسکی، جبکہ معاملہ مزید سفارتی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔


