قلعہ عبداللہ (سید سردار محمد خوندئی سے) — گلستان کاریز، ضلع قلعہ عبداللہ میں غبیزئی قوم کی دو ذیلی شاخوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری قبائلی دشمنی ختم ہوگئی۔
میاداد کہول اور اعوان کہول کے درمیان غبیزئی قوم کی دشمنی کا خاتمہ ایک تاریخ ساز پشتون جرگے کے ذریعے ہوا۔ جرگے میں دونوں فریقین نے باہمی رضامندی سے صلح قبول کی۔
حاجی احمد خان غبیزئی کے خاندان، میاداد کہول، اور حاجی جیلانی خان غبیزئی کے خاندان، اعوان کہول، کے درمیان روغہ جوڑہ ہوئی۔
اس موقع پر ہزاروں افراد موجود تھے۔ قبائلی عمائدین، علمائے کرام اور علاقے کے عام لوگوں نے بھی جرگے میں شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق مختلف واقعات میں تقریباً آٹھ افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ متعدد دیگر افراد بھی زخمی ہوئے تھے۔ ان واقعات سے متعلق تمام تنازعات کو جرگے میں باہمی رضامندی سے طے کر دیا گیا۔
غبیزئی قوم کی دشمنی تاریخی جرگے میں ختم
قبائلی جرگہ گلستان کاریز سے روانہ ہوا۔ بعد ازاں جرگہ اعوان خیل کی میزبانی میں قائم پنڈال پہنچا۔
پنڈال میں ہزاروں افراد جمع تھے۔ لوگوں نے جرگے کے فیصلے اور صلح کے عمل میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔
اس تاریخی جرگے کی سربراہی معروف قبائلی شخصیت حاجی فتح محمد کاکوزئی نے کی۔
جرگے کے دیگر معزز ارکان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ عمائدین نے دونوں خاندانوں کے درمیان اختلافات ختم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
جرگے میں دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے مؤقف کو سنا۔ اس کے بعد باہمی اتفاق سے تمام متعلقہ تنازعات کے خاتمے کا فیصلہ کیا گیا۔
صلح کے عمل میں روغہ جوڑہ کی روایتی پشتون روایت کو بھی اہمیت دی گئی۔ اس روایت کے تحت قبائلی تنازعات کو بات چیت اور اتفاق رائے سے حل کیا جاتا ہے۔
دونوں خاندانوں کے درمیان صلح کے بعد علاقے میں خوشی کی فضا پیدا ہوئی۔ شرکاء نے امید ظاہر کی کہ یہ فیصلہ مستقبل میں امن اور بھائی چارے کو مزید مضبوط کرے گا۔
پشتون جرگہ اور روغہ جوڑہ کی روایت اجاگر
شرکاء نے تاریخی جرگے کے فیصلے کو پشتون معاشرے کی روایتی اقدار کی روشن مثال قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ جرگہ، روغہ جوڑہ، باہمی احترام اور اجتماعی اتفاق رائے پشتون معاشرے کی اہم روایات ہیں۔
شرکاء کے مطابق جرگے نے ایک طویل اور مشکل تنازع کو بات چیت کے ذریعے ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
قبائلی عمائدین اور علمائے کرام کی موجودگی نے بھی صلح کے عمل کو اہمیت دی۔ ہزاروں افراد کی شرکت نے فیصلے کے لیے وسیع سماجی حمایت کو ظاہر کیا۔
مقامی لوگوں نے دونوں خاندانوں کے درمیان صلح کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس فیصلے سے علاقے میں مستقل امن قائم ہوگا۔
غبیزئی قوم کی دشمنی کے خاتمے کو مقامی سطح پر ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
شرکاء نے کہا کہ اختلافات کو طاقت کے بجائے بات چیت اور اتفاق رائے سے حل کیا جا سکتا ہے۔
تاریخی جرگے کے اختتام پر دونوں خاندانوں کے درمیان صلح اور روغہ جوڑہ مکمل ہوئی۔ اس طرح ایک طویل عرصے سے جاری قبائلی تنازع اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔
