رنگوں میں زندہ ہوتی ایک تاریخ
محمد علی بھٹی کے فن سے قائداعظم کی تصویر میں ایک نئی روشنی
عبدالرحمان پٹیل
کچھ تصویریں صرف دیواروں کی زینت بنتی ہیں، اور کچھ تصویریں دیکھنے والے کو چند لمحوں کے لیے اپنے سامنے روک لیتی ہیں
ہیوسٹن کے معروف مصور محمد علی بھٹی کے ہاتھوں تخلیق ہونے والا قائداعظم محمد علی جناح کا یہ کلاسک پورٹریٹ بھی ایسی ہی ایک تخلیق ہے
قائداعظم کی تصاویر ہم بچپن سے دیکھتے آئے ہیں۔ وہی پُروقار چہرہ، وہی جناح کیپ، وہی گہری اور دور تک دیکھتی ہوئی آنکھیں۔ لیکن محمد علی بھٹی نے جب اس تاریخی شخصیت کو اپنے برش اور رنگوں کے ذریعے کینوس پر منتقل کیا تو یوں محسوس ہوا جیسے ایک جانی پہچانی تصویر میں اچانک زندگی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہو
خصوصاً آنکھیں
انہیں دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جیسے قائداعظم کی نگاہ میں وہی عزم، ذہانت، خود اعتمادی اور مستقبل کو دیکھنے والی روشنی دوبارہ جاگ اٹھی ہو۔ چہرے پر سنجیدگی ہے مگر بے جان سختی نہیں، وقار ہے مگر تصنع نہیں۔ شاید یہی کسی بڑے پورٹریٹ آرٹسٹ کا کمال ہوتا ہے کہ وہ صرف چہرہ نہیں بناتا، شخصیت کو محسوس کرواتا ہے
محمد علی بھٹی ہیوسٹن کی پاکستانی کمیونٹی کے لیے کوئی نیا نام نہیں۔ فنِ مصوری میں ان کی طویل ریاضت، ان کے رنگوں کی پہچان اور انسانی چہروں کے اندر چھپے تاثرات کو کینوس پر منتقل کرنے کی صلاحیت انہیں ایک منفرد مقام دیتی ہے۔ میں اس سے قبل اپنی تحریری سلسلے ”چہرے جو روشنی بنے“ میں بھی ان کے فن اور شخصیت پر لکھ چکا ہوں، لیکن قائداعظم کا یہ پورٹریٹ ان کے فنی سفر میں ایک خاص مقام رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے
اس تخلیق کی اہمیت اس وقت اور بڑھ گئی جب 14 اگست 2026ء، پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر قونصلیٹ جنرل آف پاکستان، ہیوسٹن میں منعقدہ تقریب کے دوران اسے باقاعدہ طور پر پیش کیا گیا اور قونصل جنرل پاکستان آفتاب چوہدری نے اس کی رونمائی کی
یہ صرف ایک پینٹنگ کی رونمائی نہیں تھی
ایک طرف پاکستان کے بانی کا چہرہ تھا، دوسری طرف ایک پاکستانی نژاد فنکار کے ہاتھوں میں موجود برسوں کی ریاضت، اور درمیان میں وہ سرزمین تھی جہاں ہزاروں میل دور رہنے والے پاکستانی آج بھی اپنے وطن، اپنی تاریخ اور اپنی شناخت سے جڑے ہوئے ہیں
محمد علی بھٹی نے قائداعظم کی متعدد تاریخی تصاویر کو بطور حوالہ استعمال کرتے ہوئے اس پورٹریٹ کو تخلیق کیا۔ لیکن اصل فن شاید حوالہ استعمال کرنے میں نہیں، بلکہ ان تصویروں سے آگے بڑھ کر اس شخصیت کے وقار، ذہانت، قوتِ ارادی اور قائدانہ وجاہت کو رنگوں میں سمیٹنے میں ہے
اسی لیے یہ تصویر دیکھتے ہوئے چند لمحوں کے لیے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قائداعظم کی روشن نگاہیں آنے والی نسلوں سے مخاطب ہوں:
”یہ پاکستان ایک خواب سے حقیقت بنا تھا
میرے بچو، اب یہ تمہاری امانت ہے اسے سنبھال کر رکھنا، اس کی حفاظت کرنا، اسے علم، محنت، اتحاد اور دیانت سے آگے لے جانا، اور اسے ایسا خوشحال اور باوقار ملک بنانا جس پر آنے والی نسلیں بھی فخر کر سکیں“
شاید یہی فن کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔وہ ماضی کو محض محفوظ نہیں کرتا بلکہ ماضی کی روشنی کو مستقبل کی امید میں بدل دیتا ہے
محمد علی بھٹی صاحب اس خوبصورت اور تاریخی تخلیق پر بھرپور مبارکباد کے مستحق ہیں۔ یہ ان کے لیے یقیناً ایک اعزاز ہے کہ ان کے ہاتھوں تخلیق کردہ قائداعظم کا پورٹریٹ پاکستان کے قونصلیٹ جنرل ہیوسٹن میں یومِ آزادی کے موقع پر رونمائی کے لیے منتخب ہوا، لیکن میرے نزدیک یہ اعزاز صرف فنکار کا نہیں، ہیوسٹن کی پوری پاکستانی کمیونٹی کا بھی ہے
قونصل جنرل آفتاب چوہدری اور قونصلیٹ جنرل آف پاکستان، ہیوسٹن بھی تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے پاکستانی فن، فنکار اور قومی تاریخ کو ایک ہی جگہ اکٹھا کرکے اس تخلیق کو وہ وقار دیا جس کی یہ مستحق تھی
قائداعظم نے ہمیں ایک ملک دیا تھا
محمد علی بھٹی نے اپنے رنگوں سے ایک لمحے کے لیے ہمیں قائداعظم کی نگاہ دوبارہ لوٹا دی
اور شاید اس پورٹریٹ کا سب سے خوبصورت پہلو یہی ہے کہ اسے دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ تصویر دیوار پر خاموش ضرور ہے،
مگر اس کی آنکھوں میں ایک روشن، خوشحال اور باوقار پاکستان کا خواب آج بھی زندہ ہے


