امریکی سینیٹر جیمز لینکفورڈ سے ریورنڈ شاہد ایم پال کی اہم ملاقات
انسانی حقوق، بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی آزادی، نئے گرجا گھروں کے قیام اور قیادت کی ترقی پر تفصیلی تبادلۂ خیال، مشترکہ تعاون کے فروغ پر اتفاق
اوکلاہوما (میاں افتخار احمد) ریورنڈ شاہد ایم پال ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں، جہاں وہ مختلف مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں کے ذریعے باہمی تعلقات کے فروغ اور بین الاقوامی سطح پر مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ اپنے مصروف دورۂ امریکہ کے دوران انہوں نے گزشتہ روز امریکی سدرن بیپٹسٹ پادری، ریپبلکن سیاست دان اور ریاست اوکلاہوما سے تعلق رکھنے والے سینئر امریکی سینیٹر جیمز لینکفورڈ سے خصوصی ملاقات کی۔ سینیٹر جیمز لینکفورڈ 2015 سے امریکی سینیٹ میں ریاست اوکلاہوما کی نمائندگی کر رہے ہیں اور مذہبی آزادی، انسانی حقوق اور بین المذاہب مکالمے کے فروغ کے حوالے سے ان کی خدمات کو عالمی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
ملاقات نہایت خوشگوار، دوستانہ اور تعمیری ماحول میں منعقد ہوئی، جس میں انسانی حقوق کے تحفظ، مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی، نئے گرجا گھروں کے قیام، مذہبی اداروں کے کردار اور معاشرتی استحکام سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر زور دیا کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان باہمی احترام، برداشت اور مسلسل مکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے، جو دنیا میں امن اور استحکام کے قیام میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس موقع پر مذہبی قیادت کی تعمیر و ترقی، نوجوان قیادت کی تربیت، کلیسیائی خدمات کے فروغ اور ایمان و باہمی تعاون کے ذریعے مضبوط، پُرامن اور خوشحال برادریوں کی تشکیل کے مختلف پہلوؤں پر بھی گفتگو کی گئی۔ ریورنڈ شاہد ایم پال نے پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور اقلیتوں کے حقوق کے فروغ کے لیے جاری مختلف اقدامات سے بھی سینیٹر جیمز لینکفورڈ کو آگاہ کیا اور اس سلسلے میں مختلف مذہبی حلقوں کے کردار پر روشنی ڈالی۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مذہبی آزادی، انسانی وقار، باہمی احترام اور مشترکہ اقدار کے فروغ کے لیے عالمی سطح پر تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی بین المذاہب مکالمے، قیادت کی تربیت، سماجی خدمت اور مضبوط برادریوں کی تشکیل کے لیے باہمی روابط کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ دنیا بھر میں امن، رواداری اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے مشترکہ کاوشوں کو مؤثر بنایا جا سکے



