جیرڈ کشنر اسرائیل پہنچ گئے، غزہ امن منصوبے پر مذاکرات تیز

یروشلم: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر اسرائیل پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے پیر کے روز ملاقات متوقع ہے۔ کشنر کا دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب غزہ میں جنگ کے خاتمے اور امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے پر سفارتی کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔

جیرڈ کشنر کا اسرائیل کا دورہ اس ملاقات کے چند روز بعد ہورہا ہے جو انہوں نے حماس کے نمائندوں کے ساتھ غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کے حوالے سے کی تھی۔ حماس کے ساتھ ہونے والی یہ بات چیت اس لیے اہم سمجھی جارہی ہے کیونکہ فریقین کے درمیان جنگ کے خاتمے، غزہ کے مستقبل اور سکیورٹی انتظامات پر شدید اختلافات برقرار ہیں۔

گزشتہ ماہ ٹرمپ کی سربراہی میں قائم بورڈ آف پیس نے اعلان کیا تھا کہ غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کے حوالے سے ایک اتفاق رائے حاصل ہوگیا ہے۔ یہ تجویز امریکی حمایت یافتہ وسیع تر امن منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد غزہ میں جنگ کا خاتمہ اور مستقبل کے لیے ایک نیا سیاسی و انتظامی نظام قائم کرنا ہے۔

تاہم اسرائیل نے گزشتہ ہفتے ٹرمپ کے 15 نکاتی امن منصوبے کو مسترد کردیا تھا۔ منصوبے میں غزہ سے اسرائیلی فوجیوں کے انخلا اور علاقے کی تعمیر نو کے ساتھ ایک نئی شہری فلسطینی انتظامیہ کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔

اسرائیل کی جانب سے منصوبہ مسترد کیے جانے پر آٹھ مسلم ممالک نے اتوار کو مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا اور اسرائیلی فیصلے کی مذمت کی۔ ان ممالک نے غزہ میں پائیدار امن کے قیام اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔

ٹرمپ کی سربراہی میں قائم بورڈ آف پیس ابتدا میں غزہ میں امن کے قیام کے لیے ایک بین الاقوامی تنظیم کے طور پر تشکیل دیا گیا تھا، تاہم بعد میں اس کے دائرہ کار کو دنیا کے دیگر تنازعات تک بھی وسعت دی گئی۔

ایک فلسطینی عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے اتوار کو مصر میں حماس کے نئے رہنما خلیل الحیہ کی قیادت میں آنے والے وفد سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں غزہ امن منصوبے کے اگلے مراحل اور اس پر عملدرآمد کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔

حماس نے بعد میں ایک بیان میں ثالثوں اور بورڈ آف پیس پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو امن منصوبے کے اگلے مرحلے کی منظوری دینے پر آمادہ کریں۔ حماس کا کہنا ہے کہ امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے فریقین کو مجوزہ روڈ میپ پر سنجیدگی سے عمل کرنا ہوگا۔

دوسری جانب بنجمن نیتن یاہو کو اندرون ملک بھی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ وہ اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں اقتدار برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے، جبکہ ان کے حکومتی اتحاد میں ایسے وزرا بھی شامل ہیں جو غزہ کے معاملے پر مزید سخت پالیسی کے حامی ہیں۔

یہ سیاسی صورتحال نیتن یاہو کے لیے امریکی امن منصوبے پر فیصلہ کرنا مزید مشکل بنا سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب اسرائیلی حکومت غزہ کی سکیورٹی، مسلح گروہوں کے مستقبل اور اسرائیلی فوج کے انخلا جیسے اہم معاملات پر اپنے مؤقف پر قائم ہے۔

جیرڈ کشنر کی اسرائیلی وزیراعظم سے متوقع ملاقات کو امریکی سفارتی کوششوں کے حوالے سے اہم قرار دیا جارہا ہے۔ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان موجود اختلافات کو کم کیا جائے اور غزہ امن منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے مذاکرات کو دوبارہ آگے بڑھایا جائے۔

تاہم غزہ کے مستقبل، حماس کی مسلح حیثیت، اسرائیلی فوج کے انخلا اور نئی فلسطینی انتظامیہ کے قیام جیسے معاملات اب بھی بڑے چیلنجز ہیں۔ کشنر کا تازہ دورہ اس بات کا اہم امتحان ہوگا کہ آیا امریکا فریقین کے درمیان موجود خلیج کم کرنے اور امن عمل کو دوبارہ متحرک کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے یا نہیں۔

Latest Posts