کراچی: حکومت سندھ نے صوبے بھر کے سرکاری اور نجی اسکولوں میں ہفتہ وار ہفتہ (Saturday) کی تعطیل ختم کرتے ہوئے سندھ میں چھ روزہ تعلیمی ہفتہ دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نئی ہدایات کے مطابق یہ فیصلہ یکم اگست 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔
اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ محکمہ کے انتظامی دائرہ اختیار میں آنے والے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے پیر سے ہفتہ تک معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔ یہ حکم مزید احکامات تک نافذ رہے گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ ہفتہ وار تعطیلات سے متعلق محکمہ کے سابقہ احکامات کی جگہ نافذ کیا گیا ہے۔
تعلیمی تسلسل برقرار رکھنے کے لیے فیصلہ
حکومتی ذرائع کے مطابق سندھ میں چھ روزہ تعلیمی ہفتہ بحال کرنے کا مقصد تعلیمی سرگرمیوں میں تسلسل برقرار رکھنا، نصاب بروقت مکمل کرنا اور طلبہ کی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔
اس فیصلے کے بعد صوبے کے تمام سرکاری اور نجی اسکول اب ہفتے میں چھ دن تدریسی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔
اس سے قبل متعدد اساتذہ اور تعلیمی ماہرین نے بھی ہفتہ کی تعطیل ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ دو روزہ وقفہ طلبہ کی تعلیمی دلچسپی، کلاس روم میں حاضری، سیکھنے کی صلاحیت اور نصاب کی روانی کو متاثر کر رہا ہے۔
ماہرین تعلیم کا کہنا تھا کہ مسلسل تدریسی عمل طلبہ کی بہتر تعلیمی کارکردگی کے لیے ضروری ہے۔
دوسری جانب پنجاب میں گرمیوں کی تعطیلات بڑھانے پر غور
دوسری جانب حکومت پنجاب شدید مون سون بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گرمیوں کی تعطیلات میں توسیع پر غور کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) نے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو سفارش کی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں اسکول فوری طور پر نہ کھولے جائیں تاکہ طلبہ، اساتذہ اور دیگر عملے کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر سیلابی صورتحال برقرار رہی تو بعض متاثرہ اضلاع میں اسکول اگست کے وسط کے بعد بھی بند رہ سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر یکم ستمبر 2026 تک تعطیلات میں توسیع کی جا سکتی ہے۔
اس حوالے سے حتمی فیصلہ موسمی صورتحال اور سیلاب کے اثرات کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔
متاثرہ اسکولوں کا سروے بھی شروع
حکومت پنجاب نے متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ مون سون بارشوں سے متاثرہ اسکولوں اور سرکاری عمارتوں کا فوری سروے کیا جائے تاکہ انہیں محفوظ قرار دینے کے بعد ہی تدریسی سرگرمیاں دوبارہ شروع کی جا سکیں۔
یہ دونوں فیصلے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جہاں سندھ میں چھ روزہ تعلیمی ہفتہ بحال کر کے تعلیمی معیار بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہیں پنجاب میں حکومت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں طلبہ کی حفاظت کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔



