ہندوستانی فلمی موسیقی کی تاریخ اور سنیما کا سفر ایک طویل اور دلچسپ داستان 

میاں افتخاراحمد

سال 1902 سے لے کر اب تک کی ہندوستانی فلمی موسیقی اور سنیما کی تاریخ ایک طویل اور دلچسپ داستان ہے جس کا آغاز انیسویں صدی کے آخر میں ہوا جب ہندوستان میں آواز کی ریکارڈنگ کا تصور بھی نایاب تھا۔ بھارت میں گانوں کی ریکارڈنگ کا باقاعدہ آغاز 1902 میں ہوا جب گراموفون کمپنی کے ریکارڈنگ انجینئر فریڈرک ولیم گیسلبرگ ریکارڈنگ مشین لے کر کلکتہ آئے اور نومبر 1902 میں بھارت کی پہلی ریکارڈنگ مکمل کی۔ پہلی ریکارڈنگ 8 نومبر 1902 کو عمل میں آئی اور یہ سوشی مکھی نامی ایک چودہ سالہ رقاصہ کی تھی جو انڈین سرزمین پر ریکارڈ ہونے والی پہلی انڈین فنکار بنیں۔ اگلے دن مشہور گلوکارہ گوہرجان نے بھی اپنی پہلی ریکارڈنگ کی جنہیں بعد میں ہندوستانی گراموفون انڈسٹری کی پہلی مشہور فنکارہ کہا گیا اور انہوں نے تقریباً چھ سو گانے ریکارڈ کیے اور دس سے زیادہ زبانوں میں گایا۔ تاہم اگرچہ خود بھارت میں پہلی ریکارڈنگ 1902 میں ہوئی لیکن بھارتی زبانوں کے کچھ گانے اس سے پہلے 1899 میں انگلینڈ میں ریکارڈ کیے گئے تھے اور اسی لیے کچھ ذرائع ریکارڈنگ کی تاریخ کا آغاز 1899 سے بتاتے ہیں لیکن بھارت کی سرزمین پر پہلی ریکارڈنگ کا سال 1902 ہی ہے۔ 1899 سے 1902 کے درمیان انگلینڈ میں ہندوستانی گانوں کی ریکارڈنگ کے بارے میں تاریخی ریکارڈ بہت محدود ہیں اور فی الوقت تصدیق شدہ معلومات بنیادی طور پر 1899 میں لندن میں گراموفون کمپنی کے اسٹوڈیو میں ریکارڈ کی گئیں جو سب سے ابتدائی تصدیق شدہ ہندوستانی آواز کی ریکارڈنگ ہے۔ ان ریکارڈنگز میں حصہ لینے والوں میں بنیادی طور پر کچھ ہندوستانی شامل تھے جو اس وقت لندن میں مقیم تھے جن کے مخصوص پس منظر کے بارے میں فی الوقت تفصیلی معلومات دستیاب نہیں ہیں اور ان میں ڈاکٹر ہرنام داس شامل تھے جنہوں نے تقریباً دس گانے گائے جن میں سے زیادہ تر رامائن سے لے گئے تھے اور کیپٹن بھولاناتھ نے رام منڈل اوپیرا کے دو حصے ریکارڈ کیے،  حضرت نے غالب کے تین اشعار کی ریکارڈنگ کروائی  اور احمد نے سب سے زیادہ ریکارڈ ریکارڈ کیے جن میں قرآن کی آیات اور فارسی شاعری جیسے ظہیر فریابی اور فردوسی اور حافظ اور گراموفون کے بارے میں تقریر شامل ہے۔ موجودہ تاریخی ریکارڈز میں مخصوص موسیقاروں یا گیت لکھنے والوں کی معلومات شامل نہیں ہیں اور 1899 کے مئی کے کیٹلاگ کے مطابق ریکارڈ شدہ رپورٹوائر میں ہندی اور اردو اور فارسی اور گورمکھی اور عربی شامل تھے جن میں رامائن کے اقتباسات اور سکھوں کی عبادتیں اور غالب کے اشعار وغیرہ شامل تھے لیکن بدقسمتی سے ان ابتدائی ریکارڈنگز کی فزیکل کاپیاں آج تک نہیں ملیں اس لیے گانوں کی مخصوص تفصیلات کی مزید تصدیق نہیں ہو سکتی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 1899 میں لندن میں ریکارڈ کیے گئے انڈین گانے آج تک نہیں ملے اور ان تمام ریکارڈنگز کی اصلی ٹیپ یا ریکارڈ گم ہو چکے ہیں لہذا گانے کے مخصوص ناموں کی تصدیق نہیں کی جا سکتی اور صرف 1899 کے مئی کے گراموفون کمپنی کے کیٹلاگ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کس قسم کے مواد ریکارڈ کیے گئے تھے جس کے مطابق اس وقت ریکارڈ کیے گئے مواد کی اقسام میں ہندو مذہبی تلاوتیں کل پندرہ تھیں جن میں سے زیادہ تر رامائن کے اقتباسات تھے اور سکھ مناجات دو تھے جو گرو نانک کی مناجات تھیں اور اردو نظمیں اور تقاریر کل پانچ تھیں جن میں مرزا غالب کے اشعار بھی شامل تھے نیز ایک گراموفون کے تعارف پر تقریر تھی اور عربی تلاوتیں دو تھیں جن میں ایک قرآن کی تلاوت تھی اور اس کے علاوہ اس کیٹلاگ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت کے گلوکاروں نے فارسی اور ہندی اور اردو میں گایا یا تلاوت کی تھی۔ 1899 سے 1902 کے درمیان کے عرصے میں انڈین گانوں کی ریکارڈنگ دو اہم مراحل میں ہوئی ایک لندن میں 1899 کی ریکارڈنگ اور دوسری کلکتہ میں 1902 کی ریکارڈنگ تاہم دونوں مراحل کے فنکاروں اور گانوں اور موسیقاروں کی مکمل تفصیلات تلاش کرنا مشکل ہے خاص طور پر 1899 کے ریکارڈ شدہ مواد کا کوئی نسخہ آج تک نہیں ملا۔ 1947

سے 1970 تک کا دور ہندوستانی فلمی موسیقی کا سنہری دور کہلاتا ہے اور اس عرصے میں فلمیں آزادی کے بعد کے جذبات اور رومانویت اور جدیدیت کی عکاسی کرتی رہیں اور گلوکاروں اور موسیقاروں اور گیت کاروں کی ایسی تثلیث ابھری جس نے آنے والی نسلوں کے لیے معیار قائم کر دیا۔ اس دور کے نمایاں ترین پلے بیک گلوکاروں میں لتا منگیشکر شامل تھیں جو اس دور کی سب سے نمایاں خواتین گلوکارہ تھیں جن کی آواز نے فلمی موسیقی پر گہرے اثرات مرتب کیے اور محمد رفیع شامل تھے جو 1950 سے 1969 تک ہر بڑے اداکار کی آواز تھے اور کشور کمار شامل تھے جو اداکار اور گلوکار دونوں حیثیتوں میں کامیاب رہے اور 1969 کی فلم آرادھنا کے بعد وہ محمد رفیع سے زیادہ مقبول ہو گئے اور مکیش شامل تھے جو راج کپور کی فلموں کی آواز تھے اور منا ڈے شامل تھے جو کلاسیکی موسیقی میں مہارت رکھتے تھے اور طلعت محمود شامل تھے جو نرم اور دلی کشش والی آواز کے مالک تھے اور گیتا دت شامل تھیں جو ایس ڈی برمن کی دریافت کردہ گلوکارہ تھیں اور آشا بھوسلے شامل تھیں جنہوں نے او پی نائر کے ساتھ مل کر کئی مقبول گانے دیے اور شمشاد بیگم شامل تھیں جو 1950 کی دہائی کی مقبول گلوکارہ تھیں خاص طور پر نوشاد کے ساتھ اور مبارک بیگم شامل تھیں جنہوں نے دیوداس 1955 اور مادھومتی 1958 جیسی فلموں میں گایا۔ اس دور کے موسیقاروں میں شنکر جے کشن شامل تھے جو 1949 سے 1971 تک بالی ووڈ پر راج کرنے والی جوڑی تھی جس نے راج کپور کی فلموں کے لیے لازوال موسیقی دی اور نوشاد شامل تھے جو کلاسیکی راگوں پر مبنی موسیقی کے لیے مشہور تھے جنہوں نے بیجو باورا 1952 جیسی فلموں میں محمد رفیع کو متعارف کرایا اور او پی نائر شامل تھے جو اپنی منفرد تال اور جدید آواز کے لیے جانے جاتے تھے جنہیں آل انڈیا ریڈیو نے حد سے زیادہ ٹرینڈی کہہ کر پابندی لگا دی تھی اور ایس ڈی برمن شامل تھے جو گیتا دت اور ہیمنت کمار جیسے گلوکاروں کو متعارف کرانے والے موسیقار تھے اور مدن موہن شامل تھے جو اپنی غزلوں کے لیے مشہور تھے خاص طور پر لتا منگیشکر کے ساتھ ان کی جوڑی بہت کامیاب رہی اور سی رام چندر شامل تھے جو 1942 سے فعال تھے جنہوں نے کشور کمار کے لیے کئی مزاحیہ گانے کمپوز کیے اور سلیل چودھری شامل تھے جنہوں نے کشور کمار اور شیلندر جیسے فنکاروں کے ساتھ کام کیا۔ اس دور کے گیت کاروں میں شیلندر شامل تھے جنہوں نے شنکر جے کشن کے ساتھ راج کپور کی فلموں کے گیت لکھے جن میں شری 420 1955 کے میرا جوتا ہے جاپانی شامل ہیں اور حسرت جے پوری شامل تھے جو راج کپور کے دوسرے اہم گیت کار تھے جنہیں کنگ آف رومانس کہا جاتا تھا اور ساحر لدھیانوی شامل تھے جو ترقی پسند نظریات کے حامل گیت کار تھے جنہوں نے اپنی شاعری میں سماجی مسائل کو نمایاں کیا اور کیفی اعظمی شامل تھے جو ساحر کی طرح ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے جنہوں نے کاغذ کے پھول جیسی فلموں کے گیت لکھے اور مجروح سلطان پوری شامل تھے جو طویل کیریئر کے مالک تھے جنہوں نے آر پار 1954 سے لے کر یادوں کی بارات 1973 تک کئی کامیاب گیت لکھے اور راجندر کرشن شامل تھے جو منفرد تشبیہات اور استعاروں کے لیے مشہور تھے اور ایس ایچ بہاری شامل تھے جنہوں نے او پی نائر کے ساتھ مل کر کئی کامیاب گانے دیے۔ اس دور کی ایک خاص بات گلوکار اداکار کی جوڑی تھی محمد رفیع کی آواز دیو آنند اور دلیپ کمار اور شمی کپور اور گرو دت جیسے اداکاروں کے ساتھ جڑ گئی تھی جبکہ مکیش کی آواز راج کپور کی پہچان بن گئی۔ 1970 کے بعد سے اب تک ہندوستانی فلمی موسیقی کا سفر کئی اہم مرحلوں سے گزرا ہے پہلے 1970 اور 1980 کی دہائی کا سنہری دور جس میں محمد رفیع اور کشور کمار اور لتا منگیشکر جیسے گلوکاروں نے راج کیا پھر 1990 کی دہائی کا رومانوی دور جس میں نصرت فتح علی خان اور الکا یاگنک اور کمار سانو کا غلبہ رہا اور آخر میں 2000 کے بعد سے ہم عصر دور جس میں اے آر رحمان اور سونو نگم اور شریا گھوشال اور ارجیت سنگھ جیسے فنکاروں نے نئی جہتیں متعارف کروائیں۔ 1970 کی دہائی میں محمد رفیع نے کچھ تو لوگ کہیں گے اور ہم ہیں رہی پیار کے جیسے لازوال گانے گائے اور کشور کمار کا ستارہ چمکا انہوں نے شعلے 1975 کے یہ دوستی اور ڈان 1978 کے کھائیکے پان بنارسی جیسے گانے گائے اور لتا منگیشکر اس دہائی میں بھی خواتین پلے بیک سنگرز میں سب سے آگے رہیں اور آشا بھوسلے کی مقبولیت کارواں 1971 اور ہر رام ہر کرشنا 1971 جیسی فلموں کے گانوں سے بڑھی۔ 1980 کی دہائی میں الکا یاگنک ابھریں اور جلد ہی اپنی سریلی آواز سے لاکھوں دلوں پر راج کرنے لگیں اور انورادھا ھا پوڈوال 1973 سے فعال تھیں لیکن 1980 کی دہائی میں منھ اشیکی 1990 جیسی فلموں سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچیں اور سریش واڈکر ایک مقبول مرد گلوکار تھے۔ 1990 کی دہائی میں کمار سانو سب سے کامیاب گلوکار بنے انہوں نے عاشقی 1990 کے گانوں سے شہرت پائی اور انہوں نے چوبیس گھنٹوں میں سب سے زیادہ گانے ریکارڈ کرنے کا گنیز ورلڈ ریکارڈ بھی بنایا اور ادت نارائن قیمت سے قیمت تک 1988 کے گانوں سے مقبول ہوئے اور 1990 کی دہائی میں کمار سانو کے ساتھ ان کا مقابلہ رہا اور سونو نگم 1990 کی دہائی کے آخر میں ابھرے ان کی شہرت بے وفاصنم 1995 سے ہوئی اور اوشا اوتھپ 1980 کی دہائی میں رامبا ہو جیسے گانوں سے مقبول ہوئیں اور متھن چکرورتی 1990 کی دہائی کے ایک مقبول مرد گلوکار تھے۔ 2000 سے اب تک شریا گھوشال 2000 کی دہائی کی سب سے کامیاب خواتین گلوکارہ رہیں جنہیں نائٹنگل آف انڈیا کہا جاتا ہے اور ارجیت سنگھ 2010 کے بعد سے ہندی فلموں کے سب سے مقبول گلوکار ہیں ان کے گانے تم ہی ہو اور چنا میرے یا بہت مشہور ہوئے اور شنکرمہادیون نے شریا گھوشال اور دیگر کے ساتھ مل کر کئی ہٹ گانے دیے اور سکھ وندر سنگھ نے بھی کئی مقبول گانے گائے اورنیہا ککڑ حالیہ برسوں کی ایک مقبول گلوکارہ ہیں۔ 1970 کی دہائی کے موسیقاروں میں آر ڈی برمن اس دہائی کے سب سے تجربہ کار موسیقار تھے جنہوں نے کارواں 1971 جیسی فلموں میں نئی آوازیں متعارف کروائیں اور لکشمی کانت پیارے لال 1970 اور 80 کی دہائی کے سب سے کامیاب موسیقار جوڑیوں میں سے ایک تھے جنہوں نے بوبی 1973 اور ستم شیوم سندرم 1974 جیسی فلموں کے گانے کمپوز کیے اور کلیان جی آنند جی نے پورب اور پچھم 1970 اور شور 1972 جیسی فلموں کے گانے کمپوز کیے اور سلیل چودھری نے آنند 1971 کے گانے کمپوز کیے جس میں مینے تیرے لیے ہی سات رنگ کے سپنے چنے شامل ہے اور مدن موہن نے ہیر رانجھا 1970 جیسے گانے کمپوز کیے۔ 1980 کی دہائی میں بپی لہری کا راج تھا جس کی شروعات ڈسکو ڈانسر 1982 سے ہوئی اور شیو ہری ابھرے اور انو ملک 1980 کی دہائی کے آخر میں ابھرے۔ 1990 کی دہائی میں نصرت فتح علی خان نے مٹی کی مالا 1993 اور اور دیوانہ 1997 جیسی فلموں کے گانے کمپوز کیے اور جتن للت نے دل والے دلہنیا لے جائیں گے 1995 اور کچھ کچھ ہوتا ہے 1998 جیسی فلموں کے گانے کمپوز کیے اور الکایاگنک نے بھی کمپوزنگ کی اور ندیم شراون 1990 کی دہائی کے سب سے کامیاب موسیقار جوڑیوں میں سے ایک تھے جنہوں نے آشیکی 1990 کے گانے کمپوز کیے۔ 2000 سے اب تک اے آر رحمان عالمی شہرت یافتہ موسیقار ہیں جنہوں نے لگان 2001 اور سلم ڈاگ ملینیئر 2008 کے گانے کمپوز کیے اور پریتم نے دل والے 2015 اور براہمستر 2022 جیسی فلموں کے گانے کمپوز کیے اور امیت تریویدی نے دیو ڈی 2009 اور کوئین 2013 جیسی فلموں کے گانے کمپوز کیے اور وشال شیکھر نے کئی کامیاب فلموں کے گانے کمپوز کیے اور سلیم سلیمان نے بھی کئی مقبول گانے کمپوز کیے۔ 1970 سے اب تک کے گیت کاروں میں گلزار شامل ہیں جنہیں سب سے زیادہ فلم فیئر ایوارڈز تیرہ بار ملے جنہوں نے آنند 1971 کے گانے لکھے اور جاوید اختر شامل ہیں جنہوں نے آٹھ بار فلم فیئر ایوارڈ جیتا جنہوں نے لگان 2001 کے گانے لکھے اور آنند بخشی شامل ہیں جنہیں اکتالیس بار نامزدگی ملی جنہوں نے شعلے 1975 کے گانے لکھے اور سمیر شامل ہیں جنہوں نے پانچ ہزار سے زیادہ فلمی گانے لکھے جن میں آشیکی 1990 کے گانے شامل ہیں اور پرسون جوشی شامل ہیں جنہوں نے رنگ دے بسنتی 2006 اور بھاگ ملکھا بھاگ 2013 کے گانے لکھے اور ارشاد کامل شامل ہیں جنہیں عصر حاضر کے سب سے کامیاب گیت کاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ 1902 سے اب تک کی تمام فلموں کی مکمل فہرست بنانا ممکن نہیں لیکن کچھ اہم اور مشہور فلموں کی تفصیلات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مختلف ادوار میں کس طرح کے فنکاروں نے کام کیا۔ 1940 کی دہائی کی اہم فلموں میں قسمت 1943 شامل ہے جس کے ہیرو اشوک کمار اور ہیروئن ممتاز شانتی تھیں اور یہ بمبئی ٹاکیز کی پروڈکشن تھی اور ہدایتکار گیان مکھرجی تھے اور یہ فلم ایک بلاک بسٹر تھی اور اسے ہندوستانی سنیما کی پہلی کلاسک تھرلر فلم سمجھا جاتا ہے اور اس کا مشہور گانا آج ہمالیہ کی چوٹی سے پھر ہم نے للکارا ہے کوی پردیپ کا تھا اور انمول گھڑی 1946 شامل ہے جس کے ہیرو سریندر اور ہیروئن نور جہاں اور سوریا تھیں اور یہ محبوب پروڈکشنز کی پروڈکشن تھی اور یہ اس سال کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم تھی اور اس کی کہانی ایک محبت کی کہانی تھی جو ایک غریب لڑکے اور امیر لڑکی کے گرد گھومتی ہے اور بسنت 1942 شامل ہے جس کے ہیرو ممتاز شانتی اور الواس تھے اور اس فلم میں مادھوبالا نے بچپن میں پہلی بار اسکرین پر کام کیا تھا اور اس کے موسیقار پنالال گھوش تھے اور یہ اس وقت کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم تھی۔ 1950 اور 1960 کی دہائی میں آوارہ 1951 شامل ہے جس کے ہیرو راج کپور اور ہیروئن نرگس اور ولن پران تھے اور یہ آر کے فلمز کی پروڈکشن تھی اور کہانی خواجہ احمد عباس نے لکھی تھی اور اس کے مشہور گانے آوارہ ہوں اور گھر آیا مہمان تھے اور شری 420 1955 شامل ہے جس کے ہیرو راج کپور اور ہیروئن نرگس تھیں اور یہ آر کے فلمز کی پروڈکشن تھی اور کہانی خواجہ احمد عباس کی تھی اور اس کے مشہور گانے میرا جوتا ہے جاپانی اور پیار ہوا اقرار ہوا تھے اور گمراہ 1963 شامل ہے جس کے ہیرو سنیل دت اور ہیروئن مالا سنہا تھیں اور اس کے موسیقار روی تھے اور اس کا مشہور گانا چلو ایک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں ساحر لدھیانوی کا تھا۔ 1970 کی دہائی میں شعلے 1975 شامل ہے جس کے ہیرو دھرمیندر اور امیتابھ بچن اور ہیروئن ہیما مالنی اور ولن سنجیو کمار گببار سنگھ تھے اور کہانی سلیم جاوید نے لکھی اور جی پی سپی نے پروڈیوس کیا اور اس کے مشہور گانے یہ دوستی اور مہنگائی ڈے ڈے بڑھے تھے اور دیوار 1975 شامل ہے جس کے ہیرو امیتابھ بچن اور ششی کپور اور ولن پران تھے اور کہانی سلیم جاوید کی تھی۔ 1980 سے اب تک مغربی دور میں 1980 کی دہائی میں ڈسکو میوزک کا راج آیا جس کی نمائندگی بپی لہری کرتے تھے اور 1990 کی دہائی میں اے آر رحمان نے فلمی موسیقی میں انقلاب برپا کیا اور اہم فلموں میں 2000 کی دہائی میں کہو نا پیار ہے اور کبھی خوشی کبھی غم اور لگان اور دھوم 2 شامل ہیں اور 2010 کی دہائی میں دبنگ اور تھری ایڈیٹس اور دنگل اور کوئین جیسی خواتین مرکوز فلمیں شامل ہیں۔ اس مختصر جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ پروڈکشن ہاؤسز میں بمبئی ٹاکیز اور محبوب پروڈکشنز اور آر کے فلمز نے کئی یادگار فلمیں دیں اور کہانی کاروں میں خواجہ احمد عباس اور سلیم جاوید جیسے لکھاریوں نے فلموں کو مضبوط بنیاد فراہم کی اور موسیقی میں ہر دور کے اپنے موسیقار اور گلوکار تھے جنہوں نے فلموں کو لازوال بنایا۔ اب پاکستان کے سنیما کی بات کریں تو پاکستان 14 اگست 1947 کو آزاد ہوا اور اس وقت لاہور واحد شہر تھا جہاں فلم سازی کی روایت باقی تھی لیکن تقسیم کے بعد فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے لاہور کے تمام فلم اسٹوڈیوز سوائے پنچولی اسٹوڈیوز کے جزوی یا مکمل طور پر جل گئے تھے اور زیادہ تر غیر مسلم فنکار اور ٹیکنیشن بمبئی ہجرت کر گئے تھے اور ایسی صورتحال میں لاہور میں فلم سازی جاری رکھنا مشکل لگ رہا تھا لیکن بمبئی سے لاہور آنے والے فنکاروں اور پروڈیوسروں اور ہدایت کاروں نے لاہور میں فلم سازی دوبارہ شروع کرنے میں مدد کی اور ایک سال سے بھی کم عرصے میں تیری یاد کے نام سے ایک فلم 7 اگست 1948 کو نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد 1948 میں ریلیز ہوئی جس کے ہدایت کار شیخ لطیف تھے اور اس میں جہانگیر اور نجمہ اور آشا پوسلے نے اداکاری کی اور موسیقی عنایت علی ناتھ نے کمپوز کی اور گلوکار منور سلطانہ اور آشا پوسلے اور علی بخش ظہور تھے ۔ اس فلم کے گیت قتیل شفائی نے لکھے تھے اور یہیں سے ان کے نغمہ نگاری کا آغاز ہوا ۔ 1949 میں پہلی پنجابی فلم پھرے ریلیز ہوئی جس کے ہدایت کار نذیر احمد خان تھے اور اس میں سورن لتا اور ایم اسماعیل اور نذر اور زینت نے اداکاری کی اور موسیقی غلام احمد چشتی نے کمپوز کی اور گلوکار منور سلطانہ اور عنایت حسین بھٹی تھے ۔ اسی سال دو آنسو بنی جو 1950 میں ریلیز ہوئی اور یہ پاکستان کی پہلی فلم تھی جس نے سلور جوبلی منائی اور اس کے ہدایت کار انور کمال پاشا تھے اور اس میں سنتوش کمار اور صبیحہ خانم اور ایم اجمل اور علاؤالدین نے اداکاری کی اور موسیقی مبارک علی نے کمپوز کی ۔ 1950 میں بے قرار ریلیز ہوئی جس کے ہدایت کار نذیر اجمری تھے اور اس میں رگنی اور ایس گل اور شمی اور ارشاد بیگم نے اداکاری کی اور موسیقی غلام حیدر نے کمپوز کی اور گیت ارش لکھنوی اور طفیل ہوشیارپوری نے لکھے ۔ 1951 میں چن وے ریلیز ہوئی جس کی ہدایت کاری نور جہاں نے خود کی اور یہ ان کی پہلی ہدایت کاری تھی اور اس میں نور جہاں اور غلام محمد اور سنتوش کمار نے اداکاری کی اور موسیقی فیروز نظامی نے کمپوز کی اور مشہور گانا منڈیاں سیالکوٹیا نور جہاں نے گایا ۔ 1952 میں دوپٹہ ریلیز ہوئی جس کے پروڈیوسر اسلم لوڈھی اور ہدایت کار ایس فضلی تھے اور اس میں نور جہاں اور اجے کمار اور سدھیر اور یاسمین نے اداکاری کی اور اس کے لازوال گانے بات ہی بات میں اور چاندنی راتیں تھے ۔ 1953 میں گلنار ریلیز ہوئی جس میں نور جہاں اور سنتوش کمار اور ظریف اور شاہ نواز نے اداکاری کی اور موسیقی غلام حیدر نے کمپوز کی اور گانے نور جہاں نے گائے جن میں اے رات ذرا تھم تھم کے گزر اور بچپن کی یاد گرو شامل ہیں ۔ ان ابتدائی برسوں میں قتیل شفائی نے تیری یاد اور انار کلی اور انتظار اور کوئل اور جھومر اور نائلہ اور گلنار اور گمنام جیسی فلموں کے لیے یادگار گانے لکھے اور انہیں 1994 میں صدراتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا ۔ مسرور انور نے بنجارن اور شرارت اور بدنام کے گیت لکھے اور پھر وحید مراد اور پرویز ملک اور سہیل رانا کی ٹیم کا حصہ بن گئے جن کے ساتھ انہیں ہیرا اور پتھر اور ارمان اور احسان اور دوراہا کے نغمات لکھنے کا موقع ملا ۔ موسیقار سہیل رانا نے دوراہا اور احسان اور شہنائی اور روتھا نہ کرو جیسی فلموں کی موسیقی ترتیب دی ۔ خواجہ خورشید انور نے 227 فلموں کی موسیقی ترتیب دی اور ان کی مشہور فلموں میں انتظار اور گھونگٹ اور چنگاری اور ہم راز اور مرزا جٹ اور شیریں فرہاد شامل ہیں ۔ 1960 کی دہائی میں 1965 میں جب واہگہ بارڈر کے اس طرف بھارتی فلموں کی نمائش روک دی گئی تو ریلیز ہونے والی پاکستانی فلموں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا اور 1970 کی دہائی میں یہ تعداد سو سے تجاوز کر گئی۔ 1975 میں آرزو ریلیز ہوئی جس میں محمد علی اور زیبا اور بابرہ شریف نے اداکاری کی اور موسیقی ایم اشرف نے کمپوز کی اور گانے جیون بھر ساتھ نبھائیں ہم دونوں اور ترستا ہے یہ دل تجھے پیار کر لوں اور میرے ہمدم تجھے پا کر قرار آیا ہے مقبول ہوئے ۔ اسی سال زینت ریلیز ہوئی جس میں شبنم اور شاہد اور طالش نے اداکاری کی اور موسیقی نوشاد نے کمپوز کی اور اس کا مشہور گانا رفتہ رفتہ وہ میری ہستی کا سامان ہو گئے مہدی حسن نے گایا ۔ 1983 میں دہلیز ریلیز ہوئی جس کے پروڈیوسر مسعود قریشی اور ہدایت کار جاوید فاضل تھے اور اس میں ندیم اور شبنم نے اداکاری کی اور اسے سات نگار ایوارڈ ملے ۔ اسی سال لو اسٹوری ریلیز ہوئی جس کے ہدایت کار نذر الاسلام تھے اور اس میں فیصل الرحمٰن اور لیلیٰ اور طالش اور ننھا نے اداکاری کی اور موسیقی ایم اشرف نے کمپوز کی اور گانے ساتھ چلیں ہم دونوں اور نیلی نیلی آنکھیں دوہرائیں افسانہ اور لیلیٰ لیلیٰ تو ہی بتا کیا کروں مقبول ہوئے ۔ اسی سال کبھی الوداع نہ کہنا ریلیز ہوئی جس کے پروڈیوسر اور ہدایت کار ظفر شباب تھے اور اس میں شبنم اور جاوید شیخ اور ثبیتا اورمحمد رفیع خاور (ننھا) نے اداکاری کی اور موسیقی امجد بوبی نے کمپوز کی اور گانے میرا پیار بھی تو زندگی بھی ہے تو اور ہم تو کہیں گے چپ نہ رہیں گے اور آیا ہوں میں تجھ کو لینے اور اپنی سانسوں میں تجھ کو بسا لوں گی مقبول ہوئے ۔ 1991 میں واحد کامیاب اردو فلم وطن کے رکھوالے تھی جس کے ہدایت کار حسنین تھے اور اس میں ندیم اور سلطان راہی اور اظہار قاضی اور نادرہ نے اداکاری کی اور گیت حبیب جالب اور جاوید راہی نے لکھے اور موسیقی نذیر علی نے کمپوز کی اور گانے جیون کا ہر ایک پل تیرے نام لگا دوں گی اور آنکھیں ملیں نیندیں اڑیں ہمیرا چنا نے گائے ۔ 1992 میں مسٹر 420 واحد کامیاب اردو فلم تھی جس کے پروڈیوسر پرویز کیف تھے اور ہدایت کار اور اداکار عمر شریف تھے اور اس میں مدیحہ شاہ اور روبی نیازی اور عابد علی نے اداکاری کی اور موسیقی ایم اشرف نے کمپوز کی اور گانے سوہنا لگتا ہے من موہنا لگتا ہے اور اوئے ہوئے ہوئے آنکھوں کی گلیوں میں ہونٹوں کی کلیوں میں ترنم ناز نے گائے ۔ 2001 میں کھوئے ہو تم کہاں ریلیز ہوئی جس کے ہدایت کار اجب گل تھے اور اس میں میرا اور بابر علی اور دیبا اور نغمہ نے اداکاری کی اور موسیقی زین نے کمپوز کی اور اسے دس نگار ایوارڈ ملے جن میں بہترین فلم اور بہترین ہدایت کار اور بہترین اداکارہ اور بہترین اداکار اور بہترین موسیقار شامل ہیں ۔ 2013 میں زندگی بھاگ اور وار ریلیز ہوئیں اور زندگی بھاگ پاکستان کی پہلی فلم تھی جو آسکر کے لیے نامزد ہوئی اور وار نے 300 ملین روپے سے زائد کمائے ۔ 2014 میں نہ معلوم افراڈ اور 021 اور دختر ریلیز ہوئیں اور نہ معلوم افراد میں جواد شیخ اور فہد مصطفیٰ اور محسن عباس حیدر نے اداکاری کی اور یہ کامیڈی فلم باکس آفس پر کامیاب رہی ۔سال 2015ء فلموں کی تیاری اور ریلیز کے حوالے سے پچھلے چند برسوں کی نسبت کچھ بہتر رہا۔ 2015ء میں 23 پاکستانی فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں گڈ مارننگ کراچی، جلیبی، ٹیچر، انصاف، گجر پورے دناں دا، تین بہادر، ضدی مٹیار، رانگ نمبر، بازار، بن روئے، گناہگار، رضیہ پھنس گئی غنڈوں میں، کراچی سے لاہور، مور، دیکھ مگر پیار سے، شاہ، باغی کمانڈو، منٹو، ہلہ گلہ، جوانی پھر نہیں آنی، سوارنگی، سوہنا گجر اور صنم ہیں۔ مذکورہ 23 فلموں میں سے بن روئے، ہلہ گلہ، جوانی پھر نہیں آنی۔ دیکھ مگر پیار سے، منٹو، رانگ نمبر، مور اور کراچی سے لاہور معیاری فلمیں تھیں جو لوگوں نے پسند کیں۔ فلم بن روئے پاکستان کے علاوہ بھارت، امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ملکوں میں ریلیز ہوئی۔ اداکار ہمایوں سعید کی دو فلمیں بن روئے اور جوانی پھر نہیں آنی سپر ہٹ ہوئیں۔ فلموں کی کامیابی سے فلمسازی کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا اور اس وقت متعدد نئی فلمیں بن رہی ہیں جن میں فلمساز و ڈائریکٹر سنگیتا کی تم ہی تو ہو، فلمساز اعجاز کامران کی بلائنڈ لو، ہدایت کار نور کی عشق پوزیٹو، اداکار معمر رانا کی بطور ہدایت کار فلم سکندر، ہدایت کار پرویز کلیم کی شوٹ ہارٹ شامل ہیں۔ 2015ء میں بھارت کی 50 کے قریب فلمیں ریلیز ہوئیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی عائد تھی ۔ 2016 میں ایکٹر ان لاء ریلیز ہوئی جس کے ہدایت کار نبیل قریشی تھے اور اس میں فہد مصطفیٰ اور مہوش حیات نے اداکاری کی اور یہ بہت کامیاب رہی ۔ 2017 میں پنجاب نہیں جاؤں گی اور نہ معلوم افراڈ 2 اور یلغار ریلیز ہوئیں اور پنجاب نہیں جاؤں گی بہت کامیاب رہی ۔ 2018 میں جوانی پھر نہیں آنی 2 اور پرواز ہے جنون اور طیفا ان ٹربل ریلیز ہوئیں اور طیفا ان ٹربل میں علی ظفر اور ماہرہ خان نے اداکاری کی ۔ 2022 میں دی لیجنڈ آف مولا جٹ ریلیز ہوئی جس کے ہدایت کار بلال لاشاری تھے اور اس میں فواد خان اور ہمایوں سعید اور ماہرہ خان اور حمزہ علی عباسی نے اداکاری کی اور یہ پاکستان کی سب سے زیادہ کمانے والی فلم بنی اور اس نے 396 کروڑ روپے کمائے ۔ اسی سال لندن نہیں جاؤں گا اور قائد اعظم زندہ باد اور گبرانا نہیں ہے ریلیز ہوئیں ۔ 2023 میں منی بیک گارنٹی اور تیری میری کہانیاں اور سپر پنجابی اور ہوئے تم اجنبی ریلیز ہوئیں اور منی بیک گارنٹی سب سے زیادہ کمانے والی فلم تھی جس نے 39 کروڑ روپے کمائے ۔ 2024 میں عمر و عیار اور دغا باز دل اور مستانی اور نابالغ افراد اور کٹر کراچی اور ٹکسالی گیٹ اور لیچ اور گلاس ورکر اور نایاب اور پوپے کی ویڈنگ ریلیز ہوئیں اور عمر و عیار سب سے زیادہ کمانے والی فلم تھی جس نے 13.90 کروڑ روپے کمائے ۔ 2025 میں لو گرو اور دیمک اور نیلوفر اور ویلکم ٹو پنجاب ریلیز ہوئیں اور لو گرو نے 8.2 ارب روپے کمائے اور مولا جٹ کا ریکارڈ توڑ دیا اور دیمک پاکستان کی پہلی ہارر فلم بنی جس نے 2.1 ارب روپے کمائے اور نیلوفر نے 1.5 ارب روپے کمائے ۔ 2026 میں عید الفطر پر آگ لگے بستی میں اور بُلّہ اور دہلی گیٹ ریلیز ہو رہی ہیں اور آگ لگے بستی میں میں فہد مصطفیٰ اور ماہرہ خان اور جاوید شیخ اور طابش ہاشمی ہیں اور بُلّہ میں شان شاہد اور مونا لیزا اور سلیم شیخ ہیں اور دہلی گیٹ میں یاسر خان اور شمون عباسی اور جاوید شیخ اور روما مائیکل ہیں ۔ اس کے علاوہ لَو گرو اور نیلوفر اور دی لیجنڈ آف مولا جٹ کا ٹیلی ویژن پریمیئر بھی عید پر ہو رہا ہے ۔ اس پوری تاریخ سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کے سنیما نے اپنے اپنے سفر میں اتار چڑھاؤ دیکھے اور دونوں کے فنکاروں اور موسیقاروں اور گیت کاروں نے ایک دوسرے سے سیکھا اور ایک دوسرے کو متاثر کیا اور تقسیم کے باوجود دونوں کے سنیما کے درمیان ایک گہرا رشتہ ہمیشہ قائم رہا۔

Related posts

Leave a Comment