ریورنڈ شاہد ایم پال کی امریکی کانگریس مین گریگوری جان اسٹینٹن سے اہم ملاقات
مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی، انسانی حقوق اور پاکستان۔امریکہ تعلقات کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال، عالمی امن اور باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار
فیصل آباد (میاں افتخار احمد) : ریورنڈ شاہد ایم پال ان دنوں امریکہ کے ایک اہم دورے پر ہیں، جہاں وہ مختلف مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں کے ذریعے بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی آزادی، باہمی تعاون اور پاکستان و امریکہ کے درمیان عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اپنے دورے کے دوران وہ مختلف تقریبات، ملاقاتوں اور تبادلۂ خیال کے سیشنز میں بھی شرکت کر رہے ہیں، جن کا مقصد مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان باہمی احترام، رواداری اور امن کے پیغام کو فروغ دینا ہے۔
اپنے مصروف دورۂ امریکہ کے دوران ریورنڈ شاہد ایم پال نے گزشتہ روز امریکی کانگریس کے رکن گریگوری جان اسٹینٹن سے خصوصی ملاقات کی۔ یہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے متعدد اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
گریگوری جان اسٹینٹن ریاست ایریزونا کے چوتھے کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن ہیں اور 2019 سے اس منصب پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ ایک ممتاز امریکی وکیل اور سیاست دان ہیں اور ڈیموکریٹک پارٹی سے وابستہ ہیں۔ عوامی خدمت، شہری ترقی، تعلیم، صحت اور کمیونٹی کے مسائل کے حل کے حوالے سے ان کی خدمات کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔
ملاقات کے دوران ریورنڈ شاہد ایم پال اور کانگریس مین گریگوری جان اسٹینٹن نے مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی، کمیونٹی کی شمولیت، انسانی حقوق کے تحفظ اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان باہمی احترام کو فروغ دینے کے موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان مکالمہ اور تعاون ہی پائیدار امن، برداشت اور عالمی استحکام کی بنیاد ہے۔
اس موقع پر پاکستان اور امریکہ کے دوطرفہ تعلقات، عوامی رابطوں کے فروغ اور دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، سماجی اور ثقافتی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ریورنڈ شاہد ایم پال نے پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مختلف حلقوں کی جانب سے کی جانے والی کاوشوں سے آگاہ کیا، جبکہ کانگریس مین گریگوری جان اسٹینٹن نے مذہبی آزادی، برداشت اور مختلف برادریوں کے درمیان تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں شخصیات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ایسے مثبت روابط اور تعمیری مکالمے کو جاری رکھا جائے گا، تاکہ مذہبی ہم آہنگی، عالمی امن اور پاکستان و امریکہ کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ ریورنڈ شاہد ایم پال کے دورۂ امریکہ کو بین الاقوامی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی تعاون کے فروغ کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔


