Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

روس کے شہر نزہنیکامسک پر مبینہ یوکرینی ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوگئے، جن میں ایک بچہ اور وسطی ایشیائی ممالک کے آٹھ شہری بھی شامل ہیں۔

مقامی حکام کے مطابق حملے کے بعد علاقے میں امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں، جبکہ سکیورٹی ادارے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

بچے سمیت 13 افراد ہلاک

حکام نے بتایا کہ ڈرون حملے میں ایک بچہ بھی جان کی بازی ہار گیا، جبکہ ہلاک ہونے والوں میں وسطی ایشیا کے آٹھ شہری بھی شامل ہیں۔

حملے کے بعد امدادی ٹیموں نے متاثرہ علاقے میں پہنچ کر نقصان کا جائزہ لیا اور ممکنہ طور پر متاثرہ افراد کی مدد کی۔

واقعے کی مزید تفصیلات اور ہلاکتوں کی حتمی شناخت متعلقہ حکام کی جانب سے سامنے آنے کی توقع ہے۔

ڈرون حملوں کا دائرہ وسیع

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ڈرون حملوں کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز استعمال کر رہے ہیں، جس کے باعث جنگی محاذ سے دور واقع علاقوں میں بھی حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

نزہنیکامسک روس کے تاتارستان ریجن میں واقع ہے، جہاں صنعتی اور اہم تنصیبات موجود ہیں۔ ماضی میں بھی اس خطے میں ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

روس میں فضائی دفاع پر دباؤ

یوکرین کی جانب سے روس کے اندر دور تک ڈرون حملوں نے روسی حکام کے لیے سکیورٹی کے نئے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔

روسی حکام مختلف علاقوں میں فضائی دفاعی اقدامات مضبوط کر رہے ہیں، جبکہ بعض مواقع پر ڈرون خطرات کے باعث فضائی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

یوکرین کا مؤقف رہا ہے کہ اس کے طویل فاصلے کے حملوں کا ہدف روس کی جنگی کارروائیوں میں معاون فوجی اور صنعتی تنصیبات ہوتی ہیں۔

روس یوکرین جنگ میں نئی شدت

نزہنیکامسک کا تازہ واقعہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ڈرون جنگ کی بڑھتی ہوئی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

جنگ کے دوران دونوں جانب سے ڈرونز اور میزائل حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے عام شہریوں اور اہم تنصیبات کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

حکام کی جانب سے حملے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کا مزید جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ واقعے سے متعلق مزید معلومات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آسکتی ہیں۔