روم: اٹلی، جو کبھی صحت بخش بحیرۂ روم (Mediterranean) غذا کے لیے دنیا بھر میں مشہور تھا، اب بچوں اور نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے موٹاپے کے سنگین بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق اٹلی کے بچے اب یورپ کے سب سے زیادہ زائد الوزن بچوں میں شمار ہونے لگے ہیں، جبکہ ملک کے جنوبی علاقوں میں صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے۔
17 سالہ سالواتورے اس بحران کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اس کا وزن 170 کلوگرام (26 اسٹون 10 پاؤنڈ) ہے اور وہ معمول کی سرگرمیاں انجام دینے میں بھی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ وہ اپنے جوتوں کے تسمے تک نہیں باندھ سکتا، جبکہ اس کی ویسپا اسکوٹر بھی اس کے وزن کا بوجھ برداشت نہیں کر پاتی۔ صرف ایک ہفتے کے دوران اس کی اسکوٹر کے پہیے سات مرتبہ خراب ہوئے۔
سالواتورے کی والدہ انا کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا تقریباً ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے اس کا وزن مسلسل بڑھتا گیا۔
جنوبی اٹلی میں صورتحال زیادہ سنگین
اطالوی خطے کمپانیا (Campania) کے بعض علاقوں میں آٹھ اور نو سال کی عمر کے 40 فیصد سے زائد بچے یا تو موٹاپے کا شکار ہیں یا ان کا وزن معمول سے زیادہ ہے۔ نیپلز کے نواحی علاقے پونٹی چیلی (Ponticelli) کو دنیا میں بچوں کے موٹاپے کے سب سے متاثرہ علاقوں میں شمار کیا جانے لگا ہے۔
نوجوانوں میں سرجری کی ضرورت بڑھنے لگی
سالواتورے اس وقت پونٹی چیلی کے بیٹانیا اسپتال میں وزن کم کرنے کی اہم سرجری کا منتظر ہے۔ اسپتال کی ماہر سرجن ڈاکٹر سونیا کیاپیٹا گزشتہ 15 برس سے شدید موٹاپے کے مریضوں کا علاج کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ چند برس پہلے تک زیادہ تر مریض 50 سال کی عمر کے ہوتے تھے، لیکن اب 16 اور 17 سال کے نوجوان بھی اسی نوعیت کی سرجری کے لیے آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، “اب وہی بیماریاں بہت کم عمر بچوں میں دیکھ رہی ہوں جو پہلے صرف بڑی عمر کے افراد میں ہوتی تھیں، اور یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔”
معدے کا بڑا حصہ نکال دیا جاتا ہے
اس آپریشن کے دوران مریض کے معدے کا تقریباً 90 فیصد حصہ نکال دیا جاتا ہے، جس کے بعد وہ زیادہ مقدار میں کھانا نہیں کھا سکتا۔ ڈاکٹروں کے مطابق جنوبی اٹلی میں اس سرجری کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو بچوں اور نوجوانوں میں تیزی سے بڑھتے ہوئے موٹاپے کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر بروقت احتیاطی اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں موٹاپے سے جڑی بیماریوں، جیسے ذیابیطس، دل کے امراض اور ہائی بلڈ پریشر، کے کیسز میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کی متوازن غذا، جسمانی سرگرمیوں اور صحت مند طرز زندگی کو ترجیح دیں تاکہ اس بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پایا جا سکے۔


