کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دہشتگردی کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے گناہ اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے والے دہشتگرد انسانیت سے عاری ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن کے قیام اور عوام کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اپنے آبائی علاقے شمالی ڈیرہ بگٹی پہنچے، جہاں انہوں نے قبائلی عمائدین اور اپنے حلقے کے لوگوں سے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ نے روایتی بلوچی انداز میں عوام سے گھل مل کر ان کی خیریت دریافت کی اور علاقے کی مجموعی صورتحال سمیت عوام کو درپیش مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
اس موقع پر سرفراز بگٹی نے مختلف سرکاری محکموں سے متعلق عوامی شکایات سنیں اور متعدد مسائل کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو موقع پر ہی ان کے حل کے لیے احکامات جاری کیے۔ وزیراعلیٰ نے افسران اور سرکاری اہلکاروں کو ہدایت کی کہ عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں اور شہریوں کے مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کریں۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ عوامی مسائل کو مقامی سطح پر حل کرنے سے شہریوں کو معمولی نوعیت کے معاملات کے لیے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کا طویل سفر کرنے کی زحمت سے بچایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں نظامِ حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کر رہی ہے تاکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات اور سرکاری خدمات ان کی دہلیز پر فراہم کی جاسکیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت دور دراز اور پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد ایسا نظام قائم کرنا ہے جہاں عام شہری کو اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لیے بار بار سرکاری دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں بلکہ متعلقہ ادارے عوام کو بروقت اور مؤثر خدمات فراہم کریں۔
تعلیم کے شعبے میں حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں سینکڑوں بند اسکولوں کو دوبارہ کھول کر فعال کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ملک، قوم اور خاندانوں کی ترقی کی بنیاد ہے، اس لیے صوبائی حکومت بلوچستان کے بچوں کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
قانون و امن کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز صوبے میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو دہشتگرد بے گناہ اور نہتے شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں وہ انسانیت سے عاری ہوچکے ہیں اور ان کے خلاف ریاستی اداروں کی کارروائیاں امن کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔
سرفراز بگٹی نے امن کے قیام اور عوام کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی قربانیاں قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
یوم آزادی کی تقریبات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ قوم اپنے عظیم شہداء کو نہیں بھولی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دفاع، سلامتی اور امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء پوری قوم کا فخر ہیں اور ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
دورے کے موقع پر قبائلی عمائدین نے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے بلوچستان کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی ڈیرہ بگٹی سمیت دور افتادہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں کا آغاز صوبائی حکومت کی اہم پیش رفت ہے۔
قبائلی عمائدین نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں حکومتی اقدامات کے مثبت نتائج بھی نمایاں ہورہے ہیں۔ انہوں نے عوامی مسائل براہ راست سننے اور متعدد شکایات کے فوری حل کے لیے موقع پر احکامات جاری کرنے پر وزیراعلیٰ کے اقدام کو بھی سراہا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا شمالی ڈیرہ بگٹی کا دورہ حکومت کی جانب سے دور دراز علاقوں میں بہتر حکمرانی، عوامی سہولیات، تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ کی عکاسی کرتا ہے۔ سرفراز بگٹی نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ عوامی مسائل کے حل، امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے حکومت اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔



