کیلیفورنیا: فیراری کی پہلی مکمل الیکٹرک کار لوس (Luce) نے امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں ہونے والی چیریٹی نیلامی میں 4 کروڑ ڈالر (تقریباً 29.5 ملین پاؤنڈ) میں فروخت ہو کر نئی تاریخ رقم کردی ہے۔ یہ کسی نئی گاڑی کی نیلامی میں فروخت ہونے والی اب تک کی سب سے مہنگی گاڑی قرار دی جارہی ہے۔
آر ایم سوتھبیز کی جانب سے منعقد کی گئی نیلامی میں فیراری لوس کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم عام طور پر اس ماڈل کی متوقع قیمت سے 35 گنا سے بھی زیادہ رہی۔ نیلام گھر کے مطابق فروخت ہونے والی گاڑی پہلا پروڈکشن چیسس ہے، جس میں منفرد فنش اور خصوصی طور پر تیار کیے گئے مختلف پرزے شامل ہیں۔
نیلامی سے حاصل ہونے والی تمام رقم فیراری فاؤنڈیشن کے تعلیمی پروگرامز کے لیے عطیہ کی جائے گی۔ سوتھبیز نے گاڑی خریدنے والے شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی، جبکہ فیراری اور نیلام گھر سے مزید تفصیلات کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔
فیراری لوس کو رواں سال مئی میں متعارف کرایا گیا تھا اور اس کی رونمائی کو حالیہ برسوں میں نئی گاڑیوں کی سب سے بڑی لانچز میں شمار کیا گیا۔ یہ ماڈل فیراری کے لیے ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے کیونکہ کمپنی نے پہلی مرتبہ مکمل طور پر بیٹری سے چلنے والی گاڑی کے ساتھ الیکٹرک وہیکل مارکیٹ میں قدم رکھا ہے۔
لوس کی تیاری میں معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو نے بھی کردار ادا کیا، جو آئی فون کے ڈیزائن سے وابستہ رہنے کے باعث عالمی سطح پر شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی شمولیت نے فیراری کی نئی الیکٹرک گاڑی کو مزید توجہ کا مرکز بنا دیا۔
تاہم گاڑی کی رونمائی کے بعد اسے فیراری کے بعض روایتی مداحوں اور مبصرین کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ بیٹری سے چلنے والی اور پانچ نشستوں پر مشتمل گاڑی فیراری کے روایتی ڈیزائن اور اسپورٹس کار کی شناخت سے مختلف ہے۔
اس کے باوجود 4 کروڑ ڈالر کی ریکارڈ فروخت نے ثابت کردیا ہے کہ فیراری کے الیکٹرک مستقبل میں عالمی سطح پر غیر معمولی دلچسپی موجود ہے۔ کمپنی ایک ایسی مارکیٹ میں داخل ہوئی ہے جہاں ٹیسلا اور چین کی بڑی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں پہلے ہی مضبوط مقام بنا چکی ہیں۔
فیراری طویل عرصے سے اپنی اعلیٰ کارکردگی، اطالوی ڈیزائن اور طاقتور انجنوں کے لیے مشہور رہی ہے۔ لوس کی آمد کمپنی کی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، کیونکہ دنیا بھر میں آٹو موبائل صنعت تیزی سے الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقل ہورہی ہے۔
فیراری کی نئی گاڑی کو دیکھنے کے لیے اطالوی صدر سرجیو ماتاریلا اور پوپ لیو سمیت اہم شخصیات کو بھی مدعو کیا گیا تھا، جس سے اس ماڈل کی عالمی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
فیراری لوس کی ریکارڈ نیلامی نے اسے صرف کمپنی کی پہلی الیکٹرک گاڑی ہی نہیں بلکہ آٹوموبائل تاریخ میں ایک نمایاں مقام بھی دے دیا ہے۔ چیریٹی کے لیے ہونے والی اس فروخت نے تعلیم کے شعبے میں اہم مالی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ فیراری کے برقی مستقبل کو بھی عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

