شہدائے اگست کی یاد میں ریفرنس، جمہوری قوتوں کا ہر غیر جمہوری اقدام کے خلاف مشترکہ مزاحمت کا اعلان
کوئٹہ( سید سردار محمد خوندئی )
عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب میں شہدائے اگست کی یاد میں منعقدہ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبے کی حقیقی جمہوری سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ سیاست، صحافت اور عدلیہ کو زیرِ عتاب لانے کی ہر کوشش کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔
رہنماؤں نے کہا کہ پشتونخوا اور بلوچستان کے وسائل پر قبضے اور انہیں ہڑپ کرنے کے لیے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے۔ ایسے حساس معاملات پر غیر سیاسی اور غیر منتخب افراد کے ذریعے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
آج بلوچستان اور پشتونخوا کے عوام کو تقسیم در تقسیم کی سیاست کا سامنا ہے۔ جب ہمارے اکابرین متحد ہو کر جدوجہد کر رہے تھے تو مخالف قوتیں ان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکی تھیں، مگر آج ہماری باہمی تقسیم کا فائدہ انہی قوتوں کو پہنچ رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بلوچستان میں سردار عطا اللہ خان مینگل کی حکومت ختم کی گئی تو مفتی محمود نے احتجاجاً پشتونخوا کی حکومت سے استعفیٰ دے دیا۔ آج بدقسمتی سے سیاسی پارٹیاں اقتدار کے حصول کی دوڑ میں شکست و ریخت سے گزر رہی ہیں۔
مقررین نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے، اسے قبائلی، اسٹریٹجک اور گروہی بنیادوں پر حل نہیں کیا جا سکتا۔ سوراب سے کوئٹہ اور زیارت تک پشتون، بلوچ اور ہزارہ اقوام کا لہو بہہ رہا ہے، ان کی سیاسی و معاشی ناکہ بندی جاری ہے، جبکہ عوام کو بنیادی انسانی حقوق، روزگار، امن اور وسائل پر اختیار سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ بلوچستان اور پشتونخوا کے مسائل لاہور، اسلام آباد اور پنڈی میں بیٹھ کر مسلط کردہ فیصلوں سے حل نہیں ہو سکتے۔ ہمارا مؤقف سیاسی ہے، ان خطوں کے مسائل کا حل یہاں کے عوام کی مرضی، سیاسی نمائندگی، جمہوری عمل اور آئینی حقوق کے احترام میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ حالات کا راستہ روکنا ہے تو اس کے لیے سیاست اور سیاسی عمل کو مضبوط کرنا ہوگا، کیونکہ یہی وہ ورثہ ہے جو باچا خان، ولی خان، غوث بخش بزنجو، خان شہید، سردار عطا اللہ مینگل اور خیر بخش مری جیسے سیاسی و قومی جمہوری اکابرین نے اپنی نسلوں کو منتقل کیا۔
ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر کبیر محمد شہی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ملک نصیر شاہوانی، جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی سیکرٹری مالیات حاجی عین اللہ شمس، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی ترجمان عیسیٰ روشان، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی صدر احمد جان خان، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان قادر نائل، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی، جماعت اسلامی کے صوبائی نائب امیر جمیل مشوانی، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا، نیشنل لائرز فورم کے صوبائی صدر کلیم اللہ کاکڑ ایڈووکیٹ، ضلع کوئٹہ کے صدر ثناء اللہ کاکڑ اور دیگر نے کیا۔
مقررین نے کہا کہ دہشت گردی کوئی آسمانی آفت نہیں جو اچانک نازل ہوئی ہو، بلکہ اس خطے کے عوام پر اسے مخصوص بالادست قوتوں کی پالیسیوں اور غلط فیصلوں کے نتیجے میں مسلط کیا گیا، جس کی قیمت پشتون، بلوچ اور ہزارہ عوام کئی دہائیوں سے اپنے لہو سے ادا کر رہے ہیں۔ ہماری دیواریں خون آلود ہیں، ماؤں کی گودیں اجڑی ہیں، نوجوانوں کا مستقبل تباہ ہوا ہے اور خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت عام شہری مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فکرِ باچا خان محض ایک سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ ایک صدی پر محیط مسلسل جدوجہد، قربانی، عدم تشدد، جمہوریت، امن اور محکوم اقوام کے حقوق کی تحریک ہے۔ انجمن اصلاح الافاغنہ اور خدائی خدمت گار تحریک سے لے کر آج تک اس فکر سے وابستہ کارکنوں نے جبر، قید و بند اور ریاستی سختیوں کے باوجود اپنی جدوجہد ترک نہیں کی۔ شہدائے اگست کی قربانیاں اسی تاریخ کا روشن باب ہیں۔
مقررین نے عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مشکل حالات میں صوبے کی مختلف حقیقی جمہوری و سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ایک مثبت اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمان کو بے توقیر، عوامی مینڈیٹ کو بے معنی اور انتخابی عمل کو مشکوک بنا کر غیر منتخب افراد کو اقتدار کے ایوانوں میں بٹھانے کا سلسلہ جمہوریت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں، پابندیوں اور فورتھ شیڈول کے ذریعے سیاسی سرگرمیوں سے دور رکھنے کے عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
مقررین نے مزید کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کی پامالی روزمرہ کا معمول بن چکی ہے، قومی شاہراہیں عوام کے لیے غیر محفوظ ہیں اور مختلف مقامات پر پشتونوں اور بلوچوں کے ساتھ ناروا سلوک کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ سندھ، پنجاب اور بالخصوص کراچی میں پشتون مزدوروں اور کاروباری طبقے کے لیے مشکلات اور امتیازی رویوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان اور پشتونخوا کے عوام اپنے وسائل، شناخت، زبان، ثقافت اور جمہوری حقِ نمائندگی سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ عوام کے مسائل کا حل طاقت، پابندی اور تقسیم میں نہیں، بلکہ سیاسی مکالمے، حقیقی جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوام کے حقِ حکمرانی کو تسلیم کرنے میں ہے۔
آخر میں شہداء اور اکابرین کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی اور لنگر تقسیم کیا گیا۔


