کوئٹہ (سید سردار محمد خوندئی): بلوچستان ہائیکورٹ نے صوبے میں اساتذہ کے تبادلوں سے متعلق اہم حکم جاری کر دیا۔ عدالت نے محکمہ تعلیم کو ہدایت کی ہے کہ یونین کونسل اور ضلعی بنیاد پر بھرتی ہونے والے ان اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کے تبادلوں کا جائزہ لیا جائے جو اپنی اصل تعیناتی سے کوئٹہ منتقل ہو چکے ہیں۔
دو رکنی بینچ نے ڈائریکٹر اسکولز محکمہ تعلیم کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔ بینچ میں چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل شامل تھے۔
درخواست گزار خیر محمد شاہین نے مؤقف اختیار کیا کہ مقامی بنیادوں پر ہونے والی بھرتیوں کا مقصد دور دراز علاقوں کے اسکولوں میں اساتذہ کی دستیابی یقینی بنانا ہے۔ تاہم، بعض ملازمین تقرری کے بعد اپنا تبادلہ کوئٹہ کروا لیتے ہیں۔
درخواست کے مطابق اس عمل سے پسماندہ اضلاع کے اسکولوں میں اساتذہ کی کمی پیدا ہوتی ہے۔ اس سے مقامی طلبہ بھی متاثر ہوتے ہیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ انفرادی مقدمات میں منظور شدہ عدالتی احکامات کے علاوہ دیگر تبادلوں کا جائزہ لیا جائے اور متعلقہ ملازمین کو ان کی اصل تعیناتیوں پر واپس بھیجا جائے۔
اس فیصلے سے چمن، قلعہ عبداللہ، لورالائی، ژوب اور گوادر جیسے دور دراز علاقوں میں تعلیمی سہولیات بہتر بنانے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
