پشتون بلوچ سرزمین میں ظلم و جبر انتہا کو پہنچ چکا، معاشرے کا کوئی طبقہ محفوظ نہیں: اصغر خان اچکزئی
چمن (سید سردار محمد خوندئی): عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) بلوچستان کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پشتون بلوچ سرزمین میں ظلم، جبر اور آمریت انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ محافظوں اور ججوں سے لے کر تاجروں، سیاسی قیادت، مزدوروں، غریب عوام اور خواتین تک معاشرے کا کوئی طبقہ مبینہ ریاستی تشدد سے محفوظ نہیں رہا۔
چمن میں باچا خان مرکز، ٹرنچ روڈ کے سامنے اگست کے شہداء کی یاد میں منعقدہ ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ گزشتہ چار دہائیوں سے پشتونوں کو مختلف بہانوں سے مسلسل نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، تاہم اب ظلم و جبر کی یہ داستان برداشت کی تمام حدود پار کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں تک افغانستان میں خونریزی کے ذریعے وہاں کے عوام کو تباہی اور بدامنی کی طرف دھکیلا گیا، جبکہ اب اسی افغانستان کے ساتھ تجارت اور آمدورفت پر پابندیوں کے ذریعے ڈیورنڈ لائن سے ملحقہ علاقوں میں بسنے والے عوام کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے۔
اصغر خان اچکزئی نے الزام عائد کیا کہ نوجوانوں کو معمولی رقم کے عوض اسلحہ دے کر ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں اور اس کے ذمہ داروں کو تاریخ کے سامنے جواب دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کو صرف چند سرداروں کا مسئلہ قرار دے کر عوام کی آواز دبانے کی کوشش کرنے والوں کو اب دیکھنا چاہیے کہ بلوچستان کے ہر گاؤں، شہر اور معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ آج یہ آواز چند افراد یا سرداروں کی نہیں بلکہ محروم عوام کی آواز بن چکی ہے، جسے طاقت، دھمکی یا جبر سے خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔
اگست 8 کے سانحے کو پشتون تاریخ کا ایک اور بابرا قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس المناک واقعے نے ظلم، بے حسی اور طاقت کے بے رحمانہ استعمال کا ایک اور سیاہ باب رقم کیا۔ انہوں نے زیارت کے سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دس سال بعد ایک بار پھر ثابت ہوا ہے کہ ظلم کے طریقے اور کردار بدل سکتے ہیں، لیکن مظلوم عوام کے خلاف جبر کی نوعیت وہی رہتی ہے۔
اے این پی رہنما نے پشتون بلوچ سرزمین پر قبضے، وسائل کی لوٹ مار، سیاسی استحصال، معاشی ناکہ بندی اور عوام کو ہراساں کرنے کی تمام کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی حقوق سے محروم کرکے کوئی بھی طاقت امن، ترقی اور استحکام کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔
انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024 کو قائم ہونے والی اسمبلی نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جو قابل تشویش ہے۔ ان کے مطابق عوامی مسائل اور بنیادی حقوق کے لیے سیاسی آواز کو مؤثر انداز میں اٹھانے کی ضرورت ہے۔
اصغر خان اچکزئی نے کراچی میں ہوٹلوں، کپڑے اور الیکٹرانکس کی مارکیٹوں اور ریڑھی بانوں کے خلاف کارروائیوں، مبینہ تشدد اور پنجاب کے داخلی راستوں پر شناختی کارڈ کے نام پر پشتونوں اور بلوچوں کی تضحیک کو ناقابل قبول قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پشتون بلوچ عوام اپنی سرزمین، وسائل اور بنیادی حقوق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ہر حال میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی اور ظلم و ناانصافی کے خلاف سیاسی، جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کا نعرہ حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ زیارت دھرنے کے مطالبات پر عمل درآمد ہی انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی جانب اہم قدم ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ 8 اگست کے شہداء کی عظیم قربانیاں ہم پر قرض ہیں۔ سپین تنگی، بابرا، سائنس کالج، چمن، 8 اگست، منگی ڈیم، شہید ملک عبید اللہ کاکسی، شہید خالق داد بابر اور شہید نور اللہ دومڑ سمیت دیگر شہداء کی قربانیاں وسائل پر عوام کے اختیار، بنیادی انسانی حقوق کی بحالی اور قانون کی حکمرانی کے لیے تھیں۔ ان قربانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پرامن سیاسی جدوجہد کو ترجیح دی جائے گی۔
اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ قومی شاہراہوں اور پہاڑوں پر مسلح گروہوں کا کنٹرول تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو تحفظ فراہم کرے۔ ان کے مطابق ڈیورنڈ لائن کے ساتھ تجارت اور آمدورفت پر پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد بے روزگار ہوئے ہیں، جبکہ اے این پی چمن دھرنے کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
اجتماع سے اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا، ضلعی صدر عبدالخالق ہمدرد، مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری عبیداللہ عابد، ایڈیشنل ڈپٹی سیکرٹری جاوید کاکڑ، مرکزی سیکرٹری رشید خان ناصر، مرکزی کمیٹی کے ارکان ڈاکٹر عبدالسمد اچکزئی، نظام الدین کاکڑ اور سید عبدالراب آغا سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے پشتون قومی تحریک کی جدوجہد اور قربانیوں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ فخرِ افغان باچا خان کی عدم تشدد پر مبنی تحریک جدوجہد اور قربانیوں کی ایک طویل تاریخ رکھتی ہے۔ انہوں نے سپین تنگی اور بابرا کے واقعات کو پشتون تاریخ کے انتہائی المناک واقعات قرار دیا۔
مقررین نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے اور بالخصوص پشتون، بلوچ اور ہزارہ اقوام کو متحد ہو کر عوام مخالف پالیسیوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
اجلاس کی صدارت ضلعی صدر عبدالخالق حقمل نے کی۔ ضلع بھر سے اے این پی کے کارکنوں نے جلوسوں کی شکل میں شرکت کی جبکہ ہزاروں افراد عوامی اجتماع میں شریک ہوئے۔ اختتام پر 8 اگست کے شہداء اور پشتون بلوچ قومی تحریک کے تمام شہداء اور بزرگوں کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔


