Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے تیسرے مرحلے کے انتخابات میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کو پونچھ ڈویژن کی چار میں سے دو نشستوں پر برتری حاصل ہے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) ایک نشست پر آگے ہے اور ایک نشست پر آزاد امیدوار نے بڑا اپ سیٹ کر دیا ہے۔

تیسرے مرحلے میں باغ اور حویلی اضلاع کے چار حلقوں میں پولنگ ہوئی، جس کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری رہا۔

باغ-2 میں پیپلز پارٹی کو برتری

LA-15 باغ-2 میں غیر سرکاری نتائج کے مطابق 213 میں سے 203 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج سامنے آنے تک پیپلز پارٹی کے امیدوار ضیا قمر 16,696 ووٹ لے کر آگے تھے۔

مسلم لیگ (ن) کے امیدوار محمد مشتاق احمد منہاس 15,099 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

دونوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا، جبکہ باقی پولنگ اسٹیشنز کے نتائج آنے کے بعد حتمی پوزیشن واضح ہوگی۔

مشرقی باغ میں مسلم لیگ (ن) آگے

LA-16 مشرقی باغ میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سردار میر اکبر خان نے پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار قمر زمان خان کے خلاف برتری حاصل کرلی۔

تیسرے مرحلے کے چار حلقوں میں یہ واحد نشست دکھائی دے رہی ہے جہاں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کے امکانات نمایاں ہیں۔

یہ نتیجہ مسلم لیگ (ن) کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ پارٹی پہلے ہی انتخابات کے ابتدائی دو مراحل میں نمایاں برتری حاصل کر چکی ہے۔

حویلی کہوٹہ میں اے جے کے وزیراعظم آگے

LA-17 حویلی کہوٹہ میں سخت مقابلہ جاری رہا، جہاں آزاد کشمیر کے موجودہ وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چوہدری محسن عزیز کے مقابلے میں برتری حاصل کیے ہوئے تھے۔

تاہم حلقے میں انتخابی نتائج اور دوبارہ گنتی کے معاملے پر سیاسی تنازع بھی سامنے آیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے کارکنان ریٹرننگ افسر کے دفتر کے باہر دھرنا دیے ہوئے ہیں اور ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مغربی باغ میں بڑا سیاسی اپ سیٹ

تیسرے مرحلے کا سب سے بڑا اپ سیٹ LA-14 مغربی باغ میں سامنے آیا، جہاں آزاد امیدوار سردار ساجد اقبال عباسی نے سابق وزیراعظم آزاد کشمیر اور مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان کو ان کے آبائی حلقے میں شکست دے دی۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق ساجد اقبال 40,702 ووٹ لے کر آگے رہے، جبکہ سردار عتیق احمد خان نے 19,542 ووٹ حاصل کیے۔

نتیجہ سابق وزیراعظم کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے اور اس سے آزاد امیدواروں کی پوزیشن بھی نمایاں ہوئی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کا دوبارہ گنتی کا مطالبہ

دریں اثنا، مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چوہدری محسن عزیز نے LA-17 باغ-4 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے لیے درخواست دی، تاہم دستیاب اطلاعات کے مطابق ریٹرننگ افسر نے درخواست مسترد کر دی۔

مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے ریٹرننگ افسر کے دفتر کے باہر احتجاج اور دھرنا جاری رکھا ہوا ہے۔

محسن عزیز کا کہنا ہے کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

پیپلز پارٹی نے دھاندلی کے الزامات عائد کر دیے

پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات کے نتائج مسترد کرتے ہوئے دھاندلی، انتخابی بے ضابطگیوں، پولنگ میں رکاوٹوں اور امن و امان کی صورتحال پر سوالات اٹھائے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی رہنماؤں پلوشہ خان، شہلا رضا اور شرمیلا فاروقی نے پریس کانفرنس میں انتخابات کے انعقاد پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور انتخابی شکایات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ انتخابی عمل سے متعلق سامنے آنے والی شکایات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ووٹرز کے مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے تمام اعتراضات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے بھی بعض حلقوں میں پولنگ کے آغاز میں تاخیر اور پارٹی کے پولنگ ایجنٹس کو مبینہ طور پر پولنگ اسٹیشنز میں داخل ہونے سے روکنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کا دھاندلی کے الزامات پر ردعمل

وزیراعظم کے مشیر اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے پیپلز پارٹی کے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے احتجاج کرنے والوں سے دھرنا ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی اپنی شکست کو دھاندلی کے بیانیے کے ذریعے چھپانے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے الزامات پہلے کے مقابلے میں “اتنے شدید نہیں” رہے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مظاہرین کے جائز مطالبات کا حکومت جائزہ لے گی، تاہم ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے یا دشمن کے آلہ کار بننے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

پہلے دو مراحل میں مسلم لیگ (ن) کو واضح برتری

اے جے کے انتخابات کے پہلے دو مراحل میں مسلم لیگ (ن) نے واضح برتری حاصل کی۔

پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر انتخابات ہوئے، جن میں مسلم لیگ (ن) نے نو نشستیں جبکہ پیپلز پارٹی نے چار نشستیں جیتیں۔

دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کی نو نشستوں اور مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں پر پولنگ ہوئی۔ اس مرحلے میں مسلم لیگ (ن) نے 15 جبکہ پیپلز پارٹی نے چھ نشستیں حاصل کیں۔

پہلے دو مراحل کے بعد مسلم لیگ (ن) کے پاس 24 نشستیں جبکہ پیپلز پارٹی کے پاس 10 نشستیں ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت بنانے کے لیے پارٹی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ رانا ثناء اللہ نے 8 اگست کو کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کو اے جے کے اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے مزید صرف چھ نشستوں کی ضرورت ہے۔

تاہم پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) کے حکومت بنانے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) یہ سمجھ کر غلطی کر رہی ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی۔

باقی حلقوں کے حتمی نتائج، دوبارہ گنتی کی درخواستوں اور انتخابی تنازعات کے فیصلوں کے بعد آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال مزید واضح ہوگی۔