کراچی میں یومِ آزادی پر ہوائی فائرنگ، خاتون جاں بحق، 94 افراد زخمی

کراچی: یومِ آزادی کی خوشیاں کراچی میں خطرناک ہوائی فائرنگ کے باعث سوگ میں بدل گئیں، جہاں شہر کے مختلف علاقوں میں جشن کے دوران فائرنگ کے واقعات میں ایک خاتون جاں بحق جبکہ 17 بچوں سمیت 94 افراد زخمی ہوگئے۔

ریسکیو حکام کے مطابق زخمیوں میں 59 مرد، 10 خواتین اور 17 بچے شامل ہیں۔ تمام زخمیوں کو طبی امداد کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر، سول اسپتال اور عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔

مختلف اسپتالوں میں 85 سے زائد افراد کا علاج

اسپتال انتظامیہ کے مطابق رات کے دوران مختلف اسپتالوں میں بڑی تعداد میں زخمیوں کو لایا گیا۔

عباسی شہید اسپتال میں 24 زخمیوں کو طبی امداد دی گئی، جن میں ایک خاتون، چار بچے اور 19 مرد شامل تھے۔

جناح اسپتال میں 35 افراد کو لایا گیا، جن میں تین بچے، چار خواتین اور 28 مرد شامل تھے۔

دوسری جانب سول اسپتال کے ٹراما سینٹر میں 26 زخمیوں کا علاج کیا گیا، جن میں 10 بچے، چار خواتین اور 12 مرد شامل تھے۔

کراچی کے مختلف علاقوں میں ہوائی فائرنگ

پولیس اور ریسکیو حکام کے مطابق ہوائی فائرنگ کے واقعات کراچی کے متعدد علاقوں سے رپورٹ ہوئے، جن میں لیاری، صدر، کورنگی، ملیر، عزیز آباد، نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد، گل بہار، گلشن اقبال، اورنگی ٹاؤن، جمشید کوارٹرز اور ڈیفنس شامل ہیں۔

فائرنگ کے واقعات کے بعد پولیس نے مختلف علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔

ہوائی فائرنگ میں ملوث 30 سے زائد مشتبہ افراد گرفتار

پولیس کے مطابق کراچی کے مشرقی، غربی اور وسطی اضلاع میں کارروائیوں کے دوران ہوائی فائرنگ میں مبینہ طور پر ملوث 30 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔

گرفتاریاں حیدری مارکیٹ، بلال کالونی، لیاقت آباد، نیو کراچی، تیموریہ، عزیز آباد، جوہر آباد اور گل بہار سمیت مختلف علاقوں میں کی گئیں۔

پولیس کے مطابق خواجہ اجمیر نگری، سمن آباد، رضویہ سوسائٹی اور سرسید تھانوں کی حدود میں بھی کارروائیاں کی گئیں اور گرفتار ملزمان کے قبضے سے مختلف اقسام کے ہتھیار برآمد کیے گئے۔

گلشن اقبال میں پولیس نے ایک سیکیورٹی گارڈ کو مبینہ ہوائی فائرنگ کے الزام میں گرفتار کرکے اس کے قبضے سے اسلحہ برآمد کیا۔ ایس ایس پی ویسٹ کے مطابق اورنگی ٹاؤن اور اقبال مارکیٹ سے بھی دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔

پاپوش نگر میں خاتون اتفاقی فائرنگ سے جاں بحق

پاپوش نگر کے صرافہ بازار میں ایک ہوٹل پر پیش آنے والے الگ واقعے میں ایک خاتون پستول چلنے سے جاں بحق ہوگئی۔

پولیس کے مطابق پستول میز پر رکھا ہوا تھا اور اس کے چیمبر میں گولی موجود تھی۔ اسلحہ سنبھالتے ہوئے مبینہ طور پر اچانک فائر ہوگیا، جس کے نتیجے میں خاتون گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگئی۔

خاتون کو فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکی۔

پولیس نے واقعے میں مبینہ طور پر ملوث شخص عمران کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے 9 ایم ایم پستول برآمد کرلیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار شخص مقتولہ کا کزن ہے۔

پولیس کی شہریوں کو ہوائی فائرنگ سے گریز کی ہدایت

حکام نے شہریوں کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ جشن کے دوران ہوائی فائرنگ انتہائی خطرناک اور جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ فضا میں چلائی جانے والی گولی واپس زمین پر آکر کسی بھی شخص کو شدید زخمی یا ہلاک کرسکتی ہے۔

کراچی میں یومِ آزادی کے موقع پر ہوائی فائرنگ کے باعث ماضی میں بھی متعدد افراد جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ 2025 میں ایسے واقعات میں 3 افراد جاں بحق اور کم از کم 75 زخمی ہوئے تھے، جبکہ 2024 میں یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران ہوائی فائرنگ سے تقریباً 95 افراد زخمی ہوئے تھے۔

حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ جشن آزادی کو ذمہ داری، امن اور محفوظ انداز میں منائیں اور کسی بھی قسم کی ہوائی فائرنگ سے مکمل طور پر گریز کریں۔

Latest Posts