Picture of Syed Sardar Muhammad Khondai

Syed Sardar Muhammad Khondai

کوئٹہ کاکنی کے کان میں دھماکا 15 لاشیں نکال لی گئی اور درجنوں افراد نکالنے کا ریسکیو کام جاری ہے

کوئٹہ( سید سردار محمد خوندئی )

بلوچستان کے ضلع کوئٹہ کے علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں ایک حادثے کے باعث پھنس جانے والے کانکنوں میں سے 15 کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
دیگر حکام اور مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کان میں حادثہ ایک زوردار دھماکے کی وجہ سے پیش آیا، جس کے باعث اس میں 30 سے زائد کانکن پھنس گئے۔
مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دھماکہ شدید ہونے کی وجہ سے کان کا ایک بڑا حصہ بیٹھ گیا ہے۔ بلوچستان کے وزیر مائنز میر شعیب نوشیروانی کا کہنا ہے کہ کوئلے کی کان بیٹھنے کے واقعے کے فوری بعد ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
’کان میں پیش آنے والا واقعہ بہت زیادہ شدید تھا‘
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ حادثہ ضلع کوئٹہ کے علاقے سورینج کی ایک کوئلہ کان میں پیش آیا۔ پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق اطلاع ملتے ہی اس کی ٹیمیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ کردی گئیں، جن میں چار ایمبولینسز بھی شامل ہیں ۔
سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ کان کے مالکان سے ان کی بات ہوئی، جنہوں نے بتایا کہ کان میں 37 سے زائد کانکن موجود تھے۔
سرکاری اہلکار نے دھماکے کی شدت اور ریسکیو کے جدید سہولیات کی فقدان کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔
بلوچستان کے وزیر معدنیات میر شعیب نوشیروانی نے اس واقعے کے حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر چیف انسپیکٹر آف مائنز اور پی ڈی ایم اے حکام جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کان میں پھنسے مزدوروں تک رسائی کے لیے ایگزاسٹ قائم کرنے اور ملبہ ہٹانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان ریسکیو آپریشن کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے، تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں
سورینج بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے مشرق میں تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ایک پہاڑی علاقہ ہے جہاں بڑی تعداد میں کوئلہ کانیں موجود ہیں۔
سورینج اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں ماضی میں بھی کوئلہ کانوں میں حادثات پیش آتے رہے ہیں۔
دیگر جدید صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کانکنی بلوچستان کی بڑی صنعت ہے۔ کوئلے کی کانیں زیادہ تر کوئٹہ، کچھی، ہرنائی اور دکی کے اضلاع میں موجود ہیں، جن سے بالواسطہ اور بلاواسطہ ہزاروں کانکن اس کا کو روزگار کا وسیلہ سمجھتے ہیں