Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

لندن: برطانیہ کی ہائی کورٹ نے برطانوی پاکستانی وکیل اویس جاوید کو فراڈ اور امانت میں خیانت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ انہوں نے ایسٹ لندن مسجد کے امام اور ان کے خاندان کی جانب سے شریعہ کے مطابق جائیداد میں سرمایہ کاری کے لیے سونپی گئی £834,000 کی رقم کا ناجائز استعمال کیا۔

73 صفحات پر مشتمل فیصلے میں، جو مقدمہ محمد مشعل و دیگر بنام جاوید و دیگر کے عنوان سے جاری کیا گیا، ڈپٹی ہائی کورٹ جج کرسٹوفر پائمونٹ کے سی نے اویس جاوید کو “انتہائی بے ایمان گواہ” قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ ان کا رویہ بحث کرنے والا، گریز کرنے والا اور غیر سچا تھا، جبکہ پورے کاروباری تعلق کے دوران ان کے طرزِ عمل میں “رازداری اور بددیانتی” نمایاں رہی۔

امام اور وکیل کے درمیان گہرا اعتماد

عدالتی دستاویزات کے مطابق مقدمے کا مرکز محمد مشعل اور اویس جاوید کے درمیان کئی سال پر محیط تعلق تھا۔ محمد مشعل وائٹ چیپل میں واقع ایسٹ لندن مسجد کے امام اور ٹرسٹی ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ اویس جاوید پاکستان سے برطانیہ بطور بین الاقوامی طالب علم آئے تھے، جہاں محمد مشعل نے انہیں عربی زبان اور اسلامی علوم کی تعلیم دی۔ وقت گزرنے کے ساتھ دونوں کے درمیان قریبی تعلق قائم ہوا اور مشعل خاندان نے انہیں اپنے گھر کا فرد سمجھتے ہوئے مکمل اعتماد دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ اس اعتماد کی ایک بڑی وجہ اویس جاوید کا 2016 میں بطور سولیسٹر رجسٹر ہونا بھی تھا، جس کے باعث خاندان نے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت پر بھی بھروسا کیا۔

شریعہ کے مطابق سرمایہ کاری کا منصوبہ

فیصلے کے مطابق مشعل خاندان نے اویس جاوید کی تجویز پر ایک ایسی جائیداد میں سرمایہ کاری پر رضامندی ظاہر کی تھی جو شریعہ اصولوں کے مطابق ہو اور جس میں سودی لین دین شامل نہ ہو۔

معاہدے کے تحت دونوں فریقین کو سرمایہ برابر فراہم کرنا تھا، جبکہ جائیدادیں خصوصی کمپنیوں کے ذریعے خریدی جانی تھیں اور سرمایہ کاروں کے حقوق کو ڈیڈ آف ٹرسٹ کے ذریعے محفوظ بنایا جانا تھا۔

عدالت کا فیصلہ

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اویس جاوید نے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خاندان کی جانب سے سونپی گئی رقم کو ذاتی استعمال کی طرح برتا اور اپنے امانتی فرائض ادا کرنے میں ناکام رہے۔

عدالت نے انہیں فراڈ اور امانت میں خیانت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مشعل خاندان کے حق میں فیصلہ سنایا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کسی بھی وکیل یا پیشہ ور شخص کی جانب سے ذاتی اعتماد اور مذہبی بنیادوں پر کیے گئے مالی معاملات میں خیانت ایک سنگین قانونی اور اخلاقی جرم ہے۔