Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026 کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ 101ویں نمبر پر، صرف 29 ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول رسائی حاصل ہے۔

اسلام آباد: ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026 کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ دنیا کا چوتھا کمزور ترین پاسپورٹ قرار پایا ہے۔ عالمی درجہ بندی میں پاکستان 101ویں نمبر پر ہے اور پاکستانی شہری صرف 29 ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول سہولت کے ساتھ سفر کر سکتے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شہریت اور رہائشی مشاورتی ادارے ہینلے اینڈ پارٹنرز ہر سال دنیا کے 199 پاسپورٹس کا 227 سفری مقامات کی بنیاد پر جائزہ لیتا ہے۔ درجہ بندی اس بات پر کی جاتی ہے کہ کسی ملک کے شہری کتنی منزلوں پر بغیر پیشگی ویزا یا ویزا آن ارائیول کے ساتھ سفر کر سکتے ہیں۔

تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ صرف عراق، شام اور افغانستان سے بہتر پوزیشن پر ہے، جبکہ یہ تینوں ممالک فہرست کے آخری نمبروں پر موجود ہیں۔

خطے کے دیگر ممالک کی درجہ بندی

پاکستان کے ہمسایہ ممالک میں چین کا پاسپورٹ 60ویں، بھارت کا 81ویں اور ایران کا 96ویں نمبر پر ہے، جو پاکستان کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پاسپورٹس شمار کیے جاتے ہیں۔

پاکستانی شہری کن ممالک میں ویزا فری جا سکتے ہیں؟

ہینلے انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد درج ذیل ممالک میں ویزا فری سفر کر سکتے ہیں:

  • بارباڈوس
  • کُک آئی لینڈز
  • ڈومینیکا
  • ہیٹی
  • مائکرونیشیا
  • مونٹسریٹ
  • روانڈا
  • سینٹ ونسنٹ اینڈ گریناڈائنز
  • دی گیمبیا
  • ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو
  • وانواتو

ویزا آن ارائیول کی سہولت

پاکستانی شہری درج ذیل ممالک میں ویزا آن ارائیول حاصل کر سکتے ہیں:

  • برونڈی
  • کمبوڈیا
  • کوموروس
  • جبوتی
  • گنی بساؤ
  • مڈغاسکر
  • مالدیپ
  • موزمبیق
  • نیپال
  • نیوے
  • پلاؤ
  • ساموا
  • سینیگال
  • سیرا لیون
  • تیمور لیستے
  • تووالو

اس کے علاوہ پاکستانی شہری کینیا، سیشلز اور سری لنکا کے لیے الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن (eTA) بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

سنگاپور بدستور پہلے نمبر پر

ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026 میں سنگاپور نے مسلسل دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ کا اعزاز برقرار رکھا ہے، جہاں کے شہری 192 ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول رسائی رکھتے ہیں۔

جاپان، جنوبی کوریا اور متحدہ عرب امارات مشترکہ طور پر 188 ممالک تک رسائی کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے، جبکہ سویڈن 187 ممالک تک رسائی کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی عالمی سفری آزادی اب بھی محدود ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی شہریوں کے لیے بین الاقوامی سفر کی سہولت بڑھانے کے لیے مزید سفارتی اور دوطرفہ معاہدوں کی ضرورت ہے۔