لاہور کی زہریلی فضا، اربوں کا سموگ تھیٹر

میاں افتخار احمد

لاہور کی فضا زہر آلود ہے اور یہ زہر ہر سانس کے ساتھ شہر کے 13 ملین باشندوں کے پھیپھڑوں میں اتر رہا ہے۔ ستمبر 2026 کی صبح 9 بجے اور 30 منٹ پر لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 194 تک پہنچ گیا جسے انتہائی غیر صحت بخش قرار دیا جاتا ہے اور اس وقت یہ شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا۔ یہ کوئی حادثاتی امر نہیں بلکہ ایک مسلسل گرتی ہوئی صورتحال کا منطقی انجام ہے۔ 2025 میں لاہور کی اوسط پی ایم ٹو پوائنٹ فائیو کی مقدار 88.9 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی جو عالمی ادارہ صحت کے سالانہ رہنما اصول 5 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے 17.8 گنا زیادہ ہے اور اسی سال لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں 8ویں نمبر پر تھا جبکہ پاکستان دنیا کا آلودہ ترین ملک قرار پایا۔ عالمی فضائی معیار کے نگران اداروں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ لاہور میں پی ایم ٹو پوائنٹ فائیو کی سطح گزشتہ 5 سالوں میں مسلسل بڑھ رہی ہے اور کسی بھی سال عالمی ادارہ صحت کے محفوظ ترین معیار کے قریب بھی نہیں پہنچ سکی۔اس بحران کی جڑیں گہری اور کئی جہتوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ لاہور کی فضائی آلودگی کے بنیادی ذرائع میں گاڑیوں کا اخراج، صنعتی سرگرمیاں، اینٹوں کے بھٹے، تعمیراتی دھول اور فصلوں کی باقیات کو جلانا شامل ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے ایک تفصیلی فیصلے میں تسلیم کیا گیا ہے کہ شہر کی مقامی فضائی آلودگی میں گاڑیوں کا حصہ تقریباً 83 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ نجی گاڑیوں اور فرسودہ ٹرانسپورٹ نظام نے شہر کی فضا کو کس طرح ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق لاہور کے سالانہ اخراج کا تقریباً 90 فیصد ٹرانسپورٹ کے شعبے سے آتا ہے جس میں نائٹروجن آکسائیڈز، کاربن مونو آکسائیڈ، اور باریک ذرات شامل ہیں۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی ایک جامع رپورٹ کے مطابق لاہور میں گاڑیوں کی رجسٹرڈ تعداد 7,353,000 سے تجاوز کر چکی ہے جن میں 5,134,000 موٹر سائیکلیں، 1,653,000 موٹر کاریں، اور 225,000 رکشے شامل ہیں۔ ان گاڑیوں کی بڑی تعداد فرسودہ انجنوں اور ناقص ایندھن پر چل رہی ہے جس کے باعث ہر گاڑی عام عالمی معیار سے کئی گنا زیادہ آلودگی خارج کرتی ہے۔ چکاگو یونیورسٹی کی ایئر کوالٹی لائف انڈیکس کی تحقیق کے مطابق فضائی آلودگی کے باعث لاہور کے شہری اپنی متوقع عمر کے 7.5 سال کھو رہے ہیں جبکہ پاکستان بھر میں یہ نقصان 3.9 سال ہے۔

فضائی آلودگی کے ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ موسم سرما میں درجہ حرارت کے الٹ جانے کے عمل کے باعث آلودگی سطح کے قریب قید ہو جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اکتوبر سے فروری تک لاہور کی فضا سب سے زیادہ زہریلی ہو جاتی ہے۔ اس عرصے میں ہوا کی اوپری تہہ گرم اور نچلی تہہ ٹھنڈی ہو جاتی ہے جس سے عمودی ہوا کی نقل و حرکت رک جاتی ہے اور آلودگی ایک چادر کی طرح شہر پر چھا جاتی ہے۔ مون سون کا موسم جولائی سے ستمبر تک واحد قدرتی راحت کا دورانیہ ہے جب بارش اور ہوا کی زیادہ نقل و حرکت آلودگی کو صاف کرنے میں مدد دیتی ہے لیکن مون سون کے رخصت ہوتے ہی صورتحال دوبارہ تیزی سے بگڑنا شروع ہو جاتی ہے۔ نومبر 2024 میں لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 1,900 کے قریب پہنچ گیا تھا اور ملتان میں یہ 2,000 سے بھی تجاوز کر گیا تھا۔اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے پنجاب حکومت نے کئی اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے جن میں عالمی بینک کے تعاون سے 300 ملین  ڈالر کا پنجاب کلین ایئر پروگرام نمایاں ہے۔ یہ پروگرام 2025 سے 2030 تک لاہور ڈویژن میں پی ایم ٹو پوائنٹ فائیو کی نمائش کو 35 فیصد تک کم کرنے کا ہدف رکھتا ہے اور اس میں ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعت کے شعبوں میں اخراج کو کم کرنے کے لیے اقدامات شامل ہیں۔ عالمی بینک کی دستاویزات کے مطابق اس پروگرام کے تحت 300 ملین  ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی جس میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں پرانی گاڑیوں کی چھانٹی، ایندھن کے معیار کی بہتری، صنعتوں میں صاف ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور زرعی باقیات کے متبادل انتظامات شامل ہیں۔ حکومت نے پرانی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے، 1,000 الیکٹرک بسیں متعارف کروانے کا منصوبہ بنایا ہے، اور اینٹوں کے تمام بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کا دعوی کیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں یہ بات درج ہے کہ پنجاب کے تمام فعال اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کر دیا گیا ہے اور ہر بھٹے کو ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی ڈیجیٹل نگرانی کے لیے ایک منفرد شناختی نمبر جاری کیا گیا ہے۔ زراعت کے شعبے میں حکومت نے کسانوں کو بھوسے کے جلانے سے روکنے کے لیے سوپر سیڈر مشینیں فراہم کی ہیں جن پر 60 فیصد سبسڈی دی جا رہی ہے اور ہر مشین پر 819,000 روپے کی سبسڈی دی جاتی ہے۔ پنجاب حکومت نے گزشتہ 2 سالوں میں کسانوں کو تقریباً 5,000 سوپر سیڈر مشینیں فراہم کی ہیں جن کے ذریعے دھان کی باقیات کو زمین میں ملایا جا سکتا ہے اور کھلے میں جلانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔لیکن ان تمام اقدامات کے باوجود لاہور کی فضا صاف نہیں ہو رہی اور اس کی سب سے بڑی وجہ حکومت کی جانب سے فضائی آلودگی کے بنیادی مسئلے کو نظر انداز کر کے نمائشی پروگراموں پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ پنجاب حکومت نے 3,000,000,000 روپے کا منصوبہ ترتیب دیا ہے جس کے تحت 30 جدید دھند سے نمٹنے والی توپیں الیکٹرک ٹرکوں پر نصب کی جائیں گی۔ دھند سے نمٹنے والی توپ یا فاگ کینن ایک مکینیکل آلہ ہے جو پانی کو باریک ذرات کی شکل میں ہوا میں چھڑکتا ہے تاکہ بڑے ذرات زمین پر گر جائیں۔یہ ٹیکنالوجی دراصل کان کنی اور تعمیراتی مقامات پر دھول کو قابو کرنے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہے اور اسے شہری فضائی آلودگی کے حل کے طور پر پیش کرنا سائنسی اعتبار سے درست نہیں ہے۔ سائنسی تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اس طریقے کار کی افادیت موسمی حالات سے منسلک ہے اور ہوا کی رفتار 2.5 میٹر فی سیکنڈ سے زیادہ ہونے پر اس کی کارکردگی تیزی سے گر جاتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی صرف پی ایم 10 نامی بڑے ذرات کو قابو کر سکتی ہے جبکہ لاہور کی فضا میں سب سے خطرناک اور صحت کے لیے مہلک ذرات پی ایم 2.5 ہیں جو پھیپھڑوں کی گہرائی میں جا کر خون میں شامل ہو جاتے ہیں اور ان پر یہ توپیں کوئی اثر نہیں ڈال سکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اسے سموگ تھیٹر یعنی دھند کا ڈرامہ قرار دیتے ہیں۔

چین کی ایک تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ دھند کی گاڑی گزرنے کے بعد 25 سے 35 منٹ کے اندر پی ایم 2.5 کی سطح الٹا 13 فیصد تک بڑھ سکتی ہے کیونکہ اضافی نمی ہوا میں کیمیائی رد عمل کو تیز کر دیتی ہے جس سے مزید باریک ذرات بنتے ہیں۔ چین نے 2016 سے 2017 میں بیجنگ اور شیان جیسے شہروں میں اسپرے توپ کا تجربہ کیا تھا لیکن بعد میں یہ ثابت ہوا کہ اس سے پی ایم 2.5 میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی۔ چین کی فضائی معیار میں اصل بہتری کوئلے سے گیس پر منتقلی، صنعتی اخراج کے معیارات پر عمل درآمد، اور 2,000 سے زیادہ نگرانی کے اسٹیشنز کے قیام سے آئی۔ بھارت کے دہلی میں بھی 2018 کے بعد بڑے پیمانے پر اسپرے توپوں کا استعمال ہوا لیکن پی ایم 2.5 کی سطح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور 2021 سے 2022 تک عدالتی حلقوں نے بھی ان کی افادیت پر سوال اٹھا دیے۔لاہور میں نصب پہلا سموگ ٹاور بھی اپنی ناکامی کا ثبوت دے چکا ہے۔ پنجاب انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے جنوری 2025 میں ایک 9 رکنی کمیٹی تشکیل دی جو محمود بوٹی میں نصب سموگ ٹاور کی کارکردگی کا جائزہ لے۔ کئی دنوں کی نگرانی کے بعد کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ سموگ ٹاور کی پی ایم 2.5 کو صاف کرنے کی کارکردگی انتہائی کم ریکارڈ کی گئی جس سے اس کے الیکٹرو اسٹیٹک دھول جمع کرنے کے نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہوا کی رفتار، نمی اور بارش کا فضائی معیار پر سموگ ٹاور سے کہیں زیادہ اثر تھا۔ ماہرین نے ناقص وولٹیج ریگولیشن، غیر مؤثر الیکٹرو اسٹیٹک الیکٹروڈ ڈیزائن اور ناکافی فلٹریشن سسٹم کو ناکامی کی وجوہات قرار دیا۔

پالیسیوں کے نفاذ میں ناکامی کی وجہ صرف تکنیکی نہیں بلکہ گہرے نظامی اور حکمرانی کے مسائل بھی ہیں۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کلین ایئر پروگرام کے تحت ایندھن کے معیار کی جانچ کے لیے لیبارٹریوں کے منصوبے کے لیے کل 490,000,000 روپے مختص کیے گئے تھے لیکن جون 2026 تک صرف 5,000,000 روپے سے بھی کم رقم استعمال ہوئی جو 2 فیصد سے بھی کم ہے۔ اس کے برعکس نمائشی پروگراموں پر اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ یہ تضاد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت کی ترجیحات میں بنیادی مسئلے کا حل شامل نہیں ہے۔پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ قانونی فریم ورک، منصوبے اور پالیسیاں موجود ہیں لیکن مؤثر نفاذ ایک بڑا چیلنج ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان ابھی تک یورو 5 ایندھن کے معیار پر مکمل منتقلی نہیں کر سکا اور یہاں تک کہ مکمل منتقلی بھی اخراج میں نمایاں بہتری نہیں لا سکتی۔ زیادہ مؤثر حل یورو 6 معیار پر منتقلی ہے جو گاڑیوں سے نکلنے والے نقصان دہ اخراج کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ کسانوں کے لیے جرمانے غیر مؤثر ثابت ہوئے ہیں اور جامع اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ کے ایک پالیسی سیمینار میں ماہرین نے انکشاف کیا کہ فضائی آلودگی پاکستانیوں کی اوسط متوقع عمر تقریباً 4 سال کم کر رہی ہے جبکہ لاہور کے رہائشیوں نے تقریباً 7 سال کی متوقع عمر کھو دی ہے۔ ماہرین کے مطابق لاہور میں ٹرانسپورٹ کا اخراج تقریباً 35 فیصد آلودگی کا ذمہ دار ہے، جس کے بعد بھاری صنعت 28 فیصد اور اینٹوں کے بھٹے 17 فیصد کے ساتھ شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فصلوں کی باقیات جلانا سال بھر کی آلودگی کی بنیادی وجہ نہیں ہے اور ٹرانسپورٹ اور صنعت سال بھر مسلسل آلودگی پیدا کرتے رہتے ہیں۔ ماہرین نے بین الاقوامی ایئر شیڈ مینجمنٹ فورم کے قیام اور پاکستان اور بھارت کے درمیان علاقائی ڈیٹا شیئرنگ میکانزم کی ضرورت پر زور دیا کیونکہ الگ تھلگ قومی ردعمل سرحد پار سموگ کا مؤثر طریقے سے مقابلہ نہیں کر سکتا۔

 

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے 8 سالہ طویل مقدمے کے فیصلے میں یہ نکتہ واضح کیا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ اور آبی تحفظ کو حکومتی فیصلہ سازی کا بنیادی حصہ بنانا ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ ایک حکم یا فیصلے سے ماحولیاتی بحران جیسے پیچیدہ مسئلے کا مکمل حل ممکن نہیں اور ترقیاتی منصوبے ماحول اور قدرتی وسائل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا کر مکمل نہیں کیے جا سکتے۔ یہ فیصلہ اس بات کا آئینہ دار ہے کہ عدلیہ نے بھی حکومت کی ناکامی کو تسلیم کیا ہے اور پالیسیوں کے نفاذ کے لیے مسلسل عدالتی نگرانی کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔پاکستان ایئر کوالٹی انیشیٹو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سپریم کورٹ نے 3 دہائیوں سے صاف اور صحت مند ماحول کے حق کو آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت بنیادی حق زندگی کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ یہ judicial تسلیم 2014 میں شہلا زیا کیس سے شروع ہوا اور 2024 میں عامر اسحاق کیس میں عدالت نے ماحولیاتی آئینیت کا تصور پیش کیا۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ لاہور ایئر پولوشن کیس میں لاہور ہائی کورٹ نے 2003 میں کلین ایئر کمیشن قائم کیا تھا لیکن 3 دہائیوں کے بعد بھی لاہور کی فضا مزید بگڑ رہی ہے۔

اس بحران کی ذمہ داری کا تعین کرنا ضروری ہے۔ حکومت کی ذمہ داری بنیادی اور اولین ہے کیونکہ وہ ریگولیٹر، نگران اور عوامی وسائل کی منتظم ہے۔ لیکن عوام بھی ذمہ داری سے بری نہیں ہیں۔ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، نجی گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال، فصلوں کی باقیات کو جلانے، اور کچرے کو کھلے میں جلانے جیسے اعمال میں عوامی رویہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم عوام کی ذمہ داری حکومت کے مقابلے میں ثانوی ہے کیونکہ عوام کو متبادل سہولیات اور قانونی راستے فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر عوامی ٹرانسپورٹ موثر نہیں تو لوگ نجی گاڑی استعمال کریں گے۔ اگر کسان کو بھوسے کے جلانے کا کوئی سستا اور آسان متبادل نہیں ملتا تو وہ جلانے پر مجبور ہوگا۔ اگر صنعت کار کو صاف ایندھن کی فراہمی اور ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن کے لیے سبسڈی نہیں ملتی تو وہ فرسودہ طریقے استعمال کرتا رہے گا۔پاکستان ایئر کوالٹی انیشیٹو کی رپورٹ میں یہ بھی شامل ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے 2021 کے رہنما اصولوں کے مطابق پی ایم 2.5 کی سالانہ اوسط 5 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ہے جبکہ پاکستان کا قومی معیار 25 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ہے جو عالمی ادارہ صحت کے معیار سے 5 گنا زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں فضائی آلودگی کے صحت پر اثرات عالمی سطح پر سب سے زیادہ ہیں۔ عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں باہر کی فضائی آلودگی ہر سال تقریباً 22,000 قبل از وقت اموات کا سبب بنتی ہے جس میں معذوری سے ایڈجسٹ شدہ زندگی کے سالوں کا نمایاں نقصان شامل ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف ایک جامع، طویل المدتی اور سائنسی بنیادوں پر استوار حکمت عملی میں ہے جو ٹریفک، صنعت، زراعت، توانائی اور عوامی رویے کے تمام پہلوؤں کو یکجا طور پر حل کرے۔ ٹریفک کے شعبے میں پرانی گاڑیوں کی مکمل چھانٹی، ایندھن کے معیار کو یورو 6 تک لے جانا، الیکٹرک بسوں کا نیٹ ورک بڑھانا، اور نجی گاڑیوں کے استعمال کو کم کرنے کے لیے مؤثر عوامی ٹرانسپورٹ فراہم کرنا ضروری ہے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ شہروں میں سائیکلنگ کلچر کو فروغ دیا جائے، یونیورسٹی کے طلباء کو اس کا آغاز کنندہ بنایا جائے، رائیڈ شیئرنگ خدمات کی حوصلہ افزائی کی جائے، اور میاواکی جنگلات کے ذریعے شہری سبزہ بڑھایا جائے۔صنعت کے شعبے میں فرسودہ ٹیکنالوجی کی جگہ صاف ٹیکنالوجی کو اپنانا، ایندھن کے معیار پر سخت نگرانی، اور اخراج کے نظام کی مسلسل جانچ لازمی ہے۔ سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ کے ماہرین نے نشاندہی کی کہ چین نے 2012 سے اب تک فضائی آلودگی کی سطح میں تقریباً 65 فیصد کمی کی ہے جو مربوط حکمرانی اور 2,000 سے زیادہ نگرانی کے اسٹیشنز کے ذریعے ممکن ہوئی۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان اسی قسم کے ادارہ جاتی طریقے اپنا سکتا ہے۔ زراعت میں سوپر سیڈر مشینوں کی فراہمی کو مزید بڑھانا اور کسانوں کو بھوسے کے متبادل استعمال کی ترغیب دینا ہے۔ ماہرین نے تجویز دی کہ فصلوں کی باقیات کو جلانے کے مسئلے کو صرف جرمانوں کے ذریعے نہیں بلکہ مراعات اور متبادل استعمال جیسے بایو انرجی اور صنعتی ان پٹ کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ان تمام اقدامات کے لیے سیاسی عزم، مستقل مالی سرمایہ کاری، اور ادارہ جاتی صلاحیت کی مضبوطی بنیادی شرط ہے۔ اگر حکومت صرف نمائشی پروگراموں اور سموگ تھیٹر پر انحصار کرتی رہے گی تو لاہور کی فضا کبھی صاف نہیں ہوگی اور شہر کے باسی سانس لینے کے لیے ترستے رہیں گے۔ دنیا کے تجربات بتاتے ہیں کہ فضائی آلودگی کا مستقل حل صرف ٹھوس پالیسیوں، سخت نفاذ، اور عوامی شراکت سے ممکن ہے اور یہ عمل سالوں بلکہ دہائیوں پر محیط ہوتا ہ

Related posts

Leave a Comment