زاد کشمیر: پاکستان سے اٹوٹ رشتہ اور قومی یکجہتی کی ضرورت
تحریر: شازیہ نواز
آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی اور بعض افسوسناک واقعات نے ہر محبِ وطن پاکستانی کو تشویش میں مبتلا کیا ہے۔ اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کا حصہ ہوتا ہے، لیکن جب اختلافات کو اس نہج پر لے جایا جائے جہاں قومی یکجہتی، امن اور استحکام متاثر ہونے لگے تو ہر باشعور شہری پر لازم ہے کہ وہ ذمہ داری اور تدبر کا مظاہرہ کرے۔
میری نظر میں آزاد کشمیر اور پاکستان کا تعلق صرف سرحدوں کا نہیں بلکہ ایمان، تاریخ، ثقافت، قربانیوں اور مشترکہ جدوجہد کا رشتہ ہے۔ پاکستان کے عوام کی ایک بڑی تعداد کشمیر کو اپنی قومی شناخت کا اہم حصہ سمجھتی ہے، اسی لیے “کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے” کا نعرہ پاکستانی قوم کے جذبات اور کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو آزاد کشمیر میں اختلافات کو ہوا دے کر انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ میری رائے میں اگر کوئی بیرونی طاقت یا اس کے حمایت یافتہ عناصر پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے یا اس مضبوط رشتے کو کمزور کرنے کا خواب دیکھتے ہیں تو وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ ان شاء اللہ ان کے مذموم عزائم ناکام ہوں گے، کیونکہ پاکستان کی ریاست، اس کے عوام اور سکیورٹی ادارے ملک کی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہمیشہ پرعزم رہے ہیں۔
ایک پاکستانی ہونے کے ناطے میرا ایمان ہے کہ کشمیری عوام کے ساتھ پاکستان کا تعلق وقتی سیاسی حالات سے بالاتر ہے۔ یہ رشتہ قربانی، اعتماد اور مشترکہ تاریخ سے جڑا ہوا ہے، اور اسے نفرت، پروپیگنڈے یا سازشوں کے ذریعے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ آزاد کشمیر کے تمام سیاسی و سماجی حلقے تحمل، قانون کی بالادستی اور مکالمے کو فروغ دیں تاکہ کسی کو بھی انتشار پھیلانے کا موقع نہ ملے۔ قومی اتحاد ہی وہ طاقت ہے جو ہر سازش کو ناکام بنا سکتی ہے۔
پاکستان زندہ باد، آزاد کشمیر پائندہ باد۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آزاد کشمیر کو امن، ترقی اور استحکام عطا فرمائے، پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان محبت اور بھائی چارے کے اس مضبوط رشتے کو ہمیشہ قائم رکھے، اور ہر اس قوت کو ناکامی عطا فرمائے جو اس خطے میں انتشار اور بدامنی پھیلانا چاہتی ہے۔ آمین۔



