ایک دہائی بعد صحافی دوست دوبارہ ایک میز پر جمع

سینئر صحافی میاں اعجاز کی میزبانی میں ایک دہائی کے بعد رفقائے صحافت کی یادگار ملاقات

تحریر : (محمد منصور ممتاز سے)

صحافت کے سفر میں کچھ رشتے عہدوں، اداروں اور وقت کے محتاج نہیں ہوتے، برسوں گزر جائیں تو بھی ان کی خوشبو یادوں میں باقی رہتی ہے۔ کچھ ایسا ہی منظر اُس وقت دیکھنے کو ملا جب تقریباً ایک دہائی قبل ایک ہی ادارے میں ساتھ کام کرنے والے دیرینہ صحافی دوست ایک طویل وقفے کے بعد ایک بار پھر ایک میز پر جمع ہوئے۔

یہ محض ایک ملاقات نہیں تھی بلکہ بیتے دنوں کی یادوں، ہنسی کے بے ساختہ قہقہوں، صحافتی زندگی کے اُتار چڑھاؤ اور پرانی رفاقتوں کو دوبارہ زندہ کرنے کا خوبصورت موقع تھا۔ کبھی خبر کے پیچھے بھاگنے والے یہ ساتھی آج مختلف نیشنل اور ڈیجیٹل میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں اور اپنے تجربے، صلاحیت اور قلم کے ذریعے صحافت کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ایک دہائی سے زیادہ مدت گزر جانے کے بعد دوستوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے، پُرخلوص میزبانی اور پرانی رفاقتوں کو پھر سے تازہ کرنے کا اعزاز سینئر صحافی میاں اعجاز کو حاصل ہوا۔ ان کی دعوت پر ہونے والی اس ملاقات میں
سید قیصر اقبال شاہ ( سینئر صحافی)،
شعیب بھٹی ( بیورو چیف اب تک نیوز ٹی وی)،
محمد منصور ممتاز ( چیف ایڈیٹر ڈیلی نیوز ٹائم انٹرنیشنل (انگلش) و روزنامہ اردو اخبار لاہور ،
میاں اعجاز ( سینئر صحافی )،
مبشر احمد (چیف کیمرا مین اب تک نیوز ٹی وی)،
علی اصغر (سینئر کیمرا مین اب تک نیوز ٹی وی)،
حافظ اسرار احمد ( چیف ایڈیٹر روزنامہ آج کی بات)،
چوہدری عصمت ( چیف ایڈیٹر روزنامہ چُپ لاہور)،
سلمان اعوان ( سینئر صحافی پبلک نیوز)،مشتاق چوہدری (کوہِ نور نیوز ٹی وی،
مبشر علی جنجوعہ ( سینئر صحافی سنو نیوز ) اور
محمد عامر بٹ ڈیلی نیوز ٹائم (انگلش) و روزنامہ اردو اخبار لاہور (OSR HEAD)
شریک ہوئے۔

کرمانوالہ ریسٹورینٹ میں ہونے والی پُرخلوص و پُرتکلف ضیافت نے ملاقات کو مزید یادگار بنا دیا۔ کھانے کی میز پر صرف ذائقے ہی نہیں، پرانی یادیں بھی سجتی رہیں۔ کبھی کسی پرانے واقعے کا ذکر ہوا تو قہقہہ بلند ہوا، کبھی کسی ساتھی کی شرارت یاد آئی تو برسوں کا فاصلہ چند لمحوں میں سمٹ گیا۔ محسوس یوں ہوتا تھا جیسے وقت نے ایک دہائی کا سفر طے ہی نہیں کیا اور سب دوست پھر اسی دور میں لوٹ آئے ہیں جہاں خبر، صحافت اور دوستی زندگی کا مرکز ہوا کرتی تھی۔

گفتگو کا رُخ صحافت کے بدلتے ہوئے منظرنامے، اخبارات سے ڈیجیٹل میڈیا تک کے سفر، نیوز روم کی مصروفیات، صحافتی ذمہ داریوں، نئے میڈیا چیلنجز اور موجودہ دور میں خبر کی اہمیت کی جانب بھی گیا۔ دوستوں نے اس امر پر زور دیا کہ ذرائع ابلاغ کی شکلیں ضرور بدلی ہیں، مگر سچی خبر، ذمہ دار صحافت اور قلم کی حرمت آج بھی اپنی جگہ قائم ہے۔

ملاقات کے دوران چوہدری عصمت جٹھول کو عمرے کی سعادت حاصل کرنے پر مبارک باد پیش کی گئی جبکہ حافظ اسرار احمد کے چند روز قبل وفات پانے والے بھائی کے درجات کی بلندی کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ مبشر جنجوعہ کے والد کی صحتیابی اور اجتماعی عمرے کی خواہش کی قبولیت کے لیے بھی خصوصی دعا کی گئی۔

محفل کے اختتام پر سب دوستوں نے اس خوبصورت اور یادگار اجتماع پر میاں اعجاز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ ایسی ملاقاتوں کا سلسلہ طویل وقفوں کا محتاج نہیں ہوگا۔

کبھی کبھی زندگی کی تیز رفتاری میں بچھڑ جانے والے دوست دوبارہ ملتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ وقت بہت کچھ بدل سکتا ہے، مگر سچی دوستی کی سیاہی کبھی مدھم نہیں پڑتی۔

Related posts

Leave a Comment