دریا کا سخی دل
تحریر:محمد محسن اقبال
آج 27 ستمبر کو دنیا عالمی یومِ دریا منارہی ہے۔ یہ دن ہمیں اُس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے جس سے ہم روزمرہ کی قربت کے باعث شاید غافل ہوچکے ہیں کہ دریا محض بہتا ہوا پانی نہیں، زندگی کی ایک ایسی علامت ہے جس کے بغیر انسانی تہذیب کا تصور بھی ادھورا ہے۔ آخر دریاؤں کے لیے ایک دن مخصوص کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اس لیے کہ دریا صرف پانی کی روانی نہیں ہوتے؛ وہ تہذیب کی رگیں، تاریخ کے خاموش گواہ، کھیتوں کی زندگی، توانائی کے سرچشمے اور اپنے گہرے مفہوم میں خود زندگی کا عکس ہوتے ہیں۔
قرآنِ حکیم بارہا پانی اور اُن دریاؤں کی طرف انسان کی توجہ مبذول کراتا ہے جو باغات اور سرسبز خطوں کے درمیان رواں دواں ہیں۔ پانی محض ایک مادی ضرورت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اُس کی قدرتِ تخلیق کی ایک روشن نشانی ہے۔ قرآن ہمیں بارش، مردہ زمین کے دوبارہ زندہ ہونے اور اُن دریاؤں میں غوروفکر کی دعوت دیتا ہے جو مخلوقات کی بقا کا وسیلہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی تہذیب کی پوری داستان دریاؤں سے جڑی ہوئی ہے۔ عظیم معاشرے دریاؤں کے کناروں پر آباد ہوئے، انہی کے پانی سے زمینیں سیراب کیں اور انہی کی بدولت اپنی خوش حالی کی بنیاد رکھی۔
پاکستان بھی اللہ تعالیٰ کی اُن نعمتوں سے مالا مال سرزمین ہے جسے دریاؤں کی دولت عطا ہوئی۔ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا—جہلم، چناب، راوی، ستلج اور دیگر—ہماری جغرافیائی شناخت، معیشت اور تہذیب کی تشکیل میں بنیادی کردار رکھتے ہیں۔ یہی دریا ہماری زمینوں کو سیراب کرتے ہیں، کسانوں کی محنت کو ثمر دیتے ہیں، مویشیوں کو پانی فراہم کرتے ہیں، شہروں کی ضروریات پوری کرتے ہیں، پن بجلی پیدا کرتے ہیں اور اُن ماحولیاتی نظاموں کو زندہ رکھتے ہیں جن پر لاکھوں انسانوں کا انحصار ہے۔ پاکستان کے لیے دریائے سندھ محض ایک دریا نہیں، قومی زندگی کی شہ رگ ہے۔
اسی لیے اس سال عالمی یومِ دریا ہمارے لیے ایک غیر معمولی معنویت رکھتا ہے۔ دریا سیاسی سرحدوں کو نہیں پہچانتا۔ اُس کے ہاتھ میں کوئی پاسپورٹ نہیں ہوتا، وہ کسی سرحدی چوکی پر نہیں رکتا اور نہ یہ پوچھتا ہے کہ جس سرزمین سے وہ گزر رہا ہے وہ کس ملک کی ملکیت ہے۔ پانی فطرت کے اُن قوانین کے مطابق بہتا ہے جو خالقِ کائنات نے مقرر کیے ہیں۔ انسان نقشوں پر لکیریں کھینچ سکتا ہے، مگر کسی دریا کے قدرتی بہاؤ اور پورے آبی نظام کی جغرافیائی حقیقت کو اپنی مرضی سے تبدیل نہیں کرسکتا؛ اور جب ایسا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے اثرات بھی صرف نقشوں تک محدود نہیں رہتے۔
سندھ طاس معاہدہ 1960ء بھی اسی حقیقت کے ادراک کا نتیجہ تھا۔ کئی برس کی مشکل گفت و شنید کے بعد، عالمی بینک کی معاونت سے پاکستان اور بھارت نے دریائے سندھ کے آبی نظام کے پانی کی تقسیم کے لیے ایک باقاعدہ فریم ورک طے کیا۔ معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں—راوی، بیاس اور ستلج—کو بھارت جبکہ مغربی دریاؤں—سندھ، جہلم اور چناب—کو پاکستان کے لیے مختص کیا گیا، جبکہ باہمی تعاون، معلومات کے تبادلے اور اختلافات و تنازعات کے حل کے لیے بھی واضح طریقۂ کار وضع کیا گیا۔
چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان جنگوں، بحرانوں اور غیر معمولی کشیدگی کے باوجود قائم رہا۔ اس کی بقا نے ایک اہم حقیقت ثابت کی کہ حتیٰ کہ شدید اختلاف رکھنے والی ریاستیں بھی یہ تسلیم کرسکتی ہیں کہ زندگی کی بعض بنیادی ضروریات کو سیاسی محاذ آرائی سے بالاتر رہنا چاہیے۔
مگر اپریل 2025ء میں اس اصول کو ایک سنگین آزمائش کا سامنا ہوا، جب بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر التوا میں رکھنے کا اعلان کیا۔ پاکستان نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے میں یک طرفہ طور پر اس کی معطلی کی کوئی گنجائش نہیں اور یہ معاہدہ بدستور قانونی طور پر نافذ ہے، جبکہ آبی اختلافات کے لیے اس میں موجود طے شدہ طریقۂ کار ہی اختیار کیا جانا چاہیے۔
دونوں ممالک کے درمیان سیاسی مؤقف خواہ کچھ بھی ہوں، ایک اصول بہرحال اختلاف سے بالاتر ہونا چاہیے: پانی کو کبھی ایسا ذریعہ نہیں بننا چاہیے جس کے ذریعے لاکھوں انسانوں کی زندگی اور روزگار کو سیاسی مصلحتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔
پاکستان کے لیے دریائے سندھ کے پانی کے بارے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی محض سفارتی یا سیاسی مسئلہ نہیں۔ اس کا تعلق اُس کسان سے ہے جو اپنی فصل کے لیے پانی کا منتظر ہے؛ اُس خاندان سے ہے جو مناسب قیمت پر خوراک کا محتاج ہے؛ اُس مزدور سے ہے جس کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے؛ اُن صنعتوں سے ہے جنہیں پانی کی مسلسل فراہمی درکار ہے؛ اور اُن آبادیوں سے ہے جو پن بجلی اور دریائی ماحولیاتی نظام پر انحصار کرتی ہیں۔ زیریں علاقوں میں آباد لوگوں اور ریاستوں کے مفادات کو محض اس لیے غیر یقینی کے حوالے نہیں کیا جاسکتا کہ سیاسی تعلقات میں تلخی پیدا ہوگئی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے اس دور میں یہ خطرہ اور بھی سنگین ہوجاتا ہے۔ دریائے سندھ کا طاس پہلے ہی سیلاب، خشک سالی، بارشوں کے بدلتے ہوئے انداز، گلیشیئرز سے متعلق خطرات اور پانی کے قدرتی بہاؤ میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا کررہا ہے۔ ایسے ماحول میں جنوبی ایشیا کو کم نہیں بلکہ زیادہ تعاون کی ضرورت ہے؛ معلومات کے تبادلے میں کمی نہیں بلکہ وسعت درکار ہے؛ سیلاب کی پیشگی اطلاع کے مضبوط نظام چاہییں، نہ کہ سیاسی بے یقینی؛ اور پہلے سے موجود معاہداتی نظام کو کمزور کرنے کے بجائے اسے مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
سندھ طاس معاہدہ خود معلومات کے تبادلے اور سوالات، اختلافات اور تنازعات کے حل کے لیے باقاعدہ طریقۂ کار فراہم کرتا ہے۔ ایسے نظام اُس وقت سب سے زیادہ اہم ہوتے ہیں جب باہمی اعتماد کمزور ہو۔ بین الاقوامی معاہدوں کی اصل آزمائش اُس وقت نہیں ہوتی جب تعلقات خوش گوار ہوں؛ اُن کی حقیقی قدر اُس وقت سامنے آتی ہے جب تعلقات کشیدہ ہوں۔
عالمی یومِ دریا کا پیغام محض ماحولیاتی شعور تک محدود نہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دریا انسانی تاریخ کی ایک وسیع تر داستان کا حصہ ہیں۔ وہ ہمارے تنازعات سے کہیں قدیم ہیں اور، ان شاء اللہ، ہماری سیاسی کشمکش کے بعد بھی بہتے رہیں گے۔ دریاؤں کو آلودہ کرنا، اُن کے قدرتی نظام کو تباہ کرنا، اُن کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنا یا اُنہیں سیاسی دباؤ کا وسیلہ بنانا بالآخر انسان ہی کو نقصان پہنچانا ہے۔
دریائے سندھ نے سلطنتوں کے عروج و زوال دیکھے ہیں۔ اُس نے بستیوں کو جنم لیتے، شہر آباد ہوتے اور نسلوں کو محنت کرتے دیکھا ہے۔ اُس کے پانی نے لاکھوں انسانوں کی امیدوں، دعاؤں اور فصلوں کو اپنے ساتھ بہایا ہے۔ اب اس کے پانی کو امن کا پیامبر بھی رہنا چاہیے۔
پاکستان کو اپنی آبی سلامتی کے تحفظ اور اپنے معاہداتی حقوق کے احترام پر اصرار کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ تاہم مشترکہ دریا کا دیرپا حل مستقل محاذ آرائی نہیں ہوسکتا۔ اس کا راستہ ذمہ دارانہ بالائی آبی انتظام، زیریں علاقوں کے مفادات کا تحفظ، شفاف معلومات کا تبادلہ، سائنسی تعاون اور بین الاقوامی معاہداتی ذمہ داریوں کا احترام ہے۔
دریا فطرتاً سخی ہوتا ہے۔ وہ یہ پوچھے بغیر دیتا ہے کہ کون امیر ہے اور کون غریب، کون طاقتور ہے اور کون کمزور۔ شاید انسانیت کا فرض یہی ہے کہ وہ دریا کی اس سخاوت سے کچھ سیکھے۔
عالمی یومِ دریا پر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب دریا محفوظ ہوتے ہیں تو معاشرے مضبوط ہوتے ہیں؛ جب دریاؤں کو ذمہ داری کے ساتھ بانٹا جاتا ہے تو قوموں کے درمیان تعاون کی ایک نئی راہ نکلتی ہے؛ لیکن جب دریاؤں کو دباؤ اور سیاسی قوت کے آلے میں تبدیل کردیا جاتا ہے تو بے یقینی دریا کے کنارے سے اٹھ کر کھیتوں، گھروں اور پوری نسلوں کے مستقبل تک پہنچ جاتی ہے۔
دریائے سندھ کو زندگی کا دریا ہی رہنا چاہیے، سیاست کا ہتھیار نہیں۔ اس کے پانی کو کھیتوں کو سیراب کرنا چاہیے، بجلی پیدا کرنی چاہیے، ماحولیاتی نظام کو زندہ رکھنا چاہیے اور آنے والی نسلوں کو زندگی کا تحفہ دینا چاہیے۔ پاکستان کے لیے دریائے سندھ کا تحفظ محض ماحولیاتی ذمہ داری نہیں؛ یہ زراعت، معیشت، غذائی تحفظ، قومی استقامت اور انسانی بقا کا سوال ہے۔
اور شاید عالمی یومِ دریا کا سب سے گہرا پیغام یہی ہے
پانی زندگی ہے، دریا تہذیب ہیں، اور مشترکہ پانیوں کی ذمہ دارانہ حفاظت صرف ریاستوں ہی کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا فرض ہے۔
