طاقتور ایل نینو 2026: 5 کروڑ افراد غذائی بحران کے خطرے میں

طاقتور ایل نینو 2026: دنیا پر موسمیاتی ضرب، پانچ کروڑ افراد غذائی بحران کے خطرے میں

میاں افتخار احمد

دنیا ایک ایسے موسمیاتی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جس کے اثرات صرف درجہ حرارت، بارش یا خشک سالی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خوراک، زراعت، پانی، توانائی، عالمی تجارت، مہنگائی، صحت عامہ اور کروڑوں انسانوں کے روزگار تک پھیل سکتے ہیں۔ 2026 کا ایل نینو اب محض ایک ممکنہ موسمیاتی واقعہ نہیں رہا بلکہ بحرالکاہل میں اس کی موجودگی قائم ہو چکی ہے اور عالمی موسمیاتی اداروں کے مطابق یہ مسلسل طاقت حاصل کر رہا ہے۔ امریکی نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن یعنی NOAA کی 13 اگست 2026 کی تازہ تشخیصی رپورٹ کے مطابق ایل نینو مضبوط ہو رہا ہے اور شمالی نصف کرہ کے خزاں اور موسم سرما 2026-27 کے دوران بہت مضبوط ایل نینو واقعے کے امکانات 90 فیصد سے زیادہ ہیں۔ NOAA کے مطابق یہ کیفیت شمالی نصف کرہ کے موسم بہار 2027 تک برقرار رہنے کا امکان رکھتی ہے۔ اس پیش رفت نے دنیا بھر کے موسمیاتی سائنس دانوں، زرعی ماہرین، خوراک کے اداروں، انسانی امدادی تنظیموں اور معاشی تحقیقی اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ ایل نینو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا پہلے ہی غیر معمولی عالمی حدت، خشک سالی، شدید گرمی، جنگلات کی آگ، سیلاب، جنگوں، مہنگائی اور خوراک کی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے۔عالمی سطح پر سب سے زیادہ تشویش کا باعث بننے والی پیش گوئی اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام یعنی ورلڈ فوڈ پروگرام WFP سے سامنے آئی ہے جس کے مطابق ایل نینو کے نتیجے میں 2027 کے اختتام تک تقریباً 49 ملین مزید افراد شدید غذائی عدم تحفظ یعنی acute food insecurity کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بعض تازہ عالمی رپورٹوں میں اس تعداد کو تقریباً پانچ کروڑ افراد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس عدد کا مطلب یہ نہیں کہ پانچ کروڑ افراد کی موت یقینی ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ موجودہ عالمی حالات کے مقابلے میں تقریباً پانچ کروڑ مزید انسان ایسے شدید غذائی بحران میں داخل ہو سکتے ہیں جہاں مناسب خوراک تک رسائی خطرناک حد تک محدود ہو جائے۔ یہ فرق سمجھنا اس خبر کی درست صحافتی تشریح کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق سب سے زیادہ کمزور خطوں میں وسطی اور جنوبی امریکا، کیریبین، جنوبی افریقا اور دوسرے ایسے علاقے شامل ہیں جہاں پہلے ہی غربت، جنگ، موسمیاتی دباؤ اور خوراک کی کم دستیابی موجود ہے۔ تاہم جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا بھی خطرے سے باہر نہیں، کیونکہ ایل نینو عام طور پر دنیا کے مختلف حصوں میں بارش کے نظام کو تبدیل کرتا ہے اور بعض علاقوں میں خشک سالی جبکہ دوسرے علاقوں میں غیر معمولی بارش اور سیلاب کا خطرہ بڑھاتا ہے۔اقوام متحدہ کا ادارہ برائے خوراک و زراعت FAO بھی اس صورتحال کو غیر معمولی اہمیت دے رہا ہے۔ FAO نے جون 2026 میں 41 سالہ تاریخی سیٹلائٹ مشاہدات اور اپنے Agricultural Stress Index System کے ذریعے یہ جائزہ لیا کہ ماضی کے مضبوط اور انتہائی مضبوط ایل نینو واقعات کے دوران دنیا کے کن علاقوں میں خشک سالی نے فصلوں اور چراگاہوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔ FAO کے مطابق ایل نینو کے باعث زرعی پیداوار کے بڑے علاقوں میں بارش کے معمول میں تبدیلی، شدید گرمی، پانی کی کمی، خشک سالی اور فصلوں پر دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ FAO نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ موجودہ ایل نینو ایک ایسی دنیا میں تشکیل پا رہا ہے جو پہلے ہی انسانی سرگرمیوں کے باعث زیادہ گرم اور موسمی اعتبار سے زیادہ غیر یقینی ہو چکی ہے۔ FAO کے مطابق شدید گرمی، ایل نینو اور موسمیاتی تبدیلی کا امتزاج فصلوں، مویشیوں، ماہی گیری اور زرعی کارکنوں کے لیے مرکب خطرات پیدا کر سکتا ہے) عالمی موسمیاتی تنظیم WMO بھی اس معاملے میں انتہائی اہم ادارہ ہے۔ جون 2026 میں WMO نے ایل نینو کے جون تا اگست کے دوران بننے کے امکانات 80 فیصد بتائے تھے اور نومبر تک برقرار رہنے کے امکانات 90 فیصد یا اس سے زیادہ قرار دیے تھے۔ جولائی کے آخر میں WMO نے اپنے عالمی موسمیاتی جائزے میں واضح کیا کہ مضبوط ایل نینو تشکیل پا رہا ہے اور اگست تا اکتوبر 2026 کے دوران اس کے مزید طاقتور ہونے کی توقع


ہے۔ WMO کے مطابق دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کا امکان ہے جبکہ بارش کے نقشے میں بھی نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں؛ بعض علاقوں میں معمول سے زیادہ بارش اور بعض میں خشک سالی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ WMO نے اس کے ساتھ مثبت Indian Ocean Dipole یعنی مثبت بحرہند دو قطبی کیفیت کے پیدا ہونے کے امکان کو بھی نمایاں کیا ہے، جو جنوبی ایشیا سمیت مختلف خطوں کے موسمی حالات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ کولمبیا یونیورسٹی کے International Research Institute for Climate and Society یعنی IRI کی تحقیق بھی اس خطرے کی شدت کو واضح کرتی ہے۔ جولائی 2026 کے IRI ENSO Forecast کے مطابق El Niño کی موجودگی کا امکان جولائی تا ستمبر 2026 سے جنوری تا مارچ 2027 تک 100 فیصد تک پہنچ گیا تھا، جبکہ فروری تا اپریل 2027 کے لیے بھی امکان 99 فیصد اور مارچ تا مئی 2027 کے لیے 94 فیصد بتایا گیا۔ IRI کے مطابق بیشتر حرکیاتی ماڈل Niño 3.4 خطے میں سمندری درجہ حرارت کے انحراف کو +2 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ دیکھ رہے تھے اور اگرچہ انتہائی زیادہ شدت کے نقطۂ عروج کے بارے میں کچھ غیر یقینی موجود ہے، لیکن مجموعی سائنسی اتفاق رائے مضبوط ایل نینو کی طرف واضح ہے۔ IRI کے موسمیاتی ماڈل یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ایل نینو 2027 کے ابتدائی موسم بہار تک برقرار رہنے کا بہت زیادہ امکان رکھتا ہے) برطانیہ کے Met Office نے بھی 11 جون 2026 کو اعلان کیا تھا کہ استوائی بحرالکاہل میں ایل نینو کی شرائط پیدا ہو چکی ہیں اور 2026 کے لیے ENSO کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے۔ Met Office کے مطابق ایل نینو دنیا کے مختلف حصوں میں سیلاب، خشک سالی، گرمی کی لہروں اور دوسرے موسمیاتی اثرات کے امکانات کو تبدیل کرتا ہے۔ عمومی طور پر ایل نینو کے دوران بھارت، انڈونیشیا اور برازیل کے بعض حصوں میں خشک سالی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے جبکہ پیرو جیسے بعض علاقوں میں شدید بارش اور سیلاب کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ یورپی یونین کی Copernicus Climate Change Service بھی اس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ Copernicus کے مطابق جولائی 2026 دنیا بھر میں مشترکہ طور پر دوسرا گرم ترین جولائی تھا جبکہ غیر قطبی سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت جولائی کے لیے ریکارڈ بلند سطح تک پہنچ گیا۔ Copernicus نے واضح کیا کہ بحرالکاہل میں پیدا ہونے والا ایل نینو اس عالمی سمندری حرارت کے پس منظر میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ جولائی میں غیر قطبی عالمی سمندروں کا اوسط سطحی درجہ حرارت ریکارڈ بلند رہا اور 19 جون کے بعد سے متعدد دنوں میں عالمی سمندری درجہ حرارت اپنے متعلقہ دن کے حساب سے ریکارڈ سطح پر رہا۔ Copernicus کے مطابق ایل نینو کے ساتھ ساتھ مثبت Indian Ocean Dipole کے امکانات بھی موجود ہیں، جس سے آنے والے مہینوں کے موسمی حالات میں مزید پیچیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس سارے معاملے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ایل نینو کو محض گرمی کی لہر سمجھنا درست نہیں۔ یہ بحرالکاہل کے استوائی حصے میں سمندری سطح کے درجہ حرارت اور فضائی گردش میں بڑی تبدیلی کا نام ہے جو دنیا کے مختلف خطوں کے بارش، درجہ حرارت اور ہواؤں کے نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کا اثر عالمی سطح پر ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کہیں خشک سالی پیدا ہوتی ہے، کہیں بارش بڑھتی ہے، کہیں سیلاب آتا ہے اور کہیں گرمی کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ایک ہی وقت میں دنیا کے مختلف خطوں میں بظاہر متضاد موسمی حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہی صورتحال 2026 میں بھی سامنے آ رہی ہے۔ یورپ میں پہلے ہی شدید گرمی اور خشک سالی نے زرعی پیداوار کو نقصان پہنچایا ہے۔ 17 اگست 2026 کی تازہ رپورٹوں کے مطابق یورپ کے کئی حصوں میں کسان غیر معمولی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، فرانس میں بعض سبزیوں کی پیداوار میں 25 سے 100 فیصد تک کمی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ مکئی کی پیداوار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اٹلی کے بڑے زرعی علاقے پو وادی میں بھی خشک سالی سے چاول، مکئی اور سویا سمیت مختلف فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔ یہ تمام واقعات صرف ایل نینو کا نتیجہ قرار نہیں دیے جا سکتے، لیکن عالمی حدت، خشک سالی اور ایل نینو ایک دوسرے کے اثرات کو بڑھانے والا ماحول ضرور پیدا کر رہے ہیں۔ عالمی خوراک کے نظام کے حوالے سے Reuters کی 11 اگست 2026 کی خصوصی تحقیق نے ایک قدرے مختلف مگر انتہائی اہم پہلو سامنے رکھا ہے۔ Reuters کے مطابق دنیا آج ماضی کے مقابلے میں ایک طاقتور ایل نینو سے نمٹنے کے لیے زیادہ تیار ہے، کیونکہ گزشتہ کئی دہائیوں میں زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، عالمی اناج کے ذخائر نسبتاً مضبوط ہیں، آبپاشی بہتر ہوئی ہے، خشک سالی برداشت کرنے والی اقسام تیار ہوئی ہیں، درست زراعت یعنی precision agriculture میں اضافہ ہوا ہے اور برازیل و روس جیسے بڑے برآمد کنندگان نے عالمی خوراک کے نظام میں اہم کردار حاصل کیا ہے۔ بھارت کے چاول کے ذخائر اور چین کے گندم کے ذخائر بھی کسی حد تک عالمی سپلائی کو سہارا دے سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 2026-27 کا ایل نینو لازماً 1870 کی دہائی کے تاریخی قحط جیسی صورتحال پیدا کرے گا، یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں۔ لیکن Reuters کے ماہرین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ خوراک کی قیمتوں، پیداوار اور تجارت پر دباؤ کا خطرہ حقیقی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا جنگوں، ایندھن، کھاد اور تجارتی راستوں کے مسائل سے دوچار ہے۔ عالمی معیشت پر اثرات کے حوالے سے Allianz Research نے جولائی 2026 کی اپنی تحقیق میں ایل نینو کو صرف موسمیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ممکنہ معاشی واقعہ قرار دیا ہے۔ Allianz کے مطابق ایک معمول کا ایل نینو عالمی خوراک کی قیمتوں میں تقریباً پانچ فیصد تک اضافہ کر سکتا ہے، جبکہ 1982-83 اور 1997-98 کے بڑے واقعات کے بعد کئی سالوں میں عالمی آمدنی کو کھربوں ڈالر کے مساوی نقصان پہنچنے کے شواہد موجود ہیں۔ Allianz کے مطابق ایشیا میں زرعی اور اجناس کے خطرات زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں، جبکہ لاطینی امریکا کے بعض حصوں میں بارش کے بہتر حالات کچھ اجناس کی پیداوار بڑھا سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایل نینو کا عالمی معاشی اثر ہر ملک کے لیے یکساں نہیں بلکہ جغرافیائی طور پر انتہائی مختلف ہوگا۔ ING Think نے بھی جولائی 2026 کی اپنی تحقیق میں اس خیال کو اجاگر کیا کہ عالمی سطح پر خوراک کے بحران کے خدشات بعض صورتوں میں مبالغہ آمیز ہو سکتے ہیں، لیکن ایشیا پیسیفک خطہ علاقائی زرعی پیداوار کے حوالے سے زیادہ حساس ہے۔ ING کے مطابق بھارت میں مون سون کی رفتار، ایشیا کی آبی زراعت، جنگلات کی آگ، دریاؤں کی سطح اور بارش کے آغاز جیسے عوامل اس بات کے ابتدائی اشارے فراہم کر سکتے ہیں کہ ایل نینو کا عملی اثر کتنا شدید ہوگا۔ اس تحقیق سے ایک اہم نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عالمی خوراک کی کمی اور علاقائی خوراک کے بحران کو ایک ہی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔ دنیا کے پاس مجموعی طور پر خوراک موجود ہو سکتی ہے لیکن اگر کسی ملک یا خطے میں فصل تباہ ہو جائے، درآمدی صلاحیت کم ہو یا قیمتیں بہت بڑھ جائیں تو وہاں غذائی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ یورپی کمیشن کے Joint Research Centre یعنی JRC نے بھی ایل نینو اور خشک سالی کے زرعی اثرات پر تحقیق کی ہے۔ JRC کے مطابق مشرقی افریقا، لاطینی امریکا اور کیریبین کے بعض حصوں میں ایل نینو سے وابستہ خشک سالی اور پہلے سے موجود کمزور غذائی نظام فصلوں کی پیداوار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مشرقی افریقا میں کینیا، یوگنڈا، صومالیہ اور ایتھوپیا کے بعض علاقوں میں بارش کے مسائل، خشک وقفوں اور تنازعات کا امتزاج غذائی خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔ JRC نے واضح کیا ہے کہ موسمیاتی خطرات جب تنازع، ایندھن کی کمی، منڈیوں کی خرابی اور کمزور بنیادی ڈھانچے کے ساتھ مل جاتے ہیں تو ان کا اثر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ انسانی بحرانوں کی نگرانی کرنے والے ادارے ACAPS نے بھی 2026-27 کے ایل نینو کے لیے ان ممالک کی نشاندہی کی ہے جہاں زراعت، مویشیوں، ماہی گیری، خوراک کی قیمتوں اور انسانی ضروریات پر اس کے اثرات زیادہ شدید ہو سکتے ہیں۔ ACAPS کے مطابق موسمیاتی خطرات کے انسانی اثرات کا اندازہ صرف موسم دیکھ کر نہیں لگایا جا سکتا بلکہ غربت، معاشی کمزوری، تنازع، نقل مکانی، خوراک کی درآمد پر انحصار اور مقامی حکومتی صلاحیت بھی اہم عوامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی شدت کا موسمیاتی واقعہ دو مختلف ملکوں میں بالکل مختلف انسانی نتائج پیدا کر سکتا ہے۔خوراک کی عالمی قیمتیں پہلے ہی تشویش کا باعث بن چکی ہیں۔ اقوام متحدہ کے FAO Food Price Index کے مطابق جولائی 2026 میں عالمی خوراک کی قیمتوں کا اشاریہ تین سال سے زیادہ عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ گندم، مکئی، چینی اور خوردنی تیل سمیت کئی اہم اجناس کی قیمتوں پر شدید گرمی، خشک سالی، جنگوں، توانائی کے اخراجات اور سپلائی چین کے مسائل اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس پس منظر میں ایل نینو کا اضافہ عالمی خوراک کی قیمتوں پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔ FAO کے چیف اکانومسٹ Máximo Torero نے بھی خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں موسمیاتی اور جغرافیائی سیاسی عوامل ایک دوسرے کے اثرات کو بڑھا رہے ہیں۔ The Guardian اورFinancial Times نے بھی 2026 کے ایل نینو کے عالمی معاشی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ کافی، کوکو، گندم، چاول اور چینی سمیت کئی اجناس کی منڈیوں میں پہلے ہی خطرے کی قیمت شامل ہونا شروع ہو گئی ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کے سابقہ تجزیوں کے مطابق مضبوط ایل نینو کے دوران عالمی خوراک کی قیمتوں میں قابل ذکر اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ کم آمدنی والے ممالک زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان کے گھرانوں کی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ ہوتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں زراعت، پانی، مون سون، درجہ حرارت اور خوراک کی قیمتیں ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ پاکستان میں ایل نینو کے اثرات کو براہ راست اور قطعی انداز میں بیان کرنا درست نہیں ہوگا کیونکہ ملکی موسم پر Indian Ocean Dipole، Arabian Sea temperatures، مغربی ہواؤں، برفباری، مقامی سمندری درجہ حرارت اور مون سون کی اندرونی حرکیات بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ تاہم عالمی موسمیاتی اداروں کی موجودہ پیش گوئی پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے لیے خاص احتیاط کا تقاضا کرتی ہے۔ Met Office کے عمومی موسمیاتی جائزے کے مطابق ایل نینو بھارت کے بعض حصوں میں خشک حالات کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے، جبکہ WMO نے مثبت Indian Ocean Dipole کے ممکنہ ظہور کو بھی نمایاں کیا ہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ایل نینو یہاں لازماً خشک سالی لائے گا یا سیلاب، بلکہ یہ ہے کہ مون سون، درجہ حرارت اور پانی کے نظام میں غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں ملک کی زراعت اور پانی کا انتظام کس حد تک تیار ہے۔ گندم، چاول، کپاس، مکئی، گنے، سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار پر شدید گرمی اور پانی کی دستیابی براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ اگر فصلوں کی پیداوار کم ہو اور عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھیں تو پاکستان جیسے درآمدی دباؤ رکھنے والے ملک میں خوراک کی مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔ اسی طرح بجلی کی طلب، پانی کی تقسیم، زرعی ٹیوب ویلوں، آبی ذخائر اور شہری پانی کی فراہمی پر بھی موسمی حالات کے اثرات پڑ سکتے ہیں۔ پاکستان کے لیے اس صورتحال میں سب سے اہم ضرورت پیشگی منصوبہ بندی ہے۔ اگر موسمیاتی ادارے بارش اور درجہ حرارت میں ممکنہ تبدیلیوں کی بروقت اطلاع دیں، صوبائی حکومتیں پانی اور فصلوں کے بارے میں پیشگی فیصلے کریں، کسانوں کو فصلوں کے انتخاب اور آبپاشی کے بارے میں بروقت مشورے دیے جائیں، غذائی اجناس کے ذخائر کا جائزہ لیا جائے اور کمزور علاقوں کی نشاندہی پہلے سے کی جائے تو ایل نینو کے نقصان کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ موسمیاتی نظام اسی پیشگی کارروائی پر زور دے رہے ہیں۔ WFP اور FAO نے بھی anticipatory action یعنی آفت آنے سے پہلے کارروائی کو بنیادی حکمت عملی قرار دیا ہے۔ یہ طریقہ ماضی کے روایتی امدادی نظام سے مختلف ہے جس میں بحران پیدا ہونے کے بعد امداد پہنچائی جاتی تھی۔ آج کا جدید نظام سیٹلائٹ، موسم کی پیش گوئی، فصلوں کی نگرانی، غذائی قیمتوں، نقل مکانی اور مقامی خطرات کے اعداد و شمار کو ملا کر پہلے سے فیصلہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس پوری صورتحال میں ایک اور اہم سوال موسمیاتی تبدیلی کا ہے۔ سائنس دان واضح کرتے ہیں کہ ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی مظہر ہے اور اسے براہ راست انسانی پیدا کردہ موسمیاتی تبدیلی کہنا درست نہیں۔ تاہم انسان کی پیدا کردہ عالمی حدت نے دنیا کے بنیادی درجہ حرارت کو پہلے ہی بلند کر دیا ہے۔ جب ایک مضبوط ایل نینو اس گرم پس منظر میں نمودار ہوتا ہے تو عالمی درجہ حرارت مزید اوپر جا سکتا ہے اور بعض خطوں میں شدید گرمی، خشک سالی، جنگلات کی آگ اور سمندری حرارت کے اثرات زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔ Copernicus نے جولائی 2026 کے دوران عالمی سطح پر غیر معمولی سمندری حرارت ریکارڈ کی ہے، جبکہ FAO نے بھی واضح کیا ہے کہ ایل نینو ایک ایسی دنیا میں آ رہا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے باعث پہلے ہی زیادہ گرم اور غیر یقینی ہو چکی ہے۔ (Copernicus Climate Change Service) Amazon کے بارے میں تازہ سائنسی اور ماحولیاتی رپورٹس بھی تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ ایل نینو کے ممکنہ عروج کے دوران Amazon خطے میں شدید خشک سالی، دریاؤں کی سطح میں کمی اور جنگلات کی آگ کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ یہ صرف جنوبی امریکا کا مسئلہ نہیں کیونکہ Amazon عالمی کاربن سائیکل، حیاتیاتی تنوع اور علاقائی بارش کے نظام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرح بحرالکاہل کے گرم پانی سمندری حیات اور ماہی گیری کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ Peru میں پہلے ہی گرم پانی کے باعث anchovy fishing پر دباؤ کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں، جس سے fishmeal اور fish oil کی عالمی قیمتوں پر اثر پڑا ہے۔ (The Guardian) کاروباری دنیا بھی اس خطرے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ Reuters کی اگست 2026 کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا کی بڑی کمپنیوں میں El Niño کا ذکر کئی برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ سینکڑوں کمپنیوں نے اپنی مالی رپورٹس اور سرمایہ کاروں سے گفتگو میں ایل نینو سے متعلق خطرات کا ذکر کیا ہے۔ خاص طور پر بھارت اور ایشیا کی وہ کمپنیاں جو مون سون، زراعت، خوراک، کیمیکل، توانائی اور سپلائی چین سے وابستہ ہیں، اپنے خطرات کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایل نینو اب صرف موسمیاتی ماہرین کا موضوع نہیں رہا بلکہ عالمی کاروبار اور مالیاتی منصوبہ بندی کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔ اس تمام تحقیق کو سامنے رکھا جائے تو 2026 کا ایل نینو نہ تو دنیا کے خاتمے کی علامت ہے اور نہ ہی ایک معمولی موسمی تبدیلی۔ یہ ایک بڑا قدرتی موسمیاتی واقعہ ہے جو پہلے سے گرم دنیا، خوراک کی بلند قیمتوں، جنگوں، توانائی کے مسائل، کھاد کی قلت اور کمزور غذائی نظاموں کے ساتھ مل کر بڑے انسانی اور معاشی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ NOAA کا 90 فیصد سے زیادہ بہت مضبوط ایل نینو کا امکان، IRI کی 2027 کے ابتدائی مہینوں تک ایل نینو برقرار رہنے کی انتہائی بلند پیش گوئی، WMO کی مضبوط ایل نینو اور مثبت Indian Ocean Dipole کے بارے میں تشویش، FAO کی زرعی خطرات کی تاریخی سیٹلائٹ تحقیق، WFP کی تقریباً 49 ملین اضافی افراد کے شدید غذائی عدم تحفظ میں جانے کی وارننگ، Copernicus کی ریکارڈ بلند سمندری حرارت، JRC کی خشک سالی اور فصلوں کے بارے میں علاقائی تشویش، ACAPS کی انسانی بحرانوں کی نگرانی، Allianz اور ING کی معاشی و اجناس کی تحقیقات اور Reuters کے مطابق عالمی خوراکی نظام کی نسبتاً بہتر تیاری، سب مل کر ایک متوازن تصویر پیش کرتے ہیں۔ خطرہ حقیقی ہے مگر نتیجہ ابھی طے شدہ نہیں۔ دنیا کے پاس اس خطرے کو کم کرنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ سائنسی علم، سیٹلائٹ، موسمیاتی ماڈل، فصلوں کی بہتر اقسام، آبپاشی کے جدید طریقے، عالمی تجارتی نظام اور ابتدائی انتباہی نظام موجود ہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ حکومتیں اور عالمی ادارے ان معلومات کو کتنی تیزی سے عملی فیصلوں میں تبدیل کرتے ہیں۔ اگر پیشگی کارروائی کی گئی تو پانچ کروڑ افراد کے غذائی بحران کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر خشک سالی، سیلاب، فصلوں کی تباہی، جنگ، مہنگائی اور سپلائی چین کے بحران ایک دوسرے کے ساتھ جڑ گئے تو صورتحال کہیں زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ اس لیے 2026 کا طاقتور ایل نینو دراصل صرف ایک موسمیاتی خبر نہیں بلکہ عالمی خوراک، پانی، معیشت اور انسانی سلامتی کے لیے ایک امتحان ہے۔ آنے والے چند ماہ فیصلہ کریں گے کہ یہ ایل نینو محض ایک غیر معمولی موسمیاتی واقعہ ثابت ہوتا ہے یا 21ویں صدی کے بڑے عالمی موسمیاتی بحرانوں میں ایک نمایاں مثال بن جاتا ہے۔ سائنس فی الحال ہمیں خطرے کی گھنٹی سنا رہی ہے، مگر ساتھ ہی یہ موقع بھی دے رہی ہے کہ خطرہ آنے سے پہلے اس کا مقابلہ کیا جائے۔

 

Latest Posts